اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ کراچی میں جاری ہے تیسرے روز کھیل ختم ہونے پرجنوبی افریقہ نے اپنی دوسری اننگز میں 76رنز بنائے ہیں اور اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہوچکے ہیں یوں مہمان ٹیم کی مجموعی برتری 235رنز ہوچکی ہے اور ابھی اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔تیسرے روز شعیب ملک نے عمدہ کھیل پیش کیا اور پاکستان کو فالوآن کی خفت سے محفوظ رکھا بعد ازاں ٹیل اینڈرز نے بھی کافی مزاہمت کی اورپاکستان کا سکور291 تک لے گئے۔
پاکستان کو لاہور ٹیسٹ میں انضمام الحق اورمحمد یوسف کی خدمات حاصل ہوں گی تاہم کراچی ٹیسٹ میں اس وقت مہمان ٹیم کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہوچکی ہے۔افریقی ٹیم جس انداز اورسے بیٹنگ کررہی ہے اور 400کے قریب متوقع ٹارگٹ کو سامنے رکھ کر پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کا شکست سے بچ نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا کیونکہ پہلی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں نے انتہائی غیر معیاری بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جس کانتیجہ جنوبی افریقہ کی پوزیشن مضبوط ہونے سے لگایا جاسکتا ہے۔آج کھیل کا چوتھا روز ہے اگر جنوبی افریقہ نے پاکستان کو جیت کیلئے 400رنزکا حدف دیدیا تو میرے خیال میں پاکستان کی میچ میں واپسی مشکل ہوگی۔اس وقت سب سے پہلی ذمہ داری کپتان شعیب ملک پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بہترین فیصلے کریں اور صورتحال کے مطابق بولرز سے بولنگ کرائیں میرے خیال میں وکٹ کافی حد تک سلو ہوچکی ہے جس کا ثبوت جنوبی افریقہ کی گرنے والی ابتدائی تین وکٹیں ہیں جو سپن بولرز عبدالرحمن اور دانش کنیریا نے حاصل کیں لہذا قومی کپتان کو چاہیے کہ وہ کنیریا اور رحمن سمیت محمد حفیظ کے ہمراہ خود بولنگ کریں اور جنوبی افریقہ کو کم سے کم سکور پر محدود رکھیں تاکہ پاکستان کو دوسری اننگز میں ٹارگٹ کے حصول میں مشکل پیش نہ آئے۔ٹیسٹ کرکٹ میں عموماً چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنا خاصا دشوار ہوتا ہے بالخصوص اس وقت جب کوئی ٹیم ٹارگٹ کا تعاقب کررہی ہوتی ہے ایسے میں اپنی وکٹیں محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہدف کی جانب پیشقدمی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے تاہم یہ کرکٹ ہے یہاں اب کوئی ٹارگٹ مشکل نہیں رہا ۔پاکستان جنوبی افریقہ کو کم سے کم سکو ر تک محدودکرتا ہے تو بعد میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کرکے میچ میں فتح حاصل کی جاسکتی ہیں مگر میرے خیال میں پاکستان کی جیت شایدممکن نہ ہوالبتہ کراچی ٹیسٹ ڈرا ہوسکتا ہے ۔ٹیسٹ ڈرا کرنے کیلئے بھی پاکستان کو معیاری بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور سبھی بلے بازوں کو اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس کرتے ہوئے نہ صرف وکٹ پر قیام کرنا ہوگا بلکہ سکور بورڈ کو بھی متحرک رکھنا ضروری ہوگا۔یہ بات مکمل طور پر واضح ہوچکی ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اس وقت انتہائی کمزور ہے بالخصوص یوسف اور انضمام کی عدم موجودگی میں قومی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بے قوت ٹیم کی سی حیثیت رکھتی ہے ۔محمد یوسف اور انضمام الحق ورلڈکلاس بیٹسمین ہیں کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ایسے کھلاڑیوں کی قدر کرے اور انہیں رسوا کرنے کے سلسلے کو ترک کیا جائے۔گوکہ قومی ٹیم نے ٹونٹی 20کرکٹ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن ٹونٹی 20کرکٹ میں نہ تو کسی ٹیم کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور نہ کسی کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی کو جانچاجاسکتا ہے۔ٹیسٹ کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے اور ٹیسٹ میچوں ہی میں ٹیموں کی کارکردگی کا کھل کرسامنے آتی ہے کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کھیل کے تینوں شعبوں میں ناکام نظر آئی اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کراچی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی ٹیم ابھی تک آسٹریلیا اور افریقہ کے مقابلے میں بہت کمزورہے میرے خیال میں جیف لاسن کو اس بات کا مکمل ادراک ہوچکا ہوگا کہ پاکستانی ٹیم ابھی تک صحیح طور پر فتح کے ٹریک پر نہیں آئی اور اس کیلئے ابھی مزید محنت درکار ہے۔ایک تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کرکٹ بورڈ ہمیشہ ڈیڈ وکٹیں کیوں تیار کرتا ہے یا پھر قومی بیٹسمین اپنی مرضی سے فلاپ ہونے کے ڈر سے ڈیڈ وکٹیں تیارکرواتے ہیں کیونکہ پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹیسٹ میچز انتہائی مردہ وکٹوں پر کھیلے جاتے ہیں جوکہ کھیل کے حوالے سے کسی بھی طرح مناسب اقدام نہیں ہے۔کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ فاسٹ وکٹیں تیار کرائے اور محمد آصف ،عمرگل اور سہیل تنویر جیسے تیز سوئنگ بولرز سے فائدہ اٹھایا جائے، نہ کہ ڈیڈ وکٹیں تیار کرکے ٹیسٹ میچز کوبے مزہ کیا جائے۔میری کرکٹ بورڈ سے التماس ہے کہ ٹیسٹ میچوں کو فیصلہ کن بنانے کیلئے ڈیڈ وکٹیں تیار کرنے کی پالیسی کو اب ترک کردیا جائے تاکہ شائقین ٹیسٹ کرکٹ کی روایتی حسن سے محظوظ ہوسکیں۔