اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ ون ڈے میچز کی سیریز کا چوتھا اور اہم میچ آج بھارتی شہر گوالیار میں کھیلا جارہا ہے میز بان ٹیم کو سیریز میں 2-1سے برتری حاصل ہے۔ڈے اینڈ نائٹ میچ پاکستانی ٹیم کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگر قومی ٹیم کو اس میں شکست کا سامنا کرناپڑا تو پاکستان سیریز ہار جائیگا۔سیریز میں رہنے کیلئے آج پاکستان کو انتہائی ذمہ داری سے کھیل پیش کرنا ہوگا ۔تمام بیٹسمینوں کو وکٹ پر قیام کرنے کے ساتھ ساتھ سکور بھی کرنا ہوگا اور بالخصوص پاکستانی فیلڈرز آج کے میچ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ گزشتہ تینوں میچز میں پاکستانی ٹیم کا فیلڈنگ کا شعبہ انتہائی کمروز نظر آیا۔پاکستانی بولرز بھی اپنے سے وابستہ توقعات کے مطابق بولنگ کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے بالخصوص عمرگل شعیب اختر کا مکمل طور پر ساتھ نہیں دے رہے اور ایکسٹرارنز پر کنٹرول نہیں کیا جارہا جس سے حر یف ٹیم با آسانی بڑا ٹوٹل کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔گزشتہ تین میچز میں پاکستان نے 88رنز ایکسٹرا دیے جس سے فیلڈنگ کوچ محتشم رشید اور چیف کوچ جیف لاسن کی ناکامی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اوپننگ کا مسئلہ بدستور برقرار ہے اور اطلاعات ہیں کہ چوتھے میچ میں سلمان بٹ کے ہمراہ اس بار یاسر حمید کو میدان میں اتارا جائیگا جہاں وہ کا مران اکمل کی جگہ وکٹ کیپنگ کے فرائض بھی سر انجام دیں گے تاہم یہ بھی امکان ہے کہ نوجوان کھلاڑی فواد عالم کو کھلا یا جاسکتا ہے مگر اس بات کا حتمی فیصلہ میچ سے قبل کیا جائیگا۔ قومی ٹیم کی یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی ٹیم مینجمنٹ نے کوئی رسک لیا تو اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ قومی ٹیم کو ایک منصوبہ ساز شخص کی اشدضرور ت ہے پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ بے کار کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم ہے اگر کمی ہے تو محض مناسب وقت پر درست فیصلے کرنے کی اہلیت کی کمی ہے۔شعیب ملک ابھی نئے نئے کپتان بنے ہیں اور انہیں شروع ہی سے انتہائی مشکل سیریز ملیں ہیں جن سے اس کو سیکھنا چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے اپنی کپتانی اور فیصلوں میں پختگی لانی چاہیے جو وہ نہیں لارہے ۔ حالانکہ ان کے ساتھ نائب کپتانی فرائض سرانجام دینے والے یونس خان ہیں جو انتہائی سمجھ دار اور کھیل کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کھلاڑی ہیں لیکن اس کے باوجود شعیب ملک کی کپتان میں پختگی پیدا نہیں ہورہی ۔ادھر دوسری جانب کانپور ون ڈے میچ میں شکست کے بعد پاکستان کے سابق کھلاڑیو ں نے جیف لاسن اور شعیب ملک کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ان دونوں کا فارغ کردیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ایک بار پھر قومی ٹیم بحران کا شکار ہوجائیگی۔البتہ ہاں…ان دونوں کو بہتر سے بہتر فیصلے کرنے چاہیں اور پوری ٹیم کو یکجا رکھیں ۔کسی بھی ٹیم کی کامیابی کا تمام کی سب سے بڑی وجہ آپس میں اتحاد ہوتا ہے جیف لاسن کو ٹیم کے ساتھ رہتے ہوئے چار ماہ ہونے والے ہیں اب انہیں چاہیے کہ وہ تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیں اور پاکستانی ٹیم کو فتح کی راہ پر لے آئیں جو کہ ان کیلئے کوئی نا ممکن نہیں ہے۔چندی گڑھ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں پاکستان نے میزبان ٹیم کے خلاف ریکارڈ322رنز کا ٹارگٹ پورا کیا جبکہ اس کے اگلے میچ میں قومی ٹیم 295رنز کا ہدف پورا نہ کرسکی جو کہ فکر آمیز بات ہے۔امید ہے قومی ٹیم آج کھیلے جانے والے اہم میچ میں متحد ہوکر کھیلی گی اور سیریز کو برابر کردے گی۔پاکستان کے پاس آج کے میچ میں سوائے جیت کے اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔شعیب اختر ،محمد یوسف ،شاہد آفریدی ،سلمان بٹ اور یونس خان پاکستان کو کسی بھی ٹیم کے خلاف فتح دلانے کی بھر پور اہلیت رکھتے ہیں کپتان شعیب ملک کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیٹنگ پر توجہ دیں کیونکہ گزشتہ کئی میچز میں وہ کامیاب نہیں ہورہے ۔پاکستان کو اگر سیریز برابر کرنی ہے تو مثبت کرکٹ کھیلنا ہوگی اور کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے تمام کھلاڑی بھر پور تجربے کے مالک ہیں اور کئی بار پاکستان کو فتوحات سے ہمکنا ر کراچکے ہیں ۔اطلاعات ہیں کہ گوالیار کی وکٹ سپورٹنگ وکٹ ہے جہاں بلے باز اور بولرز دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔آخر میں میں قومی ٹیم کے جارح مزاج بلے باز شاہد آفریدی سے درخواست کرونگا کہ پوری قوم نے ان سے امیدیں وابستہ کررکھی ہوتی ہیں لہذا کچھ ہوش سنبھال کرکھیلا کریں تاکہ پاکستانی ٹیم کی جیت کیلئے راہ ہموار ہو۔واضح رہے کہ پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کے درمیان آج کھیلا جانیوالا میچ ڈے اینڈ نائٹ میچ ہے جو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر2بجے شروع ہوگا۔