اعجازو سیم باکھری:
بالآخر وہی ہوا جس کا نہ صرف گزشتہ کئی روز سے خدشہ تھا بلکہ اب تویہ پاکستان کرکٹ کی ایک روایات بھی بن گئی ہے کہ ایک کمیٹی سزا سناتی ہے تو دوسری اسے معطل کردیتی ہے ،اب یہ فیصلہ کرنا شاید مشکل ہے کہ کونسی کمیٹی غلط فیصلہ کرتی ہے… سزا دینے والی یا سزا ختم کرنی والی؟۔بہر حال جو بھی ہے لیکن یہ بات واضح طور پر سامنے آچکی ہے کہ شعیب اختر نے کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کو یہ باور کرادیا ہے ان کی پہچان شعیب اختر ہے وہ شعیب اختر کی پہچان نہیں ہیں۔جس روز پی سی بی کے ”بڑے“اس حقیقت کو تسلیم کرلینگے اس دن سے پاکستان کرکٹ ترقی کی راہ پر چل پڑے گی ورنہ یوں ہی کھلاڑی بھی دھکے کھاتے رہیں اور افسران بھی جگ ہنسائی کا سبب بنتے رہیں گے۔
اس بات سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شعیب اختر ہمیشہ خبروں میں رہنے والا کرکٹر ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ ایک فتح گر کھلاڑی ہے،شعیب کے چاہنے والوں کیلئے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے کہ ا س پر عائدپانچ سالہ پابندی اگلے ایک ماہ کیلئے معطل کردی گئی ہے اور وہ اگلے ایک دو روز تک کولکتہ نائٹ رئیڈرز کی جانب سے ایکشن میں نظر آئینگے۔گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہنگامی سماعت کے بعدفاسٹ باؤلر پر عائد 5سالہ پابندی کے خلاف دائرکردہ اپیل کی سماعت کرنیوالے تین رکنی ایپلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس (ر)آفتاب فرخ نے پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے شعیب اختر کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے فاسٹ باؤلر پر 4جون تک گزشتہ کمیٹی کی جانب سے سنائی گئی 5سالہ پابندی کی سزا کو معطل کردیا ،جسے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قبول کرتے ہوئے سزا معطل کرنے پر اعتراض کرنے سے گریز کیاہے۔فاسٹ باؤلر شعیب اختر جنہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سال تک پاکستان کی جانب سے اور پاکستان کے اندر ہرطرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی کا سامنا تھا وہ اس پابندی کی وجہ سے آئی پی ایل کھیلنے سے بھی محروم ہوگئے تھے کیونکہ آئی پی ایل نے موقف اختیار کیا تھاکہ کوئی بھی کھلاڑی جسے اپنے ملک کی جانب سے کھیلنے پرپابندی لگی ہو وہ آئی پی ایل کا حصہ نہیں بن سکتا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایپلٹ ٹربیونل کی جانب سے واضح طور پر شعیب اختر کو بیرون ملک کرکٹ کھیلنے کیلئے کلیئرکرنے کے باوجودبھی آئی پی ایل نے فاسٹ باؤلر کو بھارت میں سجے کرکٹ میلے میں شرکت کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا ،جس پر شعیب اختر نے ایپلٹ ٹریبونل سے درخواست کی کہ پی سی بی کی جانب سے لگائی جانیوالی پابندی کی وجہ سے اسے آئی پی ایل نے کھلانے سے انکارکردیاہے جس سے انہیں مالی نقصان پہنچ رہا ہے ،اس درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایپلٹ ٹریبونل نے لاہور میں ہنگامی اجلاس بلایااور شعیب اختر کی سزا کو ایک ماہ کیلئے معطل کردیا ۔سماعت کے بعد پریس کانفرنس میں ایپلٹ کمیٹی کے سربراہ جسٹس آفتاب فرخ کا کہنا تھا کہ شعیب اختر پر پہلی کمیٹی نے پاکستان میں اور پاکستان کی طرف سے کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی اگر اس فیصلے کی وجہ سے شعیب کو بیرون ملک کھیلنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو یہ دوگنی سزا بن جاتی ہے اس لیے ایک ماہ تک شعیب اختر پر سے پابندی ہٹائی گئی ہے اور یہ فیصلہ محض آئی پی ایل کیلئے شعیب اختر کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے فیصلے کی کاپی شعیب اختر خود لیکر آئی پی ایل حکام کو پیش کرینگے ۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹریبونل کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے سے گریز کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ چار جون کے بعد وہ کمیٹی سے فاسٹ باؤلر پر عائد پابندی کو پانچ سال تک برقرار رکھنے کی سفارش کرینگے۔
قارئین کرام:مجھے تو بھی یہ سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب شعیب اختر کے مخالف ہیں یا ہمدرد…ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ شعیب اختر کرکٹ کیلئے نقصان دہ ہے دوسری جانب وہ اسے آئی پی ایل کھلانے کیلئے بھارتیوں کے ترلے منتیں کررہے ہیں اور اب ایپلٹ کمیٹی نے فاسٹ باؤلر کی سزا معطل کردی ہے توتب بھی وہ خاموش ہیں حالانکہ انہوں نے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے کھیل کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اگر شعیب اختر کی سزا ختم کی گئی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائینگے لیکن ابھی تک انہوں نے اس کا اعلان نہیں کیا جس کے سب لوگ منتظرہیں۔نجانے مجھے کیوں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کچھ عرصے بعد ہم شعیب اختر کو تو ٹیم میں دیکھ رہے ہونگے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ کرتا دھرتا شاید ماضی کا حصہ بن چکے ہونگے۔کاش ایسا ہو…اگر ایسا ہوگیا تو یہ پاکستان کرکٹ کے مفاد میں ہوگا شعیب چاہیے ٹیم میں واپس آئے یا نہ مگر پی سی بی کی اندر تبدیلیاں ناگزیر ہوچکی ہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اگر فوری طور پر اہم فیصلے نہ کیے گئے تو یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ میں شعیب اختر ایشو اور لاہور بادشاہ جیسے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائیگا۔