اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان نے بنگلہ دیش کو تیسرے ایک روزہ میچ میں شکست دیکر لگاتاردوسری ہوم ون ڈے سیریز جیت لی ہے۔قذافی سٹیڈیم میں حاصل کردہ اس جیت قومی کرکٹ ٹیم کی لگاتار 9ویں فتح ہے یہ فتوحات قومی ٹیم کی عالمی رینکنگ کو بہتربنانے میں تو اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ان فتوحات کو مدنظر رکھ کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کہ پاکستانی ٹیم ایک مضبوط ترین ٹیم بن چکی ہے کیونکہ مذکورہ فتوحات عالمی رینکنگ میں سب سے کم درجے کی ٹیموں کے خلاف حاصل کی گئی ہیں کیونکہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں جس کے باعث پاکستان نے دونوں ٹیموں کے خلاف فتوحات سمیٹیں،لیکن خوش آئندہ بات یہ ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں لوٹ آئی ہیں اورسیکورٹی کے حوالے سے پائے جانیوالے خدشات دور ہوچکے ہیں کیونکہ آسٹریلوی ٹیم کے انکار کے بعد پاکستان کرکٹ کی دنیا سے الگ ہوکر رہ گیا تھا تاہم بنگالی ٹیم کے آمد سے پاکستان میں ایک بار پر کھیلوں پر چھائے مایوسی اور غیریقینی کے بادل چھٹ چکے ہیں۔بنگلہ دیش کے خلاف جہاں پاکستان کی رینکنگ میں بہتری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے وہیں ناقص انتظامات نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کی”اہلیت“اور کھیل کی ترقی کیلئے کیے جانیوالے اقدامات کا پول بھی کھول دیا۔
پاکستان کرکٹ کی یہ ایک روایات ہے کہ ہرسیریز میں کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ضرورپیش آتا ہے،اس بار یہ واقعہ یونس خان کی بورڈ سے ناراضگی کی صورت میں پیش آیا جس کا اختتام یونس خان کے سیریز سے دستبردار ہونے کی صورت میں سامنے آچکاہے۔کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ مڈل آرڈر بیٹسمین نے اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے سیریز سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ یونس خان آئی سی سی انٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے نارواسلوک کیے جانے پر کرکٹ بورڈ سے سخت ناخوش تھے اور بمشکل پہلے دو ون ڈے میچز میں حصہ لیا اور اب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان یونس خان نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔اگر یونس خان کھیل سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں تو پاکستان کرکٹ ایک اور بحران کا شکار ہوجائیگی کیونکہ اس سے قبل عبدالرزاق ،محمد سمیع ،عمران فرحت،عمران نذیر اورحسن رضا جیسے نوجوان کھلاڑی بورڈ کے رویئے سے تنگ آکر باغی لیگ کھیلنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ فاسٹ بالر شعیب اختر بورڈ کی جانب سے پانچ سال کی پابندی کی سزا بھگت رہے ہیں اور اب یونس خان کی کھیل سے رخصتی کی اطلاعات یہ واضح پیغام دے رہی ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداربجائے کھیل میں ترقی کیلئے اقدامات کریں پاکستان کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ایک بعد ایک کھلاڑی کی اپنے عروج پر رخصتی سے قومی کرکٹ ٹیم نہ صرف بڑی ٹیموں کے خلاف شکست کھانے پر مجبور ہوچکی ہے بلکہ اب تو گرین شرٹس پہن کر پاکستان کی نمائندگی کے خواب دیکھنے والے نوجوان کھلاڑی یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ کیا ان کا اس ملک میں کوئی حق ہے یا نہیں۔ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو چلانے والے لوگ نہ صرف کھیل کے تمام رموز سے آشنا تھے بلکہ وہ پاکستان کرکٹ کو عروج پر لیجانے کیلئے ہروقت کوشاں رہتے تھے لیکن آج حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں اب بجائے کہ پاکستان کرکٹ کی ترقی کیلئے اقدامات کیے جائے اپنی ذاتی پسند کو ترجیح دیکر نااہلوں کو نوازا جارہا ہے اورمیرٹ کا خون کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کرکٹ کو ایک سے زائد بحرانوں کا سامنا ہے جن میں نمایاں قومی کھلاڑیوں کی بغاوت ہے جو محض عہدیداروں سے تنگ آکر بیرون ملک جاکر کھیلنے پر مجبور ہیں مگر کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اس قومی نقصان پر اپنی توجہ مبذول کرے۔انڈین کرکٹ لیگ میں اس وقت سے سب سے زیادہ 20پاکستانی کھلاڑی شرکت کررہے ہیں جن میں اکثریت نوجوان کھلاڑیوں کی ہے جو اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے آج بھی اہل ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی پہلی تنخواہ دار سلیکشن کمیٹی اور ضرورت سے زائد بھرتی کیے جانیوالے عہدیداروں نے محض ذاتی عناد کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو پہلے بغاوت پر مجبورکیا اور اب انہیں ڈومیسٹک کرکٹ سے کھیلنے پر روکے ہوئے ہیں ،دیگر جو ٹیم میں اس وقت کھیل رہے ہیں وہ بھی محض اپنی جگہ برقرار رکھنے کیلئے تمام تر باتیں فراموش کرکے خود کو ٹیم میں ”ان“رکھے ہوئے ہیں تاہم یونس خان جیسا کھلاڑی جو ماضی میں دوبار قومی ٹیم کی قیادت سے انکار کرچکا ہے وہ مزید غلامی سے تنگ کرآکر انتہائی سنجیدگی سے کھیل سے کنارہ کشی پر غور کررہا ہے جبکہ فاسٹ باؤلر شعیب اختر ”نسیم گردی “کا شکار ہوکر سائیڈلائن پر یبٹھا ہے۔اگر یوں ہی قومی کھلاڑیوں کی تذلیل کا سلسلہ برقرار رہا اور ذاتی پسند کو اولین دیکر میرٹ کو نظرانداز کیا جاتارہا تو بہت جلدپاکستانی ٹیم زمبابوین ٹیم بن کر رہ جائے گی اور گراؤنڈ میں اتارنے کیلئے گیارہ بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب مشکل ہوجائیگا۔