اعجاز وسیم باکھری:
یہ دنیا فانی ہے اور ہر شخص نے اپنے مقررہ وقت پر لوٹ جانا ہے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی قدرو قیمت ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد معلوم ہوتی ہے جیسے آج پاکستانی لوگ کرکٹ کے حوالے سے باب وولمر کی کمی کو شدید محسوس کرتے ہیں ۔باب وولمر کون تھے ، کیا تھے ، کہاں سے آئے ، ان کی ڈیوٹی کیا تھی اور کیسے وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے یہ سب باتیں ہزاروں بار دوہرائیں جاچکی ہیں جن کو دوبارہ دہرانامیرے خیال میں خوداوردوسروں کو دکھ پہچانے کے مترادف ہے جس سے میں اجتناب کرنا چاہتاہوں اور نا چاہتے ہوئے بھی میں باب وولمر کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
ہم پاکستانی بھی کیا خوب لوگ ہیں جو شخص زندہ ہوتا ہے اس پر بے تحاشہ تنقید کرتے ہیں اور جو دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کی تعریف کرنا اب ہماری سوسائٹی کا حصہ بن چکا ہے یہی سب کچھ ہم نے باب وولمر کے ساتھ کیا ہے ،جب وہ حیات تھے تو بہت کم لوگ ایسے تھے جو باب وولمر کے بارے میں اچھے الفاظ ادا کرتے تھے مگر جب وہ اچانک دنیا سے رخصت ہوئے تو ایک عام شہری سے لیکر صدرمشرف تک تمام پاکستانیوں کی باب کی عظمت کا اعتراف کیا ان جذباتی پاکستانیوں میں ایک میں بھی شامل تھا جو باب وولمر کی زندگی کے دنوں میں انہیں پاکستان کرکٹ کیلئے ”نقصان دہ “سمجھتا تھا مگر آج پورے ایک سال بعد مجھے یہ شدت سے احساس ہورہا ہے گزشتہ 10سالوں میں اگر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو جو عرصہ باب وولمر کوچ تھے وہ سنہری دور کہلوانے کا درجہ رکھتا ہے اور بقیہ ادوار میں پاکستان کرکٹ الٹے قدموں پر چلتی رہی ہے جس کے اثرات آج کی کرکٹ میں بھی موجود ہیں۔باب وولمر کے دور کوچنگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں عالمی رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور بھارت کو اس کی سرزمین پر ہرانے کا سہرا بھی باب وولمر کے سر پر ہے جنہوں نے تمام ٹیم کو یکجا کرکے بھارت کے خلاف لڑایا اورپاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی وہ کوچنگ کی دنیا میں لیپ ٹاپ کلچر لائے اور کرکٹ کے کھیل کو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے میں بھی باب وولمر پیش پیش تھے وہ ہمیشہ خود اور اپنی ٹیم کو نمایاں رکھنے کی متمنی تھے جس کیلئے انہوں نے بے پناہ محنت بھی کی ایک قابل تعریف حد تک انہوں نے اپنے مقاصد بھی حاصل کیے مگر اسے قسمت کی ستم ظریفی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ورلڈکپ جیسے اہم ایونٹ میں باب وولمر پاکستانی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کا صدمہ نہ سہہ سکے اور اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آئرلینڈ کے خلاف شکست کھانے کے بعد بھی پاکستان کے بیشتر کھلاڑی مطمئن تھے اور ان کے چہروں پر ندامت کے اثار دکھائی نہیں دے رہے تھے مگر دوسری جانب باب وولمر کی بولنے کی صلاحیت ختم ہوچکی تھی یہاں تک کہ صحافیوں کی طرف سے سوال کرنے پر ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی جبکہ قومی ٹیم کے کھلاڑی اس ہارکو قسمت کا کھیل سمجھ کر اپنے اپنے کمروں میں جاکر دب گئے اورایک غیر ملکی کوچ ساری رات تڑپتا رہا اور اس نے اپنی جان دیکر پاکستانی قوم اور میرے جیسے ”یکطرفہ سوچ “کے مالک شخص کو اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ”میں تم پاکستانیوں سے ہزار درجے زیادہ تمھارے پاکستان سے محبت کرتا تھا“
باب کی موت کو ایک برس کا عرصہ بیت چکا ہے اس پورے ایک سال میں مجھے جب بھی باب وولمر کی یاد آئی تو بعض اوقات مجھے خودپر شدید غصہ بھی آجاتاہے کہ میں نے ہمیشہ باب وولمر پر تنقید کے پہاڑ توڑے تھے، کبھی ان کی عظمت میں چارلفظ بھی نہیں لکھے تھے، شعیب اختر کا معاملہ ہو یا ٹیم کی شکست ۔میں ہمیشہ باب وولمر کو ہی قصوروار ٹھہر اکر ان پر تنقید کی تمام حدیں پار کرجاتا تھا۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے کبھی باب وولمرکی زندگی میں ان کے بارے میں کوئی اچھا اور قابل تعریف لفظ لکھا ہو۔جب بھی پاکستانی اوپنرز ناکام ہوتے تھے تو میں باب کو قصور وار ٹھہرا کرتمام الزام انہیں پر عائد کرکے نجانے کس دشمنی کا بدلہ لیا کرتا تھا،باب وولمر جب حیات تھے تو مجھے ایک انجان سا خدشہ رہتا تھا کہ پاکستانی ٹیم انضمام اور وولمر کی سائے میں فتح حاصل کرنہیں کرسکتی۔میری اس یکطرفہ سوچ کا سلسلہ آئرلینڈ کے خلاف میچ میں شکست کے روز تک بھی جاری رہا جب پاکستان کے نام نہاد بلے باز ناتجربہ کارآئرش باؤلرز کو تحفے میں اپنی وکٹیں دے رہے تھے تو تب بھی میں پویلین میں بیٹھے باب وولمر کوقومی بلے بازوں کی لاپرواہی کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا،مگر جس آسانی سے پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنی وکٹیں گنوایں تومیرے دل و دماغ نے یہ تسلیم کرنا شروع کردیا کہ باب وولمر ایک عظیم کوچ ہیں اور یقیناً وہ اپنے شاگردوں کو ایسی لاپرواہی سے شارٹ کھیلنے کی تربیت نہیں دیتے ہونگے، مجھے شدت سے احساس ہوتاہے کہ میں نے باب کے بارے میں اپنے ذہن میں جو تصویر بنا رکھی تھی وہ یکسر غلط تھی اور وہ میری ناقص سوچ کا نتیجہ تھا کیونکہ باب وولمرجیسے ”جوہری “ کو دیکھنے کیلئے جس مردم شناش آنکھ کی ضرورت تھی شاید میں اس سے قاصر تھا مگر آج ایک سال بعد میں اس بات کا برملا اعتراف کرتا ہوں کہ باب وولمر کے بارے میں جو ہم سوچتے تھے وہ سب غلط تھا ۔
سچ تو یہ ہے باب وولمر کے چلے جانے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم حقیقتاً یتیم ہوکر رہ گئی ہے۔آج وہ کھلاڑی جو باب وولمر کی آنکھ کا تارہ تھے بورڈ کی جانب سے زخم کھانے کے بعد پاکستان سے باہر جاکر کرکٹ کھیلنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔آج کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نظر آتا جو باب وولمر کے دور میں دیکھنے کوملتا تھا اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی بکھر گئے ہیں اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل خطرے میں پڑھ چکا ہے جبکہ باب وولمر کے دور میں تمام کھلاڑی یکجا بھی تھے اور کرکٹ بورڈ بھی کھلاڑیوں کو اپنا اثاثہ سمجھ کر ان کا ہرطرح سے خیال رکھے ہوئے تھا مگر اب یہ تمام باتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ مجھے شدت سے باب وولمر کی عظمت اور ان کی دیانتداری کا احساس ہورہا ہے ۔وہ واقعی گریٹ انسان ، محنتی اور شفیق کوچ تھے مجھے ان کی موت کا دکھ ا ور اپنی غلطی پر پچھتاوا ساری زندگی رہے گا۔