اعجاز وسیم باکھری:
بنگلہ دیش میں جاری تین ملکی کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوسرے میچ میں بھارت نے پاکستان کو کھیل کے تمام شعبوں میں آؤٹ کلاس کرکے اپنی برتری ثابت کردی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کو بھارت کو ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل سے لیکر دورہ بھارت کے دوران بھی قومی ٹیم شکستوں کے بھنور میں پھنسی رہی اور اب بنگلہ دیش میں ہونیوالی تین ملکی سیریز میں بھی پاکستانی ٹیم جو اس سے پہلے لگاتار 12میچز جیت چکی تھی اور خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستان بھارت کو شکست دیکر فتوحات کے تسلسل کو برقرار رکھے گا لیکن یہ تمام باتیں غلط ثابت ہوئی اور پاکستانی ٹیم میرپور میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔پورے میچ میں ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں پاکستان میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔تمام وقت ہندوستانی کھلاڑی چھائے رہے اور یہ سلسلہ 140رنز سے فتح حاصل کرنے تک جاری رہا۔بھارت نے ٹاس جیت کر گیلی وکٹ پر پہلے خود بیٹنگ کرنے کافیصلہ کیا تو پہلی وکٹ کے حصول کیلئے پاکستانی گیندبازوں کو 21اوورز تک طویل انتظار کرنا پڑا جب وہاب ریاض نے 155کے مجموعی سکور پر پاکستان کو پہلی کامیابی دلائی۔بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ50اوورز میں پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے 331رنز کا ہدف دیا۔بھارتی بیٹسمین اس انداز میں بے رحمانہ طریقے سے بیٹنگ کررہے تھے جیسے وہ پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو یہ احساس دلارہے ہوں کہ شعیب اختر اور محمدآصف کے بغیر آپ کا بولنگ اٹیک کسی واجبی سے بولنگ اٹیک ساہے تاہم اب شاید پاکستان کو ایک طویل عرصہ محمد آصف اور شعیب اختر کی خدمات حاصل نہ ہوسکے کیونکہ دونوں آف دی فیلڈسرگرمیوں کی وجہ سے سائیڈ لائن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شعیب اختر کا کیس تو ذاتی بنیاد پر بنایا گیا ہے تاہم محمد آصف دبئی میں منشیات رکھنے کی جرم میں اسیری کاٹ رہے ہیں نجانے کب وہ رہاہوتے ہیں لیکن کل کے میچ سے یہ ضرور ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کے پاس فاسٹ بولنگ کا بیک اپ موجود نہیں ہے اور عمر گل اور سہیل تنویراکیلے کچھ نہیں کرسکتے ۔بھارت کے خلاف وہاب ریاض سے امیدیں وابستہ تھیں تاہم بڑے میچ کا پریشر ہونے کی وجہ سے وہاب اپنی لائن و لینتھ برقرار نہ رکھ سکے اور 9.2اوورز میں 86رنز دے ڈالے یہ کسی بھی پاکستانی باؤلر کی بھارت کے خلاف سب سے بری کارکردگی ہے اس سے قبل یہ ریکاڈر رانا نوید الحسن کے پاس تھا۔بولنگ میں ناکام ہونے کے بعد جب پاکستانی ٹیم اپنی اننگز کا آغاز کررہی تھی تو بیٹنگ لائن اپ کو دیکھ یوں لگ رہا تھا کہ شاید پاکستان آسانی کے ساتھ بھارت کو یہ میچ نہیں جیتنے دے گا لیکن سلمان بٹ ، کامران اکمل ،محمد یوسف، یونس خان، مصباح الحق ،شعیب ملک اور شاہدآفریدی جیسے کہنہ مشق بلے باز مزاحمت کیے بغیراپنی وکٹیں گنواتے رہے اور پروین کمار اور پویش چاولہ جیسے ناتجربہ کار بولر وں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے ۔پاکستانی بیٹسمین بجائے اپنے باؤلرز کی ناکامی پر پردہ ڈالتے لیکن انہوں نے غیرذمہ درانہ بیٹنگ کرکے اپنی ٹیم کی ذلت آمیز شکست میں برابر کا حصہ ڈالا۔
میر پورمیں پاکستانی ٹیم کی کھیل کے تمام شعبوں میں ناکامی کے بعد یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی ہے کہ پاکستانی ٹیم کو ابھی تک بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جن میں بولنگ کا شعبہ، بیٹنگ ،فیلڈنگ ،ٹیم مینجمنٹ کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ بالخصوص کپتان شعیب ملک کو پروفیشنل ازم اپنانا چاہیے کیونکہ وہ ابھی تک ایک عام سے کپتان کی طرح فیصلے کرتے ہیں جن کا ہمیشہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور فیلڈنگ میں بھی وہ ایکٹو تو نظر آتے ہیں لیکن رنز کے بہتے سیلاب کو نہیں روک پاتے جس سے پاکستانی ٹیم پہلے زیادہ سکور کھالیتی ہے اور بعد ازاں ہدف کے تعاقب میں لڑکھڑاجاتی ہے ۔پاکستان اس برس چیمپئنزٹرافی اور ایشیا کپ کا میزبان ملک ہے اور ایشیا کپ تو اسی ماہ جون میں کھیلا جارہا ہے جس میں بھارت سمیت سری لنکا بھی شرکت کررہا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی بہتری کیلئے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور کھلاڑیوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کھلاڑیوں میں لاپراوہی کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے اور بولنگ کے شعبوں کو مضبوط کرنے کیلئے کرکٹ بورڈ کواب فکرمندی کے ساتھ سوچنا ہوگا کیونکہ آصف اور شعیب کی عدم موجودگی میں بھارت کے خلاف 330رنز کا ٹارگٹ قومی ٹیم کیلئے لمہ فکریہ ہے اور کم ازکم یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سہیل تنویر اور عمرگل ٹیم کو اکیلے فتح نہیں دلاسکتے ۔لہذا کرکٹ بورڈ نے اگر شعیب اختر پر پانچ برس کی پابندی لگائی ہے تو اس کا متبادل بھی ٹیم میں شامل کرناچاہیے کیونکہ موجودہ بولنگ اٹیک سے زیادہ توقع رکھنا بے کارہے ۔