اعجاز وسیم باکھری:
ابھی پاکستان کرکٹ ورلڈکپ میں شکست اور باب وولمر کی موت کے صدمے سے باہر نہیںآ ئی ایک بار پھر یہ خبریں آنی شروع ہوگئی ہیں کہ ساؤتھ افریقہ میں ہونے والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شعیب اختر اور محمد آصف کی شرکت مشکوک ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایونٹ کے آغاز سے قبل دونوں کھلاڑیوں کا پوری ٹیم کے ہمراہ ڈوپ ٹیسٹ ہوگا جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ شعیب اور آصف کے جسم سے ابھی تک ممنوعہ ادویات کے اثرات ختم نہیں ہوئے لیکن شعیب اور آصف کو اس بات پر پورا یقین ہے کہ اس بار ان کے ٹیسٹ منفی آئیں گے تاہم اس خبرکے بعد یوں محسوس ہوتاہے کہ ایک بار پھر پاکستان کرکٹ مسائل کا شکار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ادھرقومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ کا اعلان 16جولائی کو متوقع ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ ٹیم کے اگلے کوچ سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیف لاسن ہونگے اوربعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بورڈ کے چند عہدیدار اور بعض کھلاڑیوں نے سابق بنگلہ دیشی اور سری لنکن کوچ واٹمور کی تقرری کی مخالفت کی ہے جس کے بعد بورڈ نے جیف لاسن کی تقرری کافیصلہ کیا ہے جس کا عندیہ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف ایک ہفتہ قبل دے چکے ہیں دوسری جانب گزشتہ کئی دنوں سے یہ بحث ایک بار پھر طول پکڑگئی ہے کہ کھلاڑیوں میں گروپ بندی ہے اور بورڈ پلیئر پاور کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بورڈ نے کھلاڑیوں کے کہنے پر واٹمور کی جگہ جیف لاسن کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹونئٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے تیس رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے جس میں یونس خان ، شعیب اختر اور دانش کنیریا بھی لوٹ آئے ہیں اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاریوں کیلئے قذافی اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ جاری ہے ۔
کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے حالانکہ ہمارا قومی کھیل تو ہاکی ہے اور پاکستانی نے ہاکی میں چار عالمی کپ بھی جیت رکھے ہیں لیکن پاکستانی قوم کرکٹ کی دیوانی ہے یہی وجہ ہے کرکٹ ٹیم کی ناقص پرفارمنس کے بعد بھی لوگ خود کو کرکٹ فوبیا سے جدا نہیں کرپاتے۔بدقسمتی سے گزشتوں کئی سالوں سے پاکستان کرکٹ مسائل کا شکار چلی آرہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے مسائل حل کرنے کی نہیں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ورلڈکپ 2007ء میں ناقص کارکردگی اور اس کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات نے پاکستان کرکٹ کو ماضی میں دھکیل دیا ہے لیکن بورڈ کے چیئرمین سمیت سبھی اہم عہدیداران نے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔میں نے اپنے گزشتہ ایک آرٹیکل میں یہ بات واضع الفاظ میں لکھی تھی کہ جوغلطیاں میں ماضی میں شہریارخان نے کی تھی اب وہی غلطیاں نسیم اشرف دہرارہے ہیں جس کی واضع مثال پاکستان میں موجود کئی باصلاحیت کوچز کو چھوڑ کرقومی ٹیم کیلئے غیر ملکی کوچ کا انتخاب عمل میں لایا جارہاہے حالانکہ یہ بات واضع طور پر محسوس کی گئی ہے کہ قومی کرکٹرز کی انگلش کمزور ہے اور کوچنگ کا بنیادی مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی کی بات اچھی طرح سمجھ سکیں اور اپنی سمجھا سکیں لیکن ہمارے ہاں بورڈ کے چیئرمین اوران کے رفقاء اس بات کو مدنظر رکھنے کی اسطاعت نہیں کرتے۔گو کہ یہ بات درست ہے کہ کوچنگ اب ایک آرٹ بن چکی ہے اورموجودہ دورمیں جدید طرز سے کھلاڑیوں کی کوچنگ کی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے اور بالخصوص پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے کیونکہ ہمارے سپرسٹار آج تک خود میں پروفیشنل ازم پیدا نہیں کرسکے لہذا ان کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ ان کی جدید خطوط پر کوچنگ کی جائے لیکن یہاں پر سب سے بڑا مسئلہ” زبان“ کاپیدا ہورہا ہے کیونکہ ہمارے کھلاڑی ماضی میں بھی باب وولمر اور رچرڈپائی بس کی باتوں اور ان کے مفید مشوروں سے استعفادہ کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن اس چیز کا بہترین اور خوبصورت حل موجود ہے ۔وہ یہ کہ بورڈ کو چاہیے کہ جو پاکستانی کوچز اس قابل ہیں کہ وہ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرسکتے ہیں ان کو بین الاقومی معیار کی تربیت دیکر ٹیم کی کوچنگ کیلئے تیار کیا جائے۔جب وہ لیول ٹو اور لیول تھری کے کورس جو کوچنگ کیلئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے مکمل کرلیں اس کے بعد ان کو ٹیم کی کوچنگ کیلئے مقرر کردیا جائے جس سے بقیناً ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کے بہار کے دن لوٹ آئیں گے۔ ایسا بیشتر فٹبال کھیلنے والے بھی ممالک کرتے ہیں اور کرکٹ میں آسٹریلوی اس بات پر عمل پیرا ہوکر آج ورلڈکپ جیتنے کی ہیٹرک مکمل کر چکے ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ بات سب سے بڑے مرض کا روپ دھار چکی ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ رونماہوتا ہے تو بہت سارے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو اس طرح کے مواقعوں کی گھات میں ہوتے ہیں اور وہ ان حادثات سے ذاتی مفادات اٹھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم جب کبھی مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو ہوتے چلے جاتے ہیں۔گزشتہ کئی ماہ سے یہ چرچہ عام ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلا کوچ کون ہوگا ؟؟بورڈ اس سلسلے میں جیسے دونوں جونیئر کھلاڑیوں کا کپتانی اور نائب کپتانی عہدہ سونپ چکا ہے ایسے ہی کوچ کے عہدے کیلئے بھی آسٹریلیا کے اکیڈمی کوچ جیف لاسن کی تقرری کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔اگر کرکٹ بورڈ اور اس کے عہدیدار پاکستان اور پاکستان کرکٹ سے مخلص ہیں تو ان کو سابق کھلاڑیوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے جو پاکستان کیلئے ایک طویل عرصہ کرکٹ کھیل چکے ہیں لیکن ہماری یہ بدبختی ہے کہ ہمیشہ سینئر اور محب وطن کھلاڑیوں کو ذلیل و خوار کرکے نکال جاتا رہا ہے لہذا بورڈ کے عہدیدار ان کی تنقید اور تعریف پر توجہ دینا گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں جس کا خمیازہ ورلڈکپ میں ذلت آمیز شکست کھا کر بھگتنا پڑا ہے اور اگر بورڈ نے اپنی ہٹ دھرمی ختم نہ کی تو آنے والے وقتوں میں مزید ایسے نہ صرف صدمات سہنے پڑیں گے بلکہ رواں نظام تباہی کے طرف لے جائے گا ۔دو ہفتے قبل ایک اور بات سننے کو ملی کہ قومی ٹیم ایک بار پھر گروپ بندی کا شکار ہوچکی ہے جس کی وجہ ہے جونیئر کھلاڑیوں کا کپتان اور نائب کپتان بنانے کا فیصلہ ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی فارورڈ بلاک کی قیادت کررہے ہیں جن کا موقف ہے کہ جونیئر کھلاڑی شعیب ملک کو کپتان بنانے کے بعد بورڈ نے ایک اور جونیئر کھلاڑی سلمان بٹ کو ٹیم کا نائب کپتا ن مقرر کرسینئر کھلاڑیوں کی تذلیل کی ہے۔ تاہم بورڈ نے اس بات کا مکمل ترید کی ہے لیکن ذرائع نے اس بات کا تصدیق کی ہے کہ شاہد آفریدی اس بات سے بہت خفاہیں کہ انہیں کپتان یا نائب کپتان کیوں نہیں بنایا گیا ۔اردوپوائنٹ کو شاہد آفریدی نے انٹرویو دیتے ہوئے بھی اس بات کا کھل کر اظہار کیا تھا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش قومی ٹیم کی قیادت کرنا ہے اور وہ بورڈ کی جانب سے ملک کو کپتان بنائے جانے والے فیصلہ پر رنجیدہ ہیں جس کا اظہار انہوں نے ٹیم مینجر طلعت کے خلاف ابیٹ آباد میں جاری ٹریننگ کیمپ میں تلخ کلامی کی صورت میں کیا لیکن بہرحال اب یہ تنازعہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے لیکن کرکٹ بورڈ کو سینئر کھلاڑیوں کا بھر پور خیال رکھنا چاہیے اور ان کی قدر کرنی چاہیے ۔