اعجاز وسیم باکھری:
جب شعیب اختر پر پانچ سال کی پابندی کا اعلان کیا گیا تھا تو اس کے چندروز بعد ہی بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان کے دورے پر لاہور پہنچی تو قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے ایک پریس کانفرنس کی ۔دوران سوالات میں نے ان سے پوچھا کہ” پاکستان کرکٹ کی یہ ایک روایات ہے کہ ایک کمیٹی کھلاڑی کو سزا سناتی ہے تو دوسری اس کو بری کردیتی ہے ،کیا اس بار بھی یہی روایات دوہرائی جائیگی؟میرے اس اچانک سیدھے سوال پر وہ سٹپٹا کررہ گئے ۔اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شفقت نغمی نے کہا”جی نہیں۔یہاں جوبھی ہوتا ہے میرٹ پر ہوتا ہے ۔ اگر ہائیکورٹ کسی کو سزا سناتی ہے تو سپریم کورٹ کو اسے ختم کرنے کا حق ہوتا ہے “تو کیا ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط کہیں گے؟۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ شفقت نغمی صاحب جب یہ الفاظ ادا کررہے تھے تو ان کے چہرے پر پریشانی کے اثار نمایا ں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ شعیب اختر پر نسیم اشرف نے اپنے ذاتی اختلافات کی بنا پر پانچ سال کی پابندی عائد کی ہے جسے ممکن ہے آنیوالے دنوں میں نئی کمیٹی ختم کردیگی۔جس کی ابتدائی جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب ایپلٹ کمیٹی اور کرکٹ بورڈ نے مشترکہ طور پر یہ اعلامیہ جاری کیا کہ شعیب اختر آئی پی ایل کھیلنے کیلئے کلیئر ہے اور کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کو آئی پی ایل کا حصہ بنانے کیلئے اس کی مدد کرنے کا بھی اعلان کیا۔بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شعیب اختر اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پاکستانی کلر کی شرٹ نہیں پہنیں گے مگر میرے خیال سے شعیب اختر بہت جلدٹیم کا حصہ ہوگاجس کی پہلی کڑی اس کی آئی پی ایل میں شرکت ہے ۔
قارئین کرام :یہ پاکستان کرکٹ کی اب روایات بن چکی ہے کہ ایک کمیٹی کھلاڑیوں کو سزا سناتی ہے تو دوسری اسے ختم کردیتی ہے یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ جو کمیٹی کسی کھلاڑی کو سزا سناتی ہے اس کا تعلق کرکٹ بورڈ سے ہوتا ہے یعنی پی سی بی کے تنخوا ہ دار ملازم کھلاڑیوں کو سزا سناتے ہیں اور غیرجانبدار لوگ ان سزا ؤں کو ختم کرکے کھلاڑیوں کو عزت فراہم کرتے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔جو بات سب سے زیادہ افسوسناک ہے وہ کرکٹ بورڈ کی جانب سے اپنائی جانیوالی دوغلی پالیسی ہے جس میں شعیب اختر کو آئی پی ایل میں ہرطرح سے سپورٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ شعیب اختر نے دو روز قبل نسیم اشرف سمیت سے پوری قوم سے معافی طلب کی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کچھ لو اورکچھ دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس میں شاید دونوں کا فائدہ ہے۔کیونکہ شعیب اختر کو آئی پی ایل میں کروڑوں روپے ملنے ہیں اور نسیم اشرف صاحب اور ان کے ساتھیوں کو شعیب اختر کیس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے یہاں تک انہیں قومی اسمبلی میں اپنی تنخواہ کی لسٹ اور بجلی پانی کے بل تک پیش کرنے پڑے۔مگر اس وقت یوں محسوس ہورہا ہے کہ دونوں پارٹیاں رضامندی پر راضی ہوگئی ہیں اور ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دوسری جانب ایپلٹ ٹریبونل نے شعیب اختر پر فوری طور پر پابندی ہٹانے کا توفیصلہ نہیں کیا مگر اسے آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت دیدی۔اور مزید کارروائی یہ کہہ کر ایک ماہ کیلئے مئوخر کردی گئی ہے کہ شعیب اختر اب آئی پی ایل میں مصروف ہونگے لہذا اسی وجہ سے ایک ماہ تک کیس کی سماعت ملتوی کی جارہی ہے ایپلٹ ٹریبونل کے اس اقدام کی وجہ سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں اور مجھے یہ اقدامات کسی خفیہ ڈیل کا نتیجہ لگتے ہیں۔ بظاہرتو یوں لگ رہا ہے کہ شعیب اختر شاید ہی کرکٹ میں واپس لوٹ سکیں جس کی پہلی کڑی آئی پی ایل کا کلیئرنس کے بعد کا موقف ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ شعیب اختر کو کلیئر کرنے کے باوجودبھی آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی مگر جہاں تک مجھے لگتا ہے ایپلٹ ٹریبونل نے شعیب اختر کی معافی کے بعد کرکٹ بورڈ سے اس بات کی گارنٹی لی ہے کہ وہ فاسٹ باؤلر کو آئی پی ایل میں شامل کرائے کیونکہ کرکٹ کھیلنا اور پیسے کمانا شعیب اختر کا بنیادی حق ہے جس سے اسے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے اسی لیے پی سی بی نے گارنٹی دی ہے کہ شعیب اختر آئی پی ایل کا حصہ ضروربنیں گے ۔
پی سی بی کے اس اقدام سے یہ پیغام مل رہا ہے کہ کرکٹ بورڈ کی اس کیس میں پوزیشن کمزور ہورہی ہے ۔کیونکہ اگر شعیب اختر ڈسپلن کا پابندنہیں تھا اور اس نے قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں تو اسے ہرصورت میں کھیل کے میدان سے دور رکھنا چاہیے تھا جیسے ماضی میں سلیم ملک کو دور رکھا گیا ۔سلیم ملک کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ اس کی موجودگی سے کرکٹ کو نقصان پہنچتا ہے جس پر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کرکٹ سے آؤٹ کردیاگیا اوراب شعیب اختر کے بارے میں بھی نسیم اشرف صاحب نے کہا کہ شعیب کی موجودگی پاکستان کرکٹ کیلئے نقصان دہ ہے مگر اسے آئی پی ایل کی اجازت دے دینا اور بھارتی کرکٹ بورڈ سے باقاعدہ شعیب اختر کو آئی پی ایل کا حصہ بنانے کا درخواست کرنا اس جانب واضح اشارہ ہے کہ شعیب اختر اور بورڈ کے درمیان مفاہمت کی فضا قائم ہوگئی ہے اور ”کچھ لو ،کچھ دو “کی پالیسی پر مکمل طور پر عمل کیا جارہا ہے ورنہ اگر شعیب اختر کرکٹ کیلئے نقصان دہ تھا اسے آئی پی ایل کیلئے بھی ہرگز سپورٹ نہیں کرنا چاہیے اور اگر اسے بھارت میں جاکرکرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو پاکستان میں اس پر کس بنیاد پرپابندی برقرار رکھی جارہی ہے ؟۔کرکٹ بورڈ کی یہی دوغلی پالیسی پاکستان کرکٹ کو جڑ سے کھوکھلا کررہی ہے ۔اسی شعیب اختر کیس پر مجھے سینکڑوں ای میل موصول ہوئیں ہیں جس میں تمام لوگوں نے ایک ہی سوال پوچھا کہ آخرکب تک ہم یوں اپنے ہیروز کو اپنے ہی ہاتھوں ذلیل و خوارکرتے رہیں گے اور کب تک یوں پاکستان جگ ہنسائی کا سبب بنتا رہے گا۔؟موجودہ صورت حال کے پیش نظر کم از کم میں ان سوالوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ ہم پاکستان سے محبت کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر کبھی اپنی ذات پر پاکستان کو ترجیح نہیں دی۔جب ہم اپنی ذات کی بجائے اپنے ملک اور اس کی عزت و وقار کو ترجیح دینا شروع ہوجائیں گے تو تب یہ سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔