اعجازوسیم باکھری:
آخرکیوں سنسنی خیزمرحلے میں پاکستان ٹیم کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور آخرکب تک فیلڈرز کیچز گراتے رہیں گے اور قوم کے جذبات کا تمسخر اڑایا جاتا رہے گا؟یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستان کی بھارت کیخلاف ایشیا کپ کے اہم میچ میں شکست کے بعد جواب طلب ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان نے میچ میں فائٹ کی اور جیت کیلئے کھلاڑی کوشاں نظرآئے لیکن وہ شائقین جو اپنی ٹیم کی جیت کیلئے دعائیں مانگتے ہیں اور سب کام کاج چھوڑ کر میچ دیکھتے ہیں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کرکٹ اچھی کھیلی گئی یا بری ، پاکستانی شائقین تو صرف اور صرف بھارت کیخلاف اپنی ٹیم کی کامیابی چاہتے ہیں اور کامیابی تب حاصل ہوتی ہے جب جیت کیلئے کوئی حکمت عملی بنائی جائے۔ شاہد آفریدی جب سے قومی ٹیم کے کپتان مسلط کیے گئے ہیں اب تک پاکستان چار میچز میں سنسنی خیز صورتحال میں آیا اور چاروں بار پاکستان کو شکست ہوئی۔ پہلی بار ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں نیوزی لینڈ کیخلاف عبدالرحمن آخرگیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے ،پھر انگلینڈ کیخلاف آخری اوور میں جاکر ناکامی ہوئی، پھر آسٹریلیا کیخلاف ہسی نے سعید اجمل کو چھکے لگاکر پاکستانیوں کے آرمان آنسومیں بہا دئیے اور گزشتہ رات بھارت نے ایشیا کپ میں ایک بارپھرسنسنی خیز مرحلے میں پاکستان کو شکست سے دوچار کردیا۔ کسی بھی کھیل میں ہار جیت لازمی چیز ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخرپاکستان ہی کیوں سنسنی خیز مرحلے میں پہنچ کر ہار جاتا ہے۔ ایک بار ہو تو ہم کہیں کہ چلیں کوئی بات نہیں ۔ لیکن بار بار ہی پاکستانی ٹیم اعصاب شکن مرحلے میں جاکر ہار جاتی ہے۔آخرکب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ممکن ہے کہ پاکستانی ٹیم کی حکمت عملی کی سمجھ ساری زندگی نہ آسکے لیکن یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ٹیم میں مناسب وقت پر اچھے فیصلے کرنے والوں کا فقدان ہے۔ بھارت کے خلاف میچ میں شعیب اختر نے ٹیم کی کامیابی کیلئے بھرپور محنت کی اور وہ ٹیم کا سب سے بڑا باؤلر تھا لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ رزاق سے صرف پانچ اوور کیوں کرائے گئے ؟ مائیکل ہسی سے سعید اجمل نے چھکے کیا کھائے کپتان صاحب کا سعید اجمل سے اعتبار ہی اٹھ گیا اور خوف کی وجہ سے اُس کے اوور جلدی پورے کرا دئیے ۔ جب آپ اس طرح بزدلی کا مظاہرہ کرینگے اور اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتو ں پر شک کرینگے تو آپ کو کیسے کامیابی ملے گی ؟ یہی بھارتی ٹیم زمبابوے کیخلاف دو میچز میں بری طرح شکست کھاکر لوٹی ہے کیا ہم زمبابوے سے بھی گئے گزرے ہیں کہ بھارت کو وہ ہرانے میں کامیاب رہے اور ہم بھارت سے ہی شکست کھا گئے۔شاہد آفریدی کو کرکٹ بورڈ نے کپتان تو بنا دیا ہے لیکن موصوف ابھی تک اپنی کپتانی کے جوہر نہیں دکھا پائے۔ بہترین کپتان وہی ہوتا ہے جو فیلڈنگ میں کھڑے ہوکر صحیح فیصلے کرے اورابھی تک مجھے کہیں نظرنہیں آیا کہ آفریدی نے گراؤنڈ میں کھڑے ہوکر کوئی بہترین فیصلے کیے ہوں اگر کیے ہوتے تو بھارت ، نیوزی لینڈ ،آسٹریلیا اور انگلینڈ کیخلاف آخری اوورز میں یوں ناکامی نہ ہوتی۔ شاہدآفریدی کے پرستار ہمیشہ مجھے سخت الفاظ میں اپنی رائے دیتے ہیں کہ میں بلاوجہ کپتان کیخلاف ہوں ، ایسا ہرگزنہیں ہے اور نہ ہی میں نے آفریدی پر کبھی بلاوجہ تنقید کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آفریدی مناسب فیصلوں میں تاحال ناکام چلا آرہا ہے کیونکہ گراؤنڈ میں کھڑے ہوکر فیصلے کپتان کو کرنا ہوتے ہیں اور آفریدی کو شکست کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔جہاں تک بھار ت کیخلاف میچ میں ناکامی کی بات ہے تو بری فیلڈنگ ہماری شکست کا سبب بنی ہے۔ محمد عامر ٹیم کے واحد کھلاڑی ہیں جن سے میری بہت اچھی فرینڈ شپ ہے ۔لیکن دوستی اپنی جگہ ، عامر کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں بھی محترم 19ویں اوور میں مائیکل ہسی سے بلاوجہ چوکے کھاگئے تھے اور گزشتہ روز ہربھجن سنگھ کے سامنے بھی عامر مکمل طور پر ناکام رہے اور فیلڈنگ کے دوران عامر نے گوتم گھمبیر کا آسان کیچ گرا کر اپنے کمزور فیلڈر ہونے کاثبوت پیش کیا۔ عامر کو بہت کم عرصے میں شہرت ملی ہے اور وہ آہستہ آہستہ ایک سٹار بنتا جارہا ہے لیکن یہ پاکستان کرکٹ ہے۔یہاں شعیب اختر سے لیکر محمد آصف اور وسیم اکرم سے لیکر وقاریونس جیسے بڑے کھلاڑیوں کو بھی ریڈ کارڈ دکھاکر سائیڈ لائن کردیا گیا اور اگرعامر اسی طرح غلطیاں کرتا رہا تو اُسے بھی باہر بٹھا دیا جائیگا اور اس غریب کی نہ تو وزیراعظم گیلانی کے بیٹوں سے دوستی ہے اور نہ ہی رحمن ملک سے تعلقات ہیں کہ باہر ہونے کے بعد پھر ٹیم میں لوٹ آئیگا۔ لہذا عامر کو اپنی کارکردگی پرتوجہ دینا چاہیے اور کوچنگ سٹاف کو بھی چاہیے کہ وہ فیلڈرز کو پریکٹس کرائیں کیونکہ فیلڈنگ پریکٹس اور ٹریننگ کرنے سے ہی درست ہوتی ہے۔
بہرحال: بھارت جیسے حریف کے ہاتھوں ایشیا کپ میں شکست اور ٹیم کا فائنل سے آؤٹ ہونا یقینی طور پر دکھ کا باعث بنا لیکن ٹیم مینجمنٹ کوسارا ملبہ شعیب اختر پر گرانے کی بجائے پوری ٹیم کی کمزریوں کو درست کرنا چاہئے کیونکہ جو غلطیاں دورہ آسٹریلیا میں کی گئی تھی وہی غلطیاں ٹونٹی ورلڈکپ میں بھی نظرآئیں اور اب ایشیا کپ میں بھی دہرائی جارہی ہیں ۔مینجمنٹ سازشیں کرنے اور سیاست کرنے کی بجائے اپنی ڈیوٹی پر توجہ دے اور کھلاڑیوں کو بھی چاہئے کہ شہرت کے خمار سے نکل کر کرکٹ کھیلا کریں کیونکہ پوری قوم کے جذبات ان کی کارکردگی سے وابستہ ہوتے ہیں لہذا ہمارے کھلاڑی اپنی قوم کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے حریف ٹیم سے کھیلا کریں تو اس میں اُن کی بھی بہتر ی ہے اور پاکستان کرکٹ کی بھی۔