اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا اور افتتاحی ٹیسٹ میچ آج سے بھارتی درالحکومت نئی دہلی کے فیرز شاہ کوٹلہ کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔اس سے قبل ون ڈے سیریز میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کو 3-2سے شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کی مگرٹیسٹ سیریزکے آغازسے قبل آخری ون ڈے میچ پاکستان نے جیت کر نہ صرف بھارتی ٹیم کی فتوحات کے سلسلے کو روک دیا بلکہ ٹیسٹ سیریز سے قبل اپنے ڈاؤن ہوئے مورال کو بھی بلند کیا جو یقیناً افتتاحی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کیلئے سودمند ثابت ہوگا۔ذرائع کے مطابق بھارت نے ان فارم فاسٹ بولر شعیب اختر کے وار سے بچنے کیلئے فیرزشاہ کوٹلہ کی وکٹ کو انتہائی سپن وکٹ کے طور پر تیار کیاگیا ہے تاکہ شعیب اختر کے قہرسے بچا جا سکے تاہم ماہرین کے مطابق وکٹ میں لو بونس موجود ہے جس سے میچ کے پہلے دن بولنگ کرنے والی سائیڈ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ادھر دوسری جانب بھارتی ٹیم کے دو اہم بولر سری سانتھ اور آر پی سنگھ انجرڈ ہوکر پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں اور ٹیم میں فاسٹ بولر مناف پٹیل کو ہنگامی طورپر طلب کیا گیاجبکہ یوراج سنگھ کو بھی شامل نہیں کیا جارہا ۔بھارتی ٹیم کی قیادت انیل کمبلے کررہے ہیں جو پہلی بار کپتان کے روپ میں نظر آئیں گے پاکستانی قائد شعیب ملک کے مطابق ٹیسٹ اور ون ڈے کیلئے الگ الگ کپتان نامزد کرنے سے بھارتی ٹیم کا کمبی نیشن متاثر ہوگا جس کا وہ مکمل فائدہ اٹھائیں گے۔شعیب ملک قومی ٹیم کے نوجوان کپتان ہیں اور انہیں بہت کم عرصہ ہوا ہے کپتانی کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لیکن اس کم عرصے میں وہ بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنے بالخصوص ان کی اپنی پرفارمنس کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کیے گئے لیکن بھارت کے خلاف آخری ون ڈے میں ملک نے انفرادی طور پر متاثر کن کھیل پیش کرکے اپنی ٹیم کو ایک شاندار فتح سے ہمکنار کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔شعیب ملک اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں بالکل ناکام ثابت ہوئے ۔جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم گراؤنڈز پر ینگ کپیٹن نہ تو بیٹنگ میں کوئی معرکہ مار سکے اور بطور کپتان بھی ان میں پلاننگ کا فقدان واضح نظر آیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں نہ صرف اعتماد آتا جارہا ہے بلکہ وہ ایک فائٹر کپتان کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کیلئے کوشاں نظر آرہے ہیں ۔ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیم کی فتح کا تمام تر انحصار سٹار بیٹسمین محمد یوسف اور یونس خان کی بیٹنگ پرہوگا اور اگر وکٹ میں تھوڑا سا بھی بونس موجودہوا تومیرا نہیں خیال کہ بھارتی ٹیم شعیب اختر کی تباہ کن بولنگ کے سامنے مزاہمت کرسکے گی مگر اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ بھارتی انتظامیہ گرین ٹاپ یا بونسی وکٹیں بنانے کی غلطی کریں گے کیونکہ بھارتی ٹیم میں کوئی ایک بھی بولر ایسا نہیں ہے جو شعیب اختر کے پائے کا ہو اور بھارتی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر ہمیشہ سپنر ز کے سر پر فتح حاصل کرتی ہے تو میرے خیال میں اس مرتبہ بھی بھارتی بورڈ کپتان انیل کمبلے اور ہربجھن سنگھ سے بہتر نتائج حاصل کرنے کیلئے ڈیڈ وکٹوں کا جال بچھائے گا لیکن شاید ان کی یہ بھی ایک بہت بڑی بھول ہوگی کیونکہ پاکستانی ٹیم میں شین وران کے بعد دنیائے کرکٹ کا ٹاپ لیگ سپنر دانش کنیر یا موجود ہے جو گزشتہ دو سیریز میں بھارتی ٹیم کو اس کے اپنے ہی بنائے ہوئے گڑھے میں ٹھونس چکا ہے پاکستانی ٹیم کے گزشتہ دورہ بھارت کے موقع پر بھی بھارتی بورڈ نے پاکستانی فاسٹ بولر ز سے بچنے کیلئے ڈیڈ وکٹیں تیار کیں تھی تاہم دانش کنیریا نے ڈیڈ وکٹوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں فتح دلائی تھی لہذا مجھے پورا یقین ہے کہ بھارتی انتظامیہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوگی کہ کونسی وکٹ تیار کی جائے کیونکہ تیزٹریک پر شعیب اختر اور سلو وکٹ پر دانش کنیریا بھارتی ٹیم کیلئے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں اس تمام صورت حال میں توقع کی جاسکتی ہے کہ سپورٹنگ ٹریک تیار کیا جائیگا جس سے تینوں فریق فاسٹ بولرز ،سپنرز اور بلے بازوں کو مدد ملے ۔ماہرین کے مطابق دونوں ٹیموں متوازن ہیں تاہم بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن کافی مضبوط ہے جبکہ بولنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے امید ہے شائقین کو دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔