اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ نئی دہلی میں جاری ہے اور میچ کی موجودہ صورت حال اس بات کا واضح اعلان کررہی ہے کہ یہ میچ فیصلہ کن ثابت ہوگا اور وہ ٹیم اس میں فاتح ٹھہرے گی جس کے بلے باز دوسری اننگز میں ذمہ داری سے بیٹنگ کرینگے۔کل کھیل ختم ہونے پر پاکستان کی پہلی اننگز میں 231رنز کے جواب میں بھارت نے 6وکٹ کھو کر 228رنز بنا لیے ہیں ۔پاکستانی پیسرز شعیب اختر اور سہیل تنویر نے ابتدا ہی میں بھارت پر بھر پور اٹیک کیا اور محض 90رنز کے سکور پر بھارت کے پانچ چوٹی کے بیٹسمینوں کو واپسی راہ دکھا دی تھی تاہم وی وی ایس لکشمن اور ایم ایس دھونی نے ذمہ درانہ بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو بحران سے نکال کر بہترین پوزیشن میں لاکھڑاکیاان دونوں کے درمیان چھٹی وکٹ پر ہونیوالی والی 115رنز کی پارٹنرشپ نے بھارتی ٹیم کو بھرپور سہارا فراہم کیا ۔لکشمن اس وقت وکٹ پر موجود ہیں اور ان کے ساتھ کپتان انیل کمبلے ہیں پاکستانی باؤلرز کیلئے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ دوسرے اینڈپر موجود ٹیل اینڈرز کا صفایا کرکے بھارت کو کم سے کم برتری تک محدود رکھیں کیونکہ پہلی اننگز میں پاکستانی بلے باز بالکل آف کلر نظر آئے لہذا اب بولرزپر ہی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صبح کے وقت نمی کا بھر پور فائدہ اٹھائیں اور بھارت کی بقیہ چار وکٹیں جلد ازجلد حاصل کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھیں ۔بھارتی کرکٹ بورڈ کی تعریف کرنا ہوگی کہ انہوں نے ٹیسٹ میچ کیلئے شاندار وکٹ تیار جوکہ بیٹسمینوں اور باؤلرز دونوں کیلئے سپورٹنگ وکٹ ہے بالخصوص نئی بال کے ساتھ فاسٹ باؤلرز کو اس وکٹ پر کافی مدد مل رہی ہے جس کا شعیب اختر اور سہیل تنویر نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔سہیل تنویرنے جس کم عرصے میں اپنا لوہا منوایا اس کی تعریف کیلئے الفاظ کم ہیں اپنے عجیب و غریب ایکشن کی وجہ سے وہ دنیا کے نامور بلے بازوں کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں دہلی ٹیسٹ کے دوسرے روز نوجوان ”کھبے“بولر نے بھارتی ٹیم کے دوسابق کپتانوں گنگولی اور ڈریوڈ کی وکٹیں اکھاڑ کرکے اپنے تابناک مستقبل کی نشاندہی کردی ہے۔گنگولی اور ڈریوڈ دنیا ئے کرکٹ کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور دونوں بھر پور تجربہ کے مالک ہیں لیکن سہیل تنویر کی ”انوکھی “گیندوں پر بھیگی بلی نظر آئے ۔دونوں مختلف اینگل سے بولڈ ہوئے مگر ایک ہی گیند پر بولڈ ہوئے دونوں کو انتہائی سوچ سمجھ کر ٹارگٹ پر ان سوئنگ گیندیں پھینک کر میدان بدر کیا گیا جو کہ سہیل تنویر کے کوالٹی اور باٹیلنٹ باؤلرز ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز میں سہیل تنویر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلرز رہے اب ٹیسٹ سیریز میں وہ ایک بار پھر بھارتی بلے بازوں کیلئے مشکلات پید ا کررہے ہیں ۔سہیل تنویر نے بہت کم عرصے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ آنے والے دنوں میں وسیم اکرم تو نہیں بن سکتے مگر ان کی کمی پوری کرنے کی بھر پور اہلیت رکھتے ہیں۔جبکہ فاسٹ بولر شعیب اختر تو اپنی مثال آپ ہیں …تنازعات ،جھگڑے اور فٹنس مسائل کی وجہ سے 13ماہ کھیل کے میدانوں سے دور رہنے کے بعد وہ ایک کامیاب اور خطرناک بولر کے روپ میں واپس آئے ہیں وہ فتح کیلئے جان لڑاتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور پاکستان سب سے زیادہ ان کی ہی بولنگ پر انحصار کررہا ہے ۔دہلی ٹیسٹ کے دوسرے روز چیمپئن لیگ سپنر دانش کنیریا اپنا روایتی کھیل پیش کرنے میں ناکام رہے انہوں نے البتہ 57رنز بنانے والے دھونی کو آؤٹ کیا تاہم ان کی بولنگ میں وہ جادو اور جارحانہ پن نظر نہیں آیا جس کے لیے وہ مشہور ہیں اور محمد سمیع بھی کوئی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن سمیع نے انتہائی نپی تلی بولنگ کرکے بھارتی بیٹسمینوں کو پریشان کیے رکھا۔آج کا دن دونوں ٹیموں کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور آج سب سے اچھا کھیل پیش کرنے والی ٹیم ٹیسٹ میچ کو اپنے حق میں لے جاسکتی ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں پاکستانی بولرز نے انتہائی شاندار بولنگ کی اب تمام تر ذمہ داری بیٹسمینوں پر عائد ہوچکی ہے۔