تحریر:اعجاز وسیم باکھری:
پیسہ ایک ایسی لت جو کسی بھی شریف اور ایماندار شخص کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے مگر بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود کو اس لت سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔کرکٹ کی دنیا میں شارجہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جہاں ریکارڈز تعداد میں 100سے بھی زائد ایک روزہ میچز کھیلے جاچکے ہیں تاہم اب وہاں کرکٹ پر پابندی لگ چکی ہے کیونکہ وہ دنیا میں جوئے کے سب سے بڑے اڈے کا روپ اختیار کرچکاتھا۔اُس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیا ن ہونے والے میچز پر سٹے بازوں نے دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں کو میچ فیس اور جیتنے پر ملنے والی انعامی رقم سے کہیں زیادہ پیسہ دیکر جوئے کی لت میں دھکیل دیا تھاجہاں وطن سے غداری کرنے والوں کھلاڑیوں کی لمبی سی لائن تھی وہیں اس لعنت کے خلاف جہاد کرنے والے بھی تھے ان میں سابق وکٹ کیپر راشد لطیف اور عاقب جاوید کانام نمایاں ہے ۔جنہوں نے جوئے کے خلاف آواز اٹھائی جس کے جواب میں ان دونوں کو ٹیم سے دور رکھا جانے لگا اور ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جانے لگے۔جب 1994میں ایک بار عاقب نے پاکستانی ڈریسنگ روم میں یہ بات محسوس کی کہ جواء یہاں تک پہنچ چکا ہے تو انہوں نے تمام کھلاڑیوں کو قرآن پر حلف لیکر گراؤنڈ میں اترنے کو کہا یہیں سے عاقب کا کیر ئیر بکھر گیا اور اسے آنے والوں دنوں میں بغیر کی کسی جواز کے ٹیم سے دور رکھا جانے لگا۔یہ سلسلہ 1999تک برقرار رہا اورآج ان کی عمر 34برس ہے اگر انہیں مزید موقع دیا جاتا تو اس بات میں کوئی بعید نہیں کہ وہ آج دونوں طرز کی کرکٹ میں 300تین سو وکٹوں کا حدف پارکر چکا ہوتے ۔عاقب جاوید کرکٹ سے اب بھی وابستہ ہیں وہ کھیل سے علیحدہ نہیں ہوئے وہ کبھی مبصر ،متنظم، سلیکٹر اور کوچ کے طورپر کرکٹ کی تعمیر و ترقی کیلئے سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔
چھوٹے شہر سے آکر اور بہت کم عرصے میں کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہونے والے عاقب جاوید نے 2ڈبلیوز کی موجودگی میں پاکستان کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کی اور ایک وقت ایسا آیا جب وہ قومی سکواڈ کی ضرورت بن کر رہ گئے ۔عاقب جاوید کو اگرچہ بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا تاہم انہوں نے خود کو ایک معیاری عمدہ تیز بالر کے طور پر منوایاجو کہ وسیم اور وقار کی موجودگی میں کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اگر مشاہد نظروں سے دیکھا جائے تو 2 ڈبلیوز ہی تھے جن کی ریکارڈ ساز پرفارمنس کے سامنے عاقب پھنس کر رہ گیاتھاپھر ایک وقت ایسا آیا جب محض 26برس کی عمر میں انہیں کھیل سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی جو کہ عاقب کیلئے ایک انتہائی کھٹن ، درد ناک اور دل دہلا دینے والا فیصلہ تھا۔
عاقب جاوید نے 5اگست 1972کو شیخوپورہ کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ان کا چار بھائیوں اور دو بہنوں میں دوسرا نمبر ہے۔ا ن کے والد چوہدری عبدالجبار چونکہ ایک کاروباری آدمی تھے لہذا گھر میں کرکٹ کا شوق بہت زیادہ نہیں تھا ۔یہ وہ زمانہ تھے جب چاروں طرف عمران خان کی بولنگ کے چرچے تھے اورہر نوجوان عمران خان کی بولنگ کے سحر میں مبتلا تھا عاقب کی خوشی قسمتی کہ وہ محض 12سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کامیاب ہوگئے اور پھر جیسے ہی وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں آئیغ ویسے ہی قسمت کی دیوی ایک بارپھر ان پر مہربان ہوئی اور وہ 1989کے اوائل میں قومی ٹیم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہیں پہلی بار عمران خان کی قیادت میں دورہ آسٹریلیا کے لیے منتخب کیا گیا ۔وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتا رہا ۔1992کے ورلڈ کپ کے فائنل میں مشتاق احمد کی گیند پر عاقب نے گراہم گوچ کا ایک انتہائی مشکل کیچ لیکر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا اور آج بھی لوگ وہ کیچ یاد کرکے عاقب کی خوبصورت ڈائیو کو سہراتے ہیں۔وہ یقینی طور پر ایک باصلاحیت اور اعلی معیار کا بولر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مستند فیلڈر بھی تھے جنہوں نے کم عمری میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔عاقب جاوید عمدہ رن اپ بھرپور ایکشن اور زبردست لائن لنتھ پر گیند کرانے کے ماسٹر تھے اور ان کا سب سے بڑا خطر ناک ہتھیار ان کی ریورس سوئنگ گیندیں تھیں جو کہ کسی بھی نامور بلے باز کو گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کردیتی تھیں۔
عاقب جاوید نے 1989سے لیکر1999تک دس برس تک قومی ٹیم کی نمائندگی کی اس عرصے میں اسے محض22ٹیسٹ میچوں میں مواقع فراہم کیا گیا جس کے وہ قطعی حقدار نہیں تھے تاہم اس کے باوجود انہوں نے جن میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی اپنی کارکردگی کے بھر پور جوہر دکھائے ۔وہ اپنے کیرئیر میں 163ون ڈے میچز میں 182وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔آج عاقب جاوید پاکستان کرکٹ کی ترقی کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کرنے میں مصروف ہیں جو یقینی طور پر آنے والے دنوں میں پاکستان کرکٹ کا نام روشن کرینگے۔بقو ل عاقب جاوید کے کہ اتنے کم میچز کھیلنے پر انہیں کوئی دکھ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنا کیرئیر داؤپر لگا کر کرکٹ جیسے شرفاء کے کھیل میں پھیلنے والے جوئے کے کینسر کے خلاف جہاد کیا ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں اس جہاد میں فتح نصیب ہوئی اور انہیں ان کی قربانی کا ثمر بھی مل چکا ہے۔