اعجاز وسیم باکھری :
شہرت بھی ایک عجیب نشہ ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شہرت کی نشے میں مدہوش ہونے کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہیں مگر اکثریت ایسی ہوتی ہے جو شہرت استعمال کرکے مزید شہرت حاصل کرنے کی خاطرکبھی کھبارایسی سرحدیں بھی پار کرجاتے ہیں جن کو پار کرنے کے بعدانہیں اپنی غلطی کااحساس ہوتا ہے اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔میں یہ تمام باتیں گزشتہ شب لاہور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھڑا سوچ رہا تھاجہاں کچھ دیر پہلے شعیب اختر نے ایپلٹ کمیٹی کے سامنے پوری قوم ، ساتھی کھلاڑی، کرکٹ بورڈ اور نسیم اشرف سے غیرمشروط معافی مانگی۔مجھے اس وقت تو شعیب اختر کا یہ فعل ہرگز پسندنہ آیا کہ ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلنے والا شعیب اختر اب کیوں بیک فٹ پر چلا جارہا ہے لیکن میں کچھ دیر کے بعد جب اپنے آفس واپس لوٹا تو وہاں خیرسے لائٹ نہیں تھی اوراندھیرے میں بیٹھ کر میں نے شعیب اختر کی جانب سے معافی مانگنے کے فیصلے پر غور کیا تومجھے یوں محسوس ہوا کہ شعیب اختر نے معافی مانگ کر اپنے بڑے پن کا مظاہرہ تو ضرور کیا لیکن اس نے اپنی معافی سے یہ پیغام دیا کہ وہ بہت سی غلطیوں کا مرتکب بھی رہا ہے تاہم اس کا کوئی ایک ایسا بھی جرم نہیں ہے جس پر اسے پانچ سال کی سزا دی جائے کیونکہ ایک فاسٹ باؤلر ہونے کے ناطے شعیب اختر عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہے جہاں ایک سال کھیل سے دور رہنے کے بعدبھی وہ کھیلنے کے قابل نہیں رہے گا اور پانچ سال کی سزا تو ایک بہت بڑی زیادتی ہے۔
شعیب اختر نے ایپلٹ کمیٹی کے سامنے قوم، کرکٹ بورڈ ،ساتھیوں کھلاڑیوں چیئرمین پی سی بی سے غیرمشروط معافی مانگتے ہوئے بظاہراپنے اوپر لگائے جانیوالے تمام الزامات کو درست قرار دیدیا ہے مگر دوسری جانب ایپلٹ کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر)فرخ آفتاب کا کہنا ہے کہ فاسٹ باؤلرکی اس طرح غیرمشروط معافی مانگ لینا پانچ سالہ سزا کے خلاف اپیل پر آنے والے فیصلے میں اب یہ چیز بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ ایک قومی ہیرونے معافی طلب کی ہے ۔بعدازاں جسٹس فرخ آفتاب نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شعیب اختر کی جانب سے مانگی گئی معافی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر اپنی حرکات پر شرمندہ ہے اور اس نے ہرایک سے معافی طلب کی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ اب کرکٹ بورڈ پر منحصر ہے کہ وہ فاسٹ باؤلر کو معاف کرتا ہے یا نہیں لیکن انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ یہ ایک ڈسپلن کی خلاف ورزی اور الزامات کا کیس ہے نہ کہ قتل کا ۔جس پر معافی دی جاناکوئی مشکل کام ہو ، انہوں نے کہاکہ ایک سٹار کھلاڑی نے جب روکرمعافی مانگ لی ہے تو یہ بہت اہم بات ہے جس کے سزا کے خلاف کے فیصلے پر بہت بڑے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔یہاں پر فرخ آفتاب کا اشارہ شعیب اختر کو معافی کی وجہ سے کچھ چھوٹ دئیے جانے کی طرف تھا مگر انہوں نے انتہائی تلخ لہجے میں یہ بھی کہا کہ محض معافی مانگنے پر کسی کو بری نہیں کیا جاسکتا اور ابھی کیس کی سماعت چل رہی ہے اور ہم تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس معافی والی اہم تبدیلی کو بھی اپنے فیصلے میں شامل کرسکتے ہیں۔فی الحال کیس کی سماعت 30اپریل دن گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔
قارئین…شعیب اختر نے معافی تو مانگ لی ہے مگر یہ معافی ان کی دوبارہ ٹیم میں واپسی کیلئے کتنا سودمند ثابت ہوتی ہے اس بارے میں کچھ واضح طور پر کہنا شایدفی الحال ممکن نہ ہو مگر اس معافی کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ شعیب اختر نے جہاں معافی مانگ کر اپنے چاہنے والوں کو غصہ دلایا ہے وہیں شعیب اختر نے معافی مانگ کر دانائی کا مظاہرہ بھی کیا ہے کیونکہ موجودہ حالات شعیب اختر کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے جو نسیم اشرف اور جوئے کے بارے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں پر الزام تراشی کی تھی وہ بالکل غلط ثابت ہوچکی ہے اس لیے شعیب اختر کیلئے اپنی سزا کو کم کرانے کیلئے معافی مانگنا ناگزیر ہوچکا تھا جس کیلئے اس نے قوم اور پی سی بی سے معافی مانگ کر ایک با ر پھر حیران کن قدم اٹھایا ہے ۔اب شعیب اختر کی دوبارہ ٹیم میں واپسی کرکٹ بورڈ کی جانب سے معافی کو قبول کرنے سے مشروط ہے اور اس سے بھی اہم ایپلٹ کمیٹی کافیصلہ ہوگا جس میں شعیب اخترکو چھوٹ ملنے کی توقع ہے مگر اس چھوٹ سے کم از کم فوری طور پرمجھے شعیب اختر کی ٹیم میں شمولیت نظر نہیں آتی، تاہم کچھ نہ کچھ ریلیف ملنے کی امید ضرور ہے ۔