اعجازوسیم باکھری:
کرکٹ کی سلطنت پر بالادستی کی جنگ جاری ہے اور حریف ٹیمیں اپنی پوری قوت کے ساتھ حکمرانی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ہرٹیم عالمی چیمپئن بننے کیلئے پرامیدہے تاہم آخرمیں وہی سلطان بنے گا جو ہمت ہارنے کے بجائے اپنے مخالفین کے اعصاب سے حکمرانی کریگا۔پاکستان نے بھی بالادستی کی جنگ میں قدم رکھ دیا ہے اور پہلے معرکے میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاکستان کے سامنے بظاہر کمزور حریف تھا اورانہیں تجربہ بھی زیادہ حاصل نہیں تھا لیکن چونکہ بالادستی کی جنگ میں سب کو اپنی پوری قوت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور پاکستان نے بھی یہی کیا اور ایک کمزور حریف کو روند کر بڑے حریفوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلادیا جبکہ اس جیت سے پاکستانی ٹیم فیورٹ لسٹ میں بھی شامل ہوگئی ہے۔ کینیا کیخلاف 205رنز کی کامیابی ورلڈکپ مقابلوں میں پاکستان کی پہلی بڑی فتح ہے اور اس فتح میں پوری ٹیم کا کردار نظرآتا ہے۔ گوکہ قومی اوپنرز جلد آؤٹ ہوگئے لیکن کامران اکمل ، یونس خان، مصباح الحق اورعمراکمل نے بھرپورذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور حریف باؤلرز کو خوب پریشان کیا۔ آخری اووزمیں قومی ٹیم نے تیز بیٹنگ کی اور آخری دس اووروں میں 112رنز حاصل کیے جن میں سے 70رنز آخری پاور پلے میں سمیٹے گئے تاہم ابتدائی اوورز میں پاکستان کا سٹارٹ کافی سلو تھا اوراحمد شہزاد اور محمد حفیظ کو کھیلنے میں کافی مشکل پیش آرہی تھی۔ شاید دونوں ورلڈکپ کا پہلا میچ کھیلتے ہوئے کافی نروس ہوگئے تھے اور انہوں نے پریشر میں آکر خود کو مشکل میں ڈال دیا تھا اور دونوں جلدی آؤٹ ہوگئے تاہم بقیہ میچزمیں امید ہے کہ دونوں اپنی غلطی کا ازالہ کریں گے۔ کامران اکمل کو اس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا کہ اس نے کینین باؤلرز کو پریشر میں ڈالا اور ابتدائی نقصان کے بعد کامران نے یونس کے ساتھ ملکر اننگز تعمیر کی اور ٹیم کو دوبارہ ٹریک پرلے آئے۔
عمراکمل اورمصباح الحق نے بھی دلیرانہ اندازمیں بلے بازی کی اور میگاایونٹ کا آغاز بھرپور فارم اور اعتماد کے ساتھ کیا ، عمراکمل کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا اور وہ نصف سنچری سکور کرنے پر کافی زیادہ مسرور نظرآئے کیونکہ ورلڈکپ کے پہلے معرکے میں نصف سنچری مکمل کرکے انہوں نے ایک تواپنی کارکردگی پر اٹھائے جانیوالے سوالات کا جواب دیا اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنی ڈبیو سرزمین پر فارم میں واپس آئے۔ عمراکمل کا شمار دنیا کے دلیربلے بازوں میں ہوتا ہے جوکسی بھی باؤلنگ اٹیک کے سامنے ڈٹ کر بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ورلڈکپ کے آغازمیں جس طرح وہ پراعتماد نظرآیا امید ہے بقیہ میچز میں بھی توقعات کے مطابق کھیل پیش کریگا۔ مصباح الحق کی بیٹنگ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ، گوکہ کینیا جیسی کمزور ٹیم کے خلاف انہوں نے عمدہ اننگ کھیلی لیکن جس طرح وہ اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے نظرآئے اس سے لگ رہا تھا کہ مصباح میگاایونٹ میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تاہم مصباح کا اصل امتحان سری لنکا کیخلاف اہم مقابلے میں ہوگا۔کپتان شاہد آفریدی اورعبدالرزاق آخری اوورزمیں بیٹنگ کرنے آئے لیکن توقعات کے مطابق زیادہ باؤنڈریز دیکھنے کو نہ مل سکیں اورپاکستان نے حریف ٹیم کو 318رنز کا مشکل ہدف دیا جو کینیا جیسی کمزور ٹیم کے بس سے باہر تھا۔
گیند بازی میں شاہد آفریدی نے نپی تلی باؤلنگ کرکے کینین بیٹسمینوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اوراپنے تجربہ کی بنیاد پر پانچ وکٹیں لیکر اپنی ٹیم کو آسان فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ شاہد آفریدی اگر بیٹنگ میں ناکام ہوں تو ان کے پاس اپنی ناکامی کا ازالہ کرنے کا بولنگ میں نادر موقع ہوتا ہے اور گزشتہ روز کے میچ میں آفریدی نے بیٹنگ میں ناکامی کا بولنگ میں ازالہ کیا اورورلڈکپ مقابلوں میں بطور کپتان کم رنز کے عوض پانچ وکٹیں لیکر کپل دیوکا ریکارڈبھی توڑ ڈالا۔ شعیب اخترنے پانچ اوورز میں10 رنز دئیے جبکہ عمرگل سمیت دیگر باؤلرز نے بھی بھرپورذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔کل کے میچ میں پاکستان نے کئی ریکارڈز اپنے نام بھی کیے۔ پاکستان کے چار بلے بازوں نے نصف سنچری سکورکی اور ورلڈکپ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی اننگز میں چار بیٹسمینوں نے پچاس سے زائد رنز سکورکیے۔پاکستان نے کینیا کیخلاف 317رنز سکور کرکے ورلڈکپ میں اپنا چوتھا بڑا ٹوٹل تشکیل دیا۔پاکستان نے کینیا کیخلاف 205رنز سے کامیابی حاصل کرکے ورلڈکپ مقابلوں میں اپنی سب سے بڑی فتح سمیٹی۔کل کے میچ کے اعداد شمار بھی پاکستان کے حق میں جارہے ہیں اور نتیجہ بھی قومی ٹیم کے حق میں آیا۔ پہلے میچ میں کامیابی کے بعد قومی ٹیم کا مورال بھی بلند ہوگیا ہے اور افتتاحی میچ کی ناکامی سے بھی پیچھا چھڑا لیا ہے۔ قومی ٹیم کا اگلہ پڑاؤ میزبان سری لنکا سے ہے۔ 26 فروری کو ہونیوالے اس میچ میں دونوں ٹیموں کا کڑا امتحان ہوگا اور شائقین کو دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔قومی ٹیم کی پہلے میچ میں بھاری مارجن سے کامیابی کے بعد شائقین نے ٹیم سے مزید توقعات وابستہ کرلیں ہیں اور ملک میں ورلڈکپ جنون بھی اس جیت کے بعد مزید عروج پکڑرہا ہے۔