لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے اس فائنل مقابلے میں بھارت کی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ویسٹ انڈیزکی ٹیم کو 43رنز سے ہرا کر ورلڈ چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیایوں ویسٹ انڈیز کا مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
کپتان کلائیولائیڈ کا ٹاس جیت کر پہلے بھارت کو کھلانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور پوری ٹیم 54.4اوورز میں 183رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ سری کانت نے 38سندیپ پاٹل نے 27اور مہندر امرناتھ نے 26رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے رابرٹس نے 3جبکہ مارشل ہولڈنگ اور گونر نے 2-2وکٹ حاصل کئے ویسٹ انڈیزجسے میچ جیتنے کیلئے مقررہ 60اوورز میں 184رنز درکارتھے کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کودیکھتے ہوئے خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز یہ میچ با آسانی جیت لے گی مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا بھارت کے بولروں نے بڑی جارحانہ بولنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیزکی مضبوط ترین ٹیم کوجس میں گرینج، ہینز، رچرڈز، لائیڈ، گونر اور بیکس جیسے نامورکھلاڑی شامل تھے صرف 140 رنز پر آؤٹ کرکے شائقین اورناقدین کو چونکا دیا رچرڈز نے 33اور ڈوجون نے 25رنز بنائے بھارت کی طرف سے مدن لال اور امرناتھ نے 3-3جبکہ ساندھو نے 2وکٹ حاصل کئے مہندر امرناتھ کو ان کی شاندار آل راؤنڈرکارکردگی کی بنا پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
ایم سی سی کے صدر سر انتھونی ٹیوک سے جب کیپل دیو نے کپ وصول کیا توبھارت کے حامیوں کا جوش و خروش اپنی انتہا پر تھا۔ بلا شبہ یہ دن بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں یادگار حیثیت کا حامل تھا۔