UrduPoint Sports

كھیل >> نیا اضافہ

اعجازوسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ بورڈ کے انداز بھی نرالے ہیں ایک طرف کھلاڑیوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب یوسف اور یونس پر غصہ اپنی جگہ قائم ہے اور شاید اعجازبٹ کے ہوتے ہوئے یہ غصہ جنون میں تو تبدیل ہوسکتا ہے لیکن شفقت میں نہیں بدل سکتا۔ شاہد آفریدی کی پھرتیوں سے تنگ آکر موصوف کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے برطرف کرنے کے اگلے روز سلمان بٹ کو قومی ٹیم کا نیا ٹیسٹ کپتان مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے لیکن دوسری جانب اعجازبٹ کے غضب کے شکار ہونے والے یوسف اور یونس ایک بار پھر قسمت کی ستم ظریفی کا شکار ہوکر دوبارہ سائیڈ لائن پر بٹھا دئیے گئے ہیں۔ سلمان بٹ بطور ٹیسٹ ٹیم کا کپتان کامیاب قائد ثابت ہوگا یا نہیں یہ فیصلہ تو آنے والے چند ہفتوں میں ہوجائیگا لیکن یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے کہ جب شعیب ملک جیسے ”کینسر“کوٹیم میں دوبارہ لے لیا جاتا ہے تو یوسف اور یونس کا گناہ کیا معافی کے قابل نہیں ؟۔ چلیں یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں کہ یوسف اور یونس نے گروپ بندی کی اور ایک دوسرے کیخلاف حلف دئیے اور لیے، لیکن کیا شعیب ملک ان چیزوں میں ملوث نہیں تھا ؟ اگر شعیب ملک ٹیم میں واپس آسکتا ہے اور اُسے معصوم قرار دیکر معافی دی جاسکتی ہے تو یوسف اوریونس کو کیوں معاف نہیں کیا جارہا ؟ حالانکہ لارڈز ٹیسٹ میں ثابت ہوگیا کہ پاکستان ناتجربہ کاری کی وجہ سے بری طرح پٹ گیا لیکن اس کے باوجود بٹ صاحب اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ اصول صرف یوسف اوریونس پر کیوں لاگو ہوتے ہیں شعیب ملک کو کس وجہ سے معاف کیا گیا؟۔آج ٹیم دیوار کے ساتھ لگ گئی ہے ۔ آسٹریلیا نے بری طرح ٹیم کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے لیکن اس تمام تباہی اور بربادی کے باوجود اعجازبٹ کو نہ تو ٹیم کا مفادنظر آیا اور نہ ہی اُنہیں اس بات کا ادارک ہوا کہ یوسف اور یونس کی ٹیم کو ضرورت ہے۔
ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں جب کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا میں ہونیوالے واقعات کے پیش نظر تمام کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی تو ہم نے بورڈ کے اس فیصلے کو سپورٹ کیا تھا کیونکہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار کرکٹ بورڈ نے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ہم سب کیلئے یہ بات کسی مذاق اور لطیفے سے کم نہیں تھی کہ بورڈ نے چند ہفتے بعد اپنے اصولوں سے انحراف کرلیا۔ اگر کرکٹ بورڈ نے یہ محسوس کیا کہ سینئر کھلاڑی ٹیم کو دوگروپ میں تقسیم کرکے چلا رہے ہیں تو پابندی بجا طور پردرست تھیں لیکن شعیب ملک جس کی سفارش ایک سینئر وزیر اور ایک بڑے سیاستدان کے بیٹوں نے کردی تو بورڈ نے اُسے فوراً سے پہلے ٹیم میں شامل کرلیا لیکن یوسف اوریونس کو تاحال نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اگر کرکٹ بورڈ نے اصولوں پر چلنا ہے اور بورڈ انتظامیہ کو پاکستان کرکٹ کا مستقبل عزیز ہے تو تمام کھلاڑیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھیں۔اگر شعیب ملک جیسا کھلاڑی جس کے بارے میں اعجازبٹ نے خود فرمایا تھا کہ وہ ٹیم کیلئے ”کینسر“کی حیثیت رکھتا ہے تو پھراُس کینسر کو ٹیم میں بھی دوبارہ شامل کیوں کیا؟ کرکٹ بورڈ کا یہی دوہرا معیار اورکھلاڑیوں کیساتھ ساتھ الگ الگ ڈیلنگ نے پاکستان کرکٹ کو دیوار کیساتھ لگا دیا ہے۔ اگر صورتحال اسی طرح برقرار ہی تو حالات موجودگی صورتحال سے بھی مزید ابترہوجائینگے۔
آسٹریلیا کیخلاف آخری اور اگست کے ماہ میں انگلینڈکیخلاف ہونیوالے چارٹیسٹ میچز کیلئے کرکٹ بورڈ نے سلمان بٹ کو کپتان اور کامران اکمل کو ان کا نائب مقرر کردیا ہے حالانکہ یہ فیصلہ ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے سے پہلے کرلینا چاہئے تھا لیکن پی سی بی کا یہ ہمیشہ سے ہی خاصہ رہا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا ازالہ اس وقت کرتا ہے جب پانی سرسے گزر چکا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے نالاں ہیں کہ شاہد آفریدی کو دوسرے ٹیسٹ میں کپتانی کا موقع فراہم کرنا چاہئے تھا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آفریدی ٹیسٹ ٹیم میں کپتانی تو درکنار کھیلنے کا بھی اہل نہیں جس کا اعتراف اُس نے خود گزشتہ روز لارڈز میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اردوپوائنٹ کے بہت سے قارئین کا خیال ہے کہ میں شاہدآفریدی کو ذاتیات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بناتا ہوں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔شاہد آفریدی ہمیشہ سے میرے فیورٹ بیٹسمین اور لیگ سپنر رہے ہیں لیکن بطور کپتان آفریدی نہ صرف مجھے بلکہ بہت سوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہے۔آسٹریلیا کیخلاف حالیہ دو ٹونٹی ٹونٹی میچوں میں آفریدی نے قدرے بہتر انداز میں کپتانی کی جس کی ہم سب نے تعریف کی۔ ذرائع ابلاغ میں کھیل واحد ایسا شعبہ ہے جس میں ماضی کی بجائے حال کی کارکردگی کی کو مدنظر رکھ کر لکھا جاتا ہے۔ ٹیم ہار جائے تو اُس کا ماضی کا ریکارڈ دیکھ کر تعریف نہیں کی جاتی۔اگر ایسی صورتحال ہوتی تو اٹلی گزشتہ فٹبال ورلڈکپ کا چیمپئن تھا اور اس بار وہ پہلے راؤنڈ سے باہر ہوئے تو کیا اٹالین پریس نے اپنی ٹیم کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے اُن کی موجودگی کارکردگی کو نظرانداز کردیا ؟ کھیلوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ٹیم جیت رہی ہوتی ہے تو اُس کی گراؤنڈ میں بھی تعریف ہوتی ہے اور باہر بھی اور اگر ٹیم برا کھیل رہی ہوتو شائقین وقت سے پہلے ہی گراؤنڈ چھوڑ دیتے ہیں۔ لہذا شاہد آفریدی ایک اچھا بیٹسمین اور عمدہ لیگ سپنر تو ہمیشہ سے رہا ہے لیکن بطور کپتان وہ تاحال اپنی قیادت سے متاثر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لارڈز ٹیسٹ کے بعد آفریدی نے جس طرح راہ فرار اختیار کی ایک کپتان کو ایسی حرکت زیب نہیں دیتی لیکن اس کے باوجود کرکٹ بورڈ نے آفریدی کو ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی ٹیم کی قیادت پر برقرار رکھ کے جارح مزاج بیٹسمین کو ایک اورموقع دیا ہے اور ہم سب آفریدی کیلئے دعاگوہیں کہ وہ مستقبل میں ایسی حرکت سے گریز کریگا۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.