اعجاز وسیم باکھری:
یہ تسلیم کرلینے میں کوئی قباحت نہیں کہ پاکستانی شائقین کرکٹ کیلئے یہ بات کسی خوشخبری سے کم نہیں کہ انتہائی غیریقینی صورت حال کے بعد پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں لوٹ آئی ہیں اور شائقین کرکٹ بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز بھرپور طریقے سے انجوائے کررہے ہیں گوکہ پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم ایک کمزور بنگلہ دیشی ٹیم ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصے بعد پاکستانی سٹار گرین شرٹس میں ایکشن میں نظر آئے اور سٹیڈیمزپاکستان زندہ باد اور جیوے جیوے پاکستان کے نعروں سے پھر سے گونج اٹھے ہیں۔پاکستان نے سیریز میں دو ایک سے برتری حاصل کررکھی ہے اور سیریز کا تیسرا میچ کھیلا جارہا ہے قومی ٹیم یہ میچ جیت کرسیریز اپنے نام کرسکتی ہے۔جہاں شائقین دوبارہ کرکٹ مقابلوں کے انعقاد سے خوش ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کی ناکامی اور ناقص انتظامات کا پول بھی کھل گیا ہے۔قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے میچ میں انتظامیہ کی غفلت سے تین مرتبہ سٹیڈیم اندھیرے میں ڈوب گیا۔
جہاں سیریز کے افتتاحی میچ میں قذافی سٹیڈیم میں تین بار بجلی کی بندش نے نہ صرف پاکستان کو جگ ہنسائی کا سبب بنایا بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کے تمام دعوے بھی کھوکھلے ثابت کردئیے وہیں فیصل آباد میں ہونے والے دوسرے میچ میں 25منٹ کی بارش کے پانی کو خشک کرنے کیلئے 3گھنٹے لگ گئے کیونکہ پی سی بی کی انتظامیہ نے لاہور سے جدید ترین سپر سوکر رولر فیصل آبادلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی، اسی لیے پانی کو خشک کرنے کیلئے انتہائی محدود سٹاف کو شدید دشواری کا سامنا کرناپڑا۔ گراؤنڈ سٹاف فوم کی گدیوں سے پانی کو خشک کرنے کی کوشش کرتا رہا اور بار بار انہیں نچوڑ کر پانی بالٹیوں میں ڈال کر سٹیڈیم سے باہر پھینکا گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پی سی بی اپنے ملازمین کی تنخواہوں پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتا ہے لیکن انٹرنیشنل میچز میں سٹیڈیم میں بہترین انتظامات کوبہتربنانے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس جدید ترین دور میں بھی پی سی بی پرانے دور کے طریقے اختیار کر کے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروا رہا ہے گر اؤنڈ کو خشک کرنے کے لئے جو بھونڈا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی اس سے قبل لاہور کے میچ میں تین بار بجلی کی بندش نے چیمپئنزٹرافی کے پاکستان میں انعقاد پر بھی کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔
دوسری جانب واپڈا نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایات کی ہے کہ وہ اتوار کوقذافی سٹیڈیم میں ہونے والے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تیسرے ون ڈے میچ کیلئے جنریٹرز کااستعمال کرے کیونکہ ملک میں جاری بجلی کے شدید بحران کی وجہ سے اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ دوران میچ لوڈ شیڈنگ پر کنٹرول رکھا جائیگا۔واپڈا کی طرف سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو لکھے گئے خط میں واضح الفاظ میں یہ کہا گیا کہ پی سی بی میچ کیلئے جنریٹرز کا انتظام کرے کیونکہ گزشتہ میچ بھی تین بار بجلی کی بندش سے میچ کو روکناپڑا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنریٹرز پر میچ کا انعقاد کیا گیا تو کم از کم 5لاکھ روپے ڈیزل پر خرچ ہونگے جوکہ غیر مناسب اقدام ہے تاہم واپڈا نے بورڈکو پہلے جنریٹرز اور دوسرے نمبر پر بجلی پر انحصار کرنے کی ہدایت کی ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تاہم فی الحال پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیر یز پر بات کی جائے تومیرا خیال ہے کہ پاکستان سیریز کے تمام میچز میں فتح حاصل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کا دورہ کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کم تجربہ کے مالک اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے تاہم کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے کہ جوٹیم مذکورہ دن اچھا کھیلتی ہے فتح اسی کا مقدرٹھہرتی ہے۔
ادھر دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز اور سابق کپتان یونس خان بنگلہ دیش کے خلاف جاری ون ڈے سیریز کے اگلے تینوں میچز سے دستبردار ہوگئے ہیں۔انہوں نے کرکٹ بورڈ سے نجی مصروفیات کا بہانہ بناکر اگلے میچز میں شرکت سے معذوری ظاہرکی جس پرکرکٹ بورڈ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے بقیہ میچز سے انہیں ریلیز کردیا۔واضح رہے کہ یونس خان ان دنوں کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں سے سخت ناخوش ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ آئی سی سی انٹی کرپشن یونٹ کی یونس خان سے جوئے اور میچ فکسنگ کے بارے میں تفتیش ہے۔یونس خان نے بنگلہ دیش کے خلاف افتتاحی ون ڈے میچ میں شرکت سے انکار کردیا تھا تاہم ٹیم منیجر اور کوچ جیف لاسن نے انہیں بمشکل گراؤنڈ میں اترنے پر راضی کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس خان فیصل آباد میں ہونیوالا دوسرا ون ڈے بھی نہیں کھیلنا چاہتے تھے کیونکہ یونس خان موقف ہے کہ آئی سی سی انٹی کرپشن یونٹ نے ان سے جس انداز میں تفتیش کی اور سوال جواب کیے وہ ناقابل برداشت ہیں۔آئی سی سی انٹی کرپشن یونٹ کے غیرشائستہ رویہ کی وجہ سے یونس خان نے ناچاہتے ہوئے بھی پہلے دو ون ڈے میچزمیں شرکت کی۔ تاہم اب وہ نجی مصروفیات کا بہانہ بنا کر بقیہ میچز سے دستبردار ہوگئے ہیں۔
شعیب اختر پر پابندی اور اب یونس خان کے انکار نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بری طرح اندرونی اور بیرونی خلفشارکا شکار ہے جس میں بجائے کمی آنے کے ہربدلتے دن کے ساتھ تیزی آرہی ہے اور مسائل میں اضافہ ہورہا ہے جس کو روکنے کی اشدضرورت ہے ۔تجزیہ نگاروں اور سینئر کھلاڑیوں کا موقف ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف تمام مسائل اور بحرانوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ جب سے انہوں نے بورڈ کی صدرات سنبھالی ہے تب سے پاکستان کرکٹ الٹے قدموں پر چل رہی ہے جس کی انتہافاسٹ باؤلر شعیب اختر پر پانچ سال کی پابندی کی صورت میں سامنے آئی اسکے علاوہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے سخت رویے کی وجہ سے پاکستان کے نوجوان کھلاڑی آئی سی ایل سے معاہدہ کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور لاہور بادشاہ کا قیام بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدروں کی ہٹ دھرمی اور ذاتی پسند نا پسند کا نتیجہ ہے جو پاکستان کرکٹ کو تباہی کی طرف لے جارہاہے۔سینٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے کھیل اور قومی اسمبلی کے ارکان ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب کے کام سے ہرگزمطمئن نہیں ہیں اور قومی امکان ہے کہ آنے والے چندہفتوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کوملے تاہم سابق کھلاڑی اورماہرین جلدازجلد اس تبدیلی کے متمنی ہیں کیونکہ مسائل میں روز بروز اضافے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ تباہی کے دہانے پر پہنچی چکی ہے اس سے قبل پاکستان کرکٹ میں کوئی اور طوفان برپا ہوکرکٹ بورڈ میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے کیونکہ اسی میں ہی پاکستان کرکٹ کا مفاد ہے۔