اعجاز وسیم باکھری:
میں اس نتیجہ کی ہرگز توقع نہیں کررہا تھا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر سامنے آیا۔دہلی ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستانی بلے باز ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پہلے روز کھیل ختم ہونے پر پاکستان نے 8وکٹوں کے نقصان پر 210رنز بنالیے ہیں اور یہ 210رنزکا مجموعہ بھی محمد سمیع اور مصباح الحق کی دلیرانہ بیٹنگ کی صورت میں تشکیل دیا گیا ورنہ تو 142پر پاکستان کے8چوٹی کے بلے باز واپس لوٹ چکے تھے لیکن مصباح الحق نے محمد سمیع کے ساتھ ملکر صورتحال کو مکمل طور پر جانچتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کو کسی حد تک بحران سے نکالنے میں مدد دی ۔ایک بات کی مجھے تاحال سمجھ نہیں آسکی کہ شعیب ملک کے ساتھ ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑیوں کی کیا دشمنی ہے کہ وہ جب بھی کوئی فیصلہ کرتے ہیں ہمیشہ اس کا الٹ نتیجہ نکلتا ہے کیونکہ بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز میں شعیب ملک نے اگر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو نقصان اٹھانا پڑا اور اس بچارے نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو تب بھی پاکستان کو شکست ہوئی۔ اور اب اگر پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے خود کھیلنے کا فیصلہ کیا تو ایک بار پھر پاکستانی بلے باز بری طرح ناکام ہوئے میرے لیے یہ بات ایک پیچیدہ سوال کی شکل اختیار کرچکی کہ یا تو شعیب ملک ٹاس کرنے سے پہلے کنڈیشن کا جائزہ نہیں لیتااور ٹاس جیت کر جو من میں آتا ہے فیصلہ کرلیتا ہے یا پھر ٹیم مینجمنٹ جو ہر فیصلے میں برابر کی شریک ہوتی ہے مینجمنٹ میں موجود چند ”دشمن عناصر“ہر بار شعیب ملک کو غلط مشورہ دیتے ہیں اگر یہ دونوں باتیں بھی بے بنیاد ہیں تو پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ شعیب ملک ایک ناکام ترین کپتان ہے جو کوئی بھی اچھا فیصلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور ہربار پاکستان کی شکست کی بڑی وجہ کپتان کی ”نادانی“ہے۔؟؟ لیکن میں اس بات سے قطعی اتفاق نہیں کرتا ہے کہ شعیب ملک ایک ناکام ترین کپتان ہے۔مگر ہاں…یہ سچ ہے کہ شعیب ملک ابھی ینگ ہے مگر یہ بات درست نہیں ہے کہ وہ کوئی انوکھا فیصلہ کرتا ہے یا اپنی مرضی کررہاہے بلکہ میرا ماننا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کے لوگ یا پھر چند ”سینئر“کھلاڑی شعیب ملک کے خلاف ایک تحریک چلا رہے ہیں جس میں ملک کو ایک ناکام اور کمزور ترین کپتان ثابت کرنے کی زبردستی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ گزشتہ کئی دنوں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ شعیب ملک کا کیا ہوا ہرفیصلہ الٹ ثابت ہورہا ہے حالانکہ وہ کوئی نادان یا پہلی بار کرکٹ نہیں کھیل رہا بلکہ ایک طویل عرصے سے وہ ٹاپ پلیئرز کے زیر سایہ کھیل چکا ہے اور اس میں آگے بڑھنے کی جستجو ہے اور مزید اچھا کرنے کی سوچ کا مالک ہے لیکن ہر بار اس کے کیے ہوئے فیصلے غلط ثابت ہونے کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ اس کے خلاف ایک مہم چلائی جارہی ہے جس کا مقصدشعیب ملک کو کپتانی سے فارغ کرانا ہے میرے خیال میں اگر ان میں باتوں میں صداقت ہے تو ایک بار پھر جیسے پاکستان ماضی کی طرف چلا گیا ہے ویسے ہی پاکستانی ٹیم گروپ بندی اور ایک محض لابی کا شکار ہوچکی ہے جس سے ٹیم بجائے آگے بڑھنے کے قریب زوال ہوتی جارہی ہے ایک اوربات جو سب سے زیادہ دکھ میں مبتلا کرتی ہے کہ اگر شعیب ملک میں اچھے فیصلے کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو ٹیم مینجمنٹ جس میں کپتان ،نائب کپتان، ٹیم مینجر اور کوچ شامل ہوتا ہے وہ اسے گائیڈ کریں اور اس کو مشورہ دیں مگر شاید تمام لوگ شعیب ملک کو ناکام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہی وجہ کہ اس کا کیا ہوا ہرفیصلہ غلط ثابت ہورہا ہے۔یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ میں گروپندی ایک مستقل حصہ ہے پہلے یہ بات پلیئرز کی محدود رہتی تھی لیکن اب اس میں سلیکٹرز بھی شامل ہوچکے ہیں اور اپنی پسند نا پسند کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
ٹیم انتظامیہ اور سینئر کھلاڑیوں کو خدارا یکجا ہوکر رہنا چاہیے اور سب کا ایک ہی نعرہ ہونا چاہیے ”سب سے پہلے پاکستان“کیونکہ وہ اپنی ذات کیلئے نہیں پاکستان کیلئے کھیل رہے ہیں ۔