اعجاز وسیم باکھری :
کرکٹ کا کھیل انگلستان میں ایجاد ہوا لیکن اس کی اصل نشوونما آسٹریلیا میں ہوئی آج بھی کرکٹ کا کھیل انہی ممالک میں کھیلا جاتا ہے جہاں ماضی میں برطانوی راج تھا یہی وجہ کہ کرکٹ کے کھیل کو ”غلامی کی نشانی “بھی کہا جاتا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کرکٹ کے کھیل میں ترقی کیلئے آسٹریلیا اور برطانیہ نے بے مثال کوششیں کیں اور ان دو ممالک کی وجہ سے کرکٹ کا کھیل آج دنیا میں فٹبال کے بعد دوسرا بڑا کھیل ہے جہاں ان دونوں ممالک نے کرکٹ کی بہتری کیلئے کلیدی کردار ادا کیا وہیں ان دونوں ممالک نے کرکٹ کیلئے کئی مسائل بھی کھڑے کیے اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کیا جس سے کھیل میں تعصب پرستی کو ہوا ملی اور کئی ایک واقعات ایسے رونما ہوئے جن سے یہ بات واضع طور پر محسوس کی گئی کہ گورے ایک تو شکست برادشت نہیں کرسکتے اوردوسرا وہ خود کہ ہر قانون سے بالاتر رکھنا چاہتے ہیں ایک طویل عرصے تک اپنی من مانی کرنے کے بعد جب ویسٹ انڈیز نے کرکٹ پر عروج حاصل کیا اور سیاہ فام کھلاڑیوں نے گوروں کو ناکوں چنے چبوائے تب سے گوروں کی اجارہ داری کا سحر ٹوٹنے لگے لیکن پھر بھی تعصب پرستی کا عنصر کھیل سے ختم نہ ہوسکا جس کا مظاہرہ ہر ایک سال بعد وقفے وقفے سے دیکھنے کو ملتا رہا اور یہ سلسلہ ایک سوسال کے بعد بھی آج بھی جاری و ساری ہے جس کو ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن ہمیشہ گوروں نے تعصب پرستی کی جنگ میں فتح حاصل کی۔2006ء کا سال کرکٹ کے شائقین کو ہمیشہ یاد رہے گا اس سال پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا جہاں کرکٹ ایک بہت بڑے بحران کا شکار گئی جس کی سب سے بڑی وجہ آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیر کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ نسل پرستی تھی جہاں محض سستی شہرت کی خاطر ڈیرل ہیر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا جوکہ بعد میں بے بنیاد بھی ثابت ہوا مگر پاکستانی ٹیم کی جس طرح دل آزاری کی گئی اس کا کوئی مداوا نہیں ۔اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے امپائر کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گراؤنڈ میں اترنے سے انکار کردیا تھا بعض لوگوں نے پاکستانی ٹیم کے ا س اقدام کو غلط قرار دیا مگر کھیل پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین نے انضمام الحق کے اس فیصلے کو سہراہا گو کہ انضمام الحق کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا مگر پاکستانی قائد نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کھیل میں اوچھی حرکات نہیں کرتی ۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ایک بار پھر کرکٹ میں ایک اور بحران آچکا ہے ۔ جہاں بھارتی کپتان انیل کمبلے نے نہ صرف سٹیو بکنر کو اپنے تیسرے میچ سے امپائرنگ پینل سے خارج کرا دیا ہے بلکہ آف سپنر ہر بجھن سنگھ پر عائد کی گئی تین ٹیسٹ میچز کی پابندی کو بھی معطل کرانے میں کامیاب ہوچکے ہیں ۔آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریزکے دوسرے معرکے میں ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے امپائر سٹیوبکنر پر بھارتی ٹیم نے جابنداری کا الزام لگایا تو دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم کی شکایت پرکہ ان پرہر بھجن سنگھ نے نسلی تعصب پرستی کے جملے کسے ۔جس پر میچ ریفری نے بھارتی آف سپنر ہر بجھن سنگھ پر تین ٹیسٹ میچز کی پابندی عائد کردی جبکہ اس سے پہلے سڈنی ٹیسٹ میں بھارت کو حیران کن طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا جس پر پورے بھارت میں سٹیو بکنر کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے رکی پونٹنگ سمیت ان کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔ادھر دوسری جانب بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کو دورہ آسٹریلیا معطل کرنے کی دھمکی دیکر نہ صرف ہربجھن سنگھ پرعائد کی گئی سزا ختم کرالی بلکہ سٹیو بکنر کو بھی تیسرے ٹیسٹ سے خارج کرا دیا ۔
میری نظر میں یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور کپتان انیل کمبلے سمیت تمام کھلاڑیوں نے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی سی سی اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کریگی یا یوں ہی ہر ایک سال بعد کوئی نہ کوئی بحران وجود میں آتا رہے گا؟۔یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ آج پورا بھارت امپائرنگ کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے لیکن شاید بہت سے لوگوں کو بھارتی کرکٹ کی ہسٹری معلوم نہیں ہے یہی انیل کمبلے تھا جس نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف بھارتی امپائرجے پرکاش کی مددسے ایک اننگز میں دس وکٹیں حاصل کرنے کا ناممکن کارنامہ سرانجام دیا لیکن اس وقت تو کسی نے امپائرنگ کے معیارپر شور نہیں مچایا تھا پاکستانی ٹیم کے شدید احتجاج کے باوجود کسی بھارتی نے یہ اعتراف نہیں کیا کہ ہاں واقعی انیل کمبلے نے امپائر کی مددسے دس وکٹیں حاصل کیں ۔سٹیو بکنر دنیا ئے کرکٹ کے مانے ہوئے بہترین امپائر ہیں اور یہ کون نہیں جانتا کہ بھارتی ٹیم کے کھلاڑی بدزبان اور منہ پھٹ ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہربجھن سنگھ نے ضرور آسٹریلوی کھلاڑیوں پر آوازیں کسی ہونگی لیکن آئی سی سی نے بھارتی مطالبات کے سامنے ایک مجرم کو بری کرکے ایک بار پھر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے ۔گو کہ آسٹریلوی کھلاڑی حریف پلیئرز سے بدتمیزی کرتے ہیں لیکن بھارتی بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر آئی سی سی نے جواقدام اٹھایا ہے یہ نہ صرف کرکٹ کے مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ اب ہر ٹیم یہی روش اختیار کرلے گی کہ جب بھی کوئی فیصلہ ان کے خلاف دیا جائیگا تو وہ بائیکاٹ کی دھمکی دے ڈالیں گے۔جس طرح بھارتی ٹیم نے دورے کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی آئی سی سی کو اس پر مزید ایکشن لینا چاہیے تھا بجائے کے گھٹنے ٹیکنے کے ۔مگر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ آئی سی سی ایک ناکام اور کمزور ترین ادارہ ہے جسے ڈرا دھمکا کر اپنے مطالبات تسلیم کرائے جاسکتے ہیں اوررہی بات بھارتی کپتان انیل کمبلے اور ہربجھن سنگھ تو یہ ہمارے ہمسائے بھی ہیں اورروایتی حریف بھی ۔ہم پاکستانیوں سے زیادہ کون بھارتی عزائم سے واقف ہوگاآج انیل کمبلے کس منہ سے امپائرنگ کے معیار کو درست کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کمبلے کوتھوڑا ماضی میں جا کر اپنے گربیان میں جھانکنا چاہیے کہ بھارتی ٹیم کی پوری ہسٹری بے ایمانی اور بدکلامی سے بھری پڑی ہے آج اگر اپنے کیے کی سزا مل گئی تو آسمان سر پر اٹھا لیا ہے یہ نہ تو کرکٹ ہے اور نہ ہی یہ سپورٹس مین سپرٹ ہے ۔میں اسے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا نام دوں گا جو بھارتی قوم کا سلوگن ہے۔