اعجاز وسیم باکھری:
قومی سپرایٹ ٹونٹی ٹونٹی کپ کا میلہ راولپنڈی ریمز نے لوٹ لیا۔ فیصل آباد میں ہونیوالے آٹھویں ایڈیشن میں سہیل تنویر کی قیادت میں پنڈی ٹیم نے تمام بڑی ٹیموں کو آؤٹ کلاس کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ فائنل معرکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا مقابلہ تھا جوکہ ڈومیسٹک سطح پرکھیلا جارہا تھا لیکن شائقین اور کھلاڑی اس اعصاب شکن مقابلے میں پلکیں جھپکانا بھول گئے۔ فائنل میں کراچی ڈولفنز کی ٹیم فیورٹ تھی کیونکہ محمدسمیع کی قیادت میں ڈولفنزنے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی پیش کی تھی ، اوپنر رمیض راجہ جونیئر اور اسد شفیق جبکہ مڈل آرڈرز میں شاہ زیب حسن اور خالد لطیف نے پورے ٹورنامنٹ میں باؤلرز کے اعصاب سے سواری کی اور فائنل میں بھی یہ چاروں اپنے اپنے حصے کے رنز سکور بورڈ پر سجانے میں کامیاب رہے لیکن راولپنڈی کے اوپنرز اویس ضیاء کا بھی کوئی جوڑ نہیں تھا ، سعید انور کے سٹائل میں بیٹنگ کرنے اس لیفٹ ہینڈر نے اپنی ٹیم کو ٹائٹل جیتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن رپنڈی ریمز کی فتح کا کریڈٹ کپتان سہیل تنویر کوجاتا ہے جس نے سیمی فائنل میں اپنے ناتجربہ کار کھلاڑیوں کی مدد سے محمدیوسف ، کامران اکمل ، عمراکمل ، احمد شہزاد، ناصر جمشید اورصدف حسین جیسے نامور کرکٹرز کی موجودگی میں دفاعی چیمپئن لاہور لائنز کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ راولپنڈی کی کامیابی اور کراچی ، لاہور اور سیالکوٹ کی شکست سے یہ ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ محض چند بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے ، کراچی ٹیم کو اگر اپنے جوشیلے کھلاڑیوں پر مان تھا تو لاہور لائنز میں پاکستان کی آدھی انٹرنیشنل ٹیم کھیل رہی تھی جبکہ 5بار کی چیمپئن سیالکوٹ سٹالینز جسے فتوحات کی عادی کہا جاتا ہے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل پنڈی ریمز کے سامنے سب ریت کے دیوار ثابت ہوئے۔
فائنل میں ٹائٹل کافیصلہ سپراوور پر ہوا ، اس سے قبل راولپنڈی کو آخری گیند پر ایک رنز چیمپئن بننے کیلئے درکار تھا تاہم پاکستان انڈر19ٹیم کے سٹار رضا حسن کریز چھوڑنے کرشاٹ کھیلنے کی کوشش میں سٹمپ آؤٹ ہوگئے جس سے مقابلہ ٹائی ہوگیا۔ سپراوور میں پنڈی نے پہلے بیٹنگ کی اور کراچی کی جانب سے کپتان محمدسمیع نے ٹائی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے تجربہ کار باؤلر سہیل خان کو ترجیح دی۔ سہیل خان کے سامنے اویس ضیاء تھے جنہوں نے دو گیندیں ضیائع کرکے 16رنز بنائے۔ جواب میں کراچی کی جانب سے رمیض راجہ جونیئر اور خالد لطیف کو بیٹنگ کیلئے میدان میں اتارا گیا تو فاتح ٹیم کی جانب سے سہیل تنویر نے آخری گیند پر سٹمپ آؤٹ ہونیوالے لفٹ آرم سپنر رضا حسن کو اووردیکر اسے اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ رضا حسن کی پہلی گیند پرخالد لطیف کے بلند وبالا چھکے نے پنڈی کے کیمپ میں کہرام برپا کردیا لیکن اگلی ہی گیند پر خالدلطیف گگلی کو نہ سمجھ سکے اور کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ان کی جگہ جارح مزاج شاہ زیب حسن بیٹنگ کیلئے آئے لیکن وہ بھی رضا حسن کی قاتل گیندوں کو نہ سمجھ سکے اور بے بس کھڑے رہے ، سپراوور کے اختتام پر 16رنز کے جواب میں کراچی ڈولفزکی ٹیم کے سکور بورڈ پر صرف 7رنز تھے ، یوں راولپنڈی ریمز پاکستان کی نیشنل ٹونٹی ٹونٹی چیمپئن بن گئی اور پنڈی کی ٹیم پہلی بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرنے میں سرخرو ہوئی۔
پاکستان کے ”مانچسٹر“میں ہونیوالے ٹورنامنٹ میں شائقین کی دلچسپی کا اگر ذکرنہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ ٹورنامنٹ میں اپ سیٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کی کشش ہمیں بھی لاہور سے فیصل آباد کھینچ لے گئی ، اقبال سٹیڈیم پہنچ کر اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب سٹیڈیم کے باہر مین روڈ سے لیکر سٹیڈیم کے چاروں اطراف اور ان سٹیڈز میں شائقین کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جو دنیا کو چیخ چیخ کریہ پیغام دے رہا تھا کہ ہم دہشت گرد نہیں اور نہ ہی تخریب کار ہیں۔یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملہ ہوا اور پاکستان میں آئے روز دھماکے ہوتے ہیں لیکن اب حالات میں کافی بہتری آچکی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا جو لبرٹی واقعہ کے بعد لگاتار دوسال سے ڈومیسٹک سطح پر کامیاب ٹورنامنٹ کا انعقاد کررہا ہے۔ اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں ٹورنامنٹ کے آغاز سے لیکر اختتام تک ہرروز ہرمیچ پر جتنی تعداد میں شائقین سٹیڈیم کے اندر موجود نظرآئے اس سے کہیں زیادہ لوگ سٹیڈیم کے باہر ہمہ وقت موجود تھے۔ حالانکہ یہ پہلا موقع تھا جب ڈومیسٹک ایونٹ میں سٹیڈیم داخلے کیلئے ٹکٹ رکھی گئی لیکن اس کے باوجود تفریح کو ترستے شائقین نے پورے جوش و خروش سے اقبال سٹیڈیم کا رخ کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کو ان کی عمدہ کارکردگی پر سہراہا۔ پاکستان میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ لوٹ آئے گی کیونکہ کرکٹ پاکستانی عوام کے خون میں شامل ہے اور لوگ اس تفریح سے محروم نہیں رہنا چاہتے۔