اعجاز وسیم باکھری :
ہم پاکستانیوں سے اللہ تعالیٰ اس قدر ناراض ہیں کہ بڑی مشکلوں سے لیٹروں سے جان چھڑائی تھی لیکن اب لگتا ہے کہ ڈاکوملک پر قابض ہوتے جارہے ہیں اس سے یہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی تک بھی ہم سے راضی نہیں ہوئے ورنہ اللہ جس قوم پر راضی ہوتا ہے اسے اچھے حکمران عطا کردیتا ہے اور جس سے ناراض ہوتا ہے ان پر ظالم اور لاپرواہ حکمران مسلط کردیتا ہے ۔جو کہ شاید اس وقت پاکستان پر قابض ہوتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں ۔ملک میں پھیلی لاقانونیت اور ناانصافی کا شکار محض غریب عوام اور چھوٹا طبقہ ہی نہیں قومی ہیروز بھی ہیں جن کو ذلیل و خوار کرنے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے کیونکہ ریاست کے بڑے جب قانون توڑتے اور جوڑتے ہیں تو ملکی اداروں کو چلانے والے عہدیداروں کی بھی اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ بھی اپنی من مانی کرنے لگتے ہیں جس سے پورا ملک ناانصافی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔آج پاکستان کے تمام ادارے خواہ وہ پی آئی اے ہو یا پی ٹی سی ایل ،واپڈا ہویا سٹیل ملز تمام کے تمام دیوالیہ ہوچکے ہیں اور تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اپنی من مانی کرنا اور لوٹ مار کرنا ہے جس سے تمام ادارے برباد ہوکر رہ گئے ہیں۔جہاں یہ ادارے تباہ و برباد ہوچکے ہیں وہیں کھیلوں کا شعبہ بھی کیسے محفوظ رہ سکتا تھا۔یارلوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کھیلوں کے اداروں کو بھی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آج پاکستان دنیا بھر کے تمام کھیلوں میں ایک شکست خودہ ملک بن کررہ گیا ہے۔کرکٹ کو پاکستانی قوم بے حدپسند کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے ہاکی قومی کھیل ہونے کے باوجودبھی کرکٹ جیسی عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا مگر آج کرکٹ بورڈ کے گرد گھومتی سیاست اور دوغلی پالیسی نے پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں بھی زوال پذیر کردیا ہے اور حالات تیزی سے تباہی کی جانب سے بڑھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ملک کے وقار کو خاطر میں لا کرکوئی اچھا اقدام کرنے کیلئے آگے بڑھے سبھی لوٹ مار کرنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کررہے ہیں۔آج حالات یہ ہیں کہ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں تاریخی فتوحات دلانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ مجرموں والا سلوک کرکے ان پر پابندی عائد کی جارہی ہیں اور اہل اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنا تو درکنار فسٹ کلاس کرکٹ سے بھی دوررکھا جارہا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کی یہ ایک خوش قسمتی ہے کہ اسے ہردورمیں عمدہ اور میچ ونر آل راؤنڈرز کا ساتھ میسر رہا ہے مگر گزشتہ ایک سال سے یہ سلسلہ رکا ہے اور پاکستانی ٹیم میں کوئی مستند آل راؤنڈرز نظر نہیں آرہا اور اگر بیک اپ پر بھی نظر دوڑائی جائے تو کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو عبدالرزاق کی جگہ لے سکے جو محض اس لیے قومی ٹیم سے باہر ہے کیونکہ اس نے ایک بارٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر قومی ٹیم کے چیف سلیکٹرز سے خود کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ پوچھ لی تھی جس کی اسے تاحال سزا دی جارہی ہے۔ عبدالرازق کا شماردنیا ئے کرکٹ کے انتہائی مستند آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے جو اپنی جارحانہ بیٹنگ اور نپی تلی میڈیم فاسٹ بولنگ کی بدولت ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے وہ قومی سلیکٹرز کیلئے ایک ناپسندیدہ ترین چہرہ بن چکا ہے اورآج جس ٹیم کیلئے رزاق نے بے پناہ فتوحات حاصل کیں تھیں اسی ٹیم میں رزاق نام کی کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ بورڈ کے عہدیداروں نے اسے شجر ممنوعہ قرار دیکر ہمیشہ کیلئے سائیڈ لائن کردیاہے مگر رزاق نے ہمت نہیں ہاری اور وہ آج بھی قومی ٹیم میں واپسی کا منتظرہے ۔عبدالرزاق کو جس ایونٹ کیلئے بلاوجہ ڈراپ کیا گیا تھا رزاق نے اسی ایونٹ یعنی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرکے ناقدین کا منہ بند کردیئے مگر اس کے باوجود کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اسے ٹیم میں شامل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو ۔آئی سی ایل ٹونٹی ٹونٹی کے دوسرے ایونٹ میں بھی رزاق کی کارکردگی سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ ہرطرح کی کرکٹ کیلئے ایک مستند کھلاڑی ہے جو اپنی ٹیم کی فتح کیلئے جان لڑا دیتا ہے مگرافسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار نہ جانے رزاق اور عمران فرحت جیسے کھلاڑیوں سے کونسی پرانی رنجش کا بدلہ لے رہے ہیں کہ ان کیلئے قومی ٹیم کے دروازے بند کررکھے ہیں حالانکہ اگر مشاہد نظروں سے دیکھا جائے تو اس میں رزاق یا عمران فرحت کا نہیں پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔اگرکپتان شعیب ملک اور رزاق کی کارکردگی کا آپس میں موزانہ کیا جائے تو میڈم پیسر آل راؤنڈر کو قومی ٹیم کے کپتان پر حددرجہ فوقیت حاصل ہے مگر شعیب ملک کے پیچھے بہت بڑی طاقتیں ہیں جو اسے ناکام ہونے کے باوجود بھی ٹیم میں بطور کپتان مسلط کیے ہوئے ہیں مگربدقسمتی سے رزاق ان طاقتوں کے سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ہے لیکن بطور کھلاڑی وہ ان ٹیم دشمن قوتوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن پورے ملک میں جس طرح لاقانونیت عروج پر ہے ویسے ہی پاکستان کرکٹ پر ناانصافی کے آسیب کا سایہ ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔اگر شعیب اختر کو سیاسی پریشر کی وجہ سے ”بری “کیا جاسکتا ہے تو یہ حق عبدالرزاق ،عمران فرحت ،توفیق عمر، محمد سمیع اور عمران نذیر کو بھی دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ بھی اسی ملک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں این آر او آئین کا حصہ بن چکا ہے اور ڈاکولٹیرے این آر او کی آڑ میں اربوں روپے ہڑپ کرکے اور آئین کا جنازہ نکال کرمزے لوٹ رہے ہیں وہاں قومی کھلاڑیوں کو بھی این آر او سے مستفید ہونے کا موقع دیا جائے۔