UrduPoint Sports

كھیل >> نیا اضافہ

اعجازوسیم باکھری:
قسمت بالآخر پاکستان ہاکی ٹیم پر مہربان ہوہی گئی۔ 1994ء کا ورلڈکپ جیتنے کے بعد پاکستانی قوم کو ہربار، ہرایونٹ پر یہ انتظارہی رہا کہ اُن کی ٹیم چیمپئن بن کر لوٹے، مگر ہرمرتبہ مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا اور انتظار طویل سے طویل ترہوتا چلا گیا جس کا اختتام 16سال بعد ایشین گیمز میں جاکر ہوا جہاں فائنل میں پاکستان نے ملائیشیا کو 2-0سے شکست دیکر اگلے چارسال کیلئے ایشین ہاکی کے بادشاہ بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ یوں تو پاکستان کو94ء کے ورلڈکپ کے بعد یہ پہلی بڑی کامیابی نصیب ہوئیں تاہم ایشین گیمز میں پاکستان پاکستان نے 20سال بعد ہاکی میں گولڈ میڈل حاصل کیا جوکہ ایک قابل تحسین کارنامہ ہے۔ گزشتہ 16سال سے ٹیم پراس طرح کی کامیابی ادھار چلی آرہی تھی اور ہربار قوم سے کیا گیا وعدہ پورا نہ ہوسکا جس سے شائقین ہاکی ٹیم سے مایوس ہونے لگے اور پاکستان میں ہاکی کا شوق بھی ماندپڑنے لگا اور موجودہ دور میں ایسا بھی پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ ورلڈکپ میں شریک بارہ ٹیموں میں سے پاکستان 12ویں نمبرپر آیا تاہم اس کے باوجود ٹیم نے ہمت نہ ہاری اور اپنی تمام ترتوجہ ایشین گیمز کے گولڈ میڈل پر مرکوزرکھی اور فیڈریشن کو بھی اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ٹیم کی بہتر تیاری کیلئے ہالینڈ سے دنیائے ہاکی کا مہنگا ترین کوچ طلب کیا گیا اور مشعل وین ڈیم نے بھی اپنی ذمہ داری کا پورا پورا حق ادا کرکے پاکستان کو گولڈ میڈل جتوایا۔ملائیشیا کیخلاف کھیلا گیا فائنل ایک سخت اوردلچسپ مقابلہ تھا جس میں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کیا لیکن پاکستان کو چند سینئر کھلاڑیوں کی وجہ سے حریف پر برتری حاصل تھی اور اُن سینئرز ریحان بٹ اور سہیل عباس نے گول سکور کرکے ثابت کردیا کہ تجربہ کا کوئی نعم البدل نہیں اور دونوں نے اپنے بارہ سالہ کیرئیر میں پہلی بڑی کامیابی حاصل کرکے نہ صرف خود کو امر کیا بلکہ اپنے ملک کی عزت و توقیر میں اضافے کا سبب بھی بنے۔ پاکستان کی جیت میں گول کیپر سلمان اکبر کی خدمات کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاکستان نے گزشتہ دن اگر فائنل کھیلا اور جیتا تو یہ سب سلمان اکبر کے مرہون منت ہے کہ اس نے کیرئیر میں پہلی بار اس قدر شاندار کھیل پیش کیا کہ پاکستانی ٹیم اُس کی بہترین گول کیپنگ کی وجہ سے چین سے سرخرو ہوکر وطن واپس لوٹ رہی ہے۔
ایشین گیمز میں گولڈ حاصل کرنے کے ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے 2012ء لندن اولمپکس ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے، گوکہ ایشین گیمزکا ٹائٹل ورلڈکپ ، اولمپکس اور چیمپئنزٹرافی کے مقابلے میں کم اہمیت کا حامل ٹورنامنٹ ہے لیکن پاکستانی ٹیم کیلئے یہ کامیابی اس لیے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ہاکی پر برے دن آنے کی وجہ سے پاکستان جو1990ء تک یہ ٹائٹل سات مرتبہ جیت چکا تھا اب 20سال بیت جانے کے بعد یہ اعزاز دوبارہ حاصل کررہا ہے تو پاکستان کیلئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے تاہم ٹیم اور فیڈریشن کو اس پر ہی اکتفا نہیں کرناچاہئے ابھی بھی پاکستانی ٹیم کی یہ حالت ہے کہ ہمیں ورلڈکپ اور چیمپنئزٹرافی کیلئے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ہے لہذا فیڈریشن کو ابھی سے حکمت عملی تیار کرنی چاہئے تاکہ ٹیم فتوحات کے سلسلے کو برقرار رکھ سکے۔
اپنے پانچ سال صحافتی کیرئیر میں میں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے دفتر میں پہلی بار ڈھول کی تھاپ پر رقص اور مٹھائی تقسیم ہوتے ہوئے دیکھی۔یقینا فیڈریشن اور ٹیم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ملک میں سیاسی ، اقتصادی ، امن وامان کی صورتحال ، توانائی کے بحران ، قدرتی آفات اور دیگر مسائل کے باعث افسردہ قوم کوگولڈ میڈل کی خوشی فراہم کرکے کچھ وقت کیلئے نسلی ، علاقائی ، گروہی ، لسانی اور مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر جشن میں منانے کا موقع فراہم کیا۔فائنل میچ کے اختتام ہوتے ہی پوری قوم میں خوشی کی انوکھی لہر دوڑگئی۔لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارک دیتے رہے ۔موبائل فون پر مبارک باد کے ایس ایم ایس کا سلسلہ بھی زوروں پر رہا ، نہ صرف پاکستان بلکہ امریکا ، برطانیہ اور یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں نے بھی ٹیم کی کامیابی کا جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔کراچی اور دیگر شہروں میں آبادسیلاب متاثرین نے بھی اس خوشی کو بھر پور طریقے سے منایا۔صدر اور وزیراعظم کی جانب سے ٹیم کو جیت پر خصوصی مبارکباد دی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے گولڈ میڈل جیتنے پر پور ی ٹیم کو 50لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کردیا گیا ہے ٹیم کی واپسی پر کھلاڑیوں کو وزیراعظم ہاؤس میں عشائیہ دیا جائیگا جبکہ وطن واپسی پر استقبال کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔پاکستان کا ایشین گیمز میں ریکارڈ قابل تحسین ہے ، اس ایونٹ کے آغاز سے ہی قومی ٹیم نے اپنی بالادستی قائم کر لی تھی۔ 1958 اور1962 میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر گولڈ میڈلز حاصل کیے تاہم 1966 میں بھارت نے کامیابی حاصل کی ۔ اس کے بعد 1970،74، 78 اور82 میں مسلسل چار بار بھارت کو مات دے کر یہ ٹائٹل اپنے سینے پر سجایا۔1986 میں کوریا سے فائنل میں شکست کھائی لیکن 1990 میں فتح کا حقدار پھر پاکستان ہی ٹھہرا تاہم اس کے بعد پاکستانی ٹیم سے جیسے فتح روٹھ ہی گئی ہو لیکن 20سال کے بعد آخر کار پاکستان نے ٹائٹل جیت کر نہ صرف ناکامیوں کے سلسلے روک دیا بلکہ ہاکی شائقین کے چہروں پر مسکراہٹ بھی بکھیر دی ۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.