اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہمیشہ جب بھی کوئی بڑاایونٹ قریب آتا ہے تو تنازعات کی بھر مار ہوجاتی ہے اور ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن سے نہ صرف ٹیم کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے بلکہ ملک بھی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔فاسٹ بالر محمد آصف کا ایک بار پھر ڈوپنگ میں ملوث ہونا اس بات کی واضع نشاندہی کررہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو سال قبل پیش آنے والے واقعہ سے نہ تو خود کچھ سیکھا اور نہ ہی اپنے کرکٹرزکو سیکھایا ،جس کی بدولت لگاتار دوسری مرتبہ محمد آصف کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور وہ اپنے کیرئیر کے اختتام پر جاکھڑے ہوئے ہیں۔محمد آصف جنہیں اپنا کیرئیر شروع کیے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا دوسری باران پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کے انکشاف سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ خود اپنے دشمن بن چکے ہیں۔حالانکہ 2006ء کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل بھی وہ ساتھی فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ قوت بخش ادویہ استعمال کرنے کے الزام میں پکڑے گئے تھے لیکن پی سی بی کے اپلیٹ ٹریبونل نے ان کو لاعلمی کی بنا پر معاف کر دیا تھا تاہم اس بار محسوس ہوتا ہے کہ آصف کیلئے بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ جب ان کا ڈوپ ٹیسٹ ہوا تووہ بھارت میں آئی پی ایل کھیل رہے تھے جنہوں نے ڈوپنگ کی روک تھام کیلئے واڈا سے الحاق کررکھا ہے اور پہلی بار محمد آصف واڈا کے نرغے میں آئے ہیں جہاں ان پر ایک سے دوسال تک پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈوپنگ میں ملوث ہونے کے جرم میں محمد آصف پر تاحکم ثانی ہرطرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی ہے۔شفقت نغمی پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ واڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق جوبھی کھلاڑی ڈوپنگ میں ملوث پایا جاتا ہے اسے فوری طور پر معطل کردیا ہے اسی قانون کو مدنظر رکھ کر کرکٹ بورڈ نے فاسٹ باؤلر کو ہرطرح کی کرکٹ کھیلنے سے معطل کردیا ہے لہذا اب محمد آصف پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نہ تو کوئی کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور نہ ہی کرکٹ کی پرموشن میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔شفقت نغمی کا کہناتھا کہ آصف کی ڈوپنگ کا واقعہ چونکہ بھارت میں پیش آیا ہے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ اس کا ہرگز ذمہ دار نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ آصف خود آئی پی ایل حکام اور واڈا کے سامنے اپنی کیس لڑے گا اور اس کے تمام اخراجات بھی فاسٹ باؤلر کو برداشت کرنا ہونگے پی سی بی محض باہر بیٹھ کر کیس کی کارروائی کا جائزہ لے گا کہ آیا فاسٹ باؤلر کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے یا نہیں۔شفقت نغمی نے واضع طور پر کہاکہ محمدآصف کیرئیر میں پہلی بار ڈوپنگ میں ملوث پائے گئے ہیں دوسال قبل پیش آنیوالے واقعہ میں وہ مجرم نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ ٹیم میں دوبارہ لوٹ آئے تھے تاہم اس بار یہ واقعہ پاکستان سے باہر پیش آیا ہے لہذا اس کافیصلہ بھی آئی پی ایل کا ٹریبونل کریگا ۔انہوں نے کہا سنیل گواسگر کی سربراہی میں کام کرنے والا ٹریبونل فاسٹ باؤلر کو جو بھی سزا دیگا پی سی بی بھی فاسٹ باؤلر کو وہی سزا دیگا۔دوسری جانب فاسٹ باؤلر محمد آصف نے آئی پی ایل کی جانب سے ڈوپنگ کے انکشاف کے بعد سیمپل بی کو چیلنج کرنے کافیصلہ کیا ہے جہاں وہ اپنا دوبارہ ٹیسٹ دینگے۔اگر وہ کلیئر ہوگئے تو بچ جائیں گے ورنہ آصف پر ایک سے دو سال تک پابندی لگ سکتی ہے۔
ادھر طویل انتظار کے بعد چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی ٹیم کے 30رکنی ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے ۔طویل جدوجہد کے بعد اور عدالتوں کی جنگیں جیتنے کے بعد فاسٹ باؤلر شعیب اختر ایک با ر پھر ٹیم میں لوٹ آئے ہیں ۔کرکٹ بورڈ نے واپسی سے قبل شعیب اختر سے جرمانے طلب کرنے کی کوشش کی لیکن فاسٹ باؤلر نے فی الحال جرمانے کی رقم دینے سے انکار کردیا ،اس پر پی سی بی کا کہنا تھا کہ شعیب اختر نے جرمانہ دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ کیس کی سماعت ابھی جاری ہے اس لیے ہم نے اسے ریلیف دیا ہے کہ وہ ٹیم میں آجائے اور اپنی فٹنس ثابت کرکے ملک کیلئے کھیل سکے۔قومی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے ،شاہدآفریدی،سہیل تنویر،ناصر جمشید،اظہر علی،مصباح الحق(نائب کپتان)، شعیب ملک(کپتان)،خالد لطیف،سلمان بٹ،یونس خان،بازیدخان ، فواد عالم ، منصور امجد،شعیب اختر،راوٴافتخار،عبدالروٴف ، انور علی،محمد عامر،سرفراز احمد،سعیداجمل،کامران اکمل،احمد شہزاد،یاسرحمید،وہاب ریاض،محمد علی،محمد یاسر،سہیل خان،منصورامجد،عمرگل،خرم منظور شامل ہیں ۔11اگست کو حتمی 15رکنی سکواڈ کا اعلان کیا جائیگا جبکہ طویل کیمپ کا آغاز 22جولائی سے ہورہا ہے ۔
بہرحال محمد آصف ایک بار پھر مشکلات کا شکا ر ہوچکے ہیں اور ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی ٹیم تنقید کی زد میں آچکی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم خود ہی اپنے لیے جگ ہنسائی کے مواقع دوسروں کو فراہم کرتے ہیں۔پہلے بھی 2006ء میں محمد آصف پر ممنوعہ دوا نیندرولون کے استعمال کی پاداش میں ایک برس کی پابندی لگائی گئی تھی جو کہ اپیل کے نتیجے میں دو ماہ بعد اٹھا لی گئی تھی لیکن اس بار معاملہ بھارتی بورڈ اور واڈا کے پاس ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس بار آصف کے سر پر ہاتھ رکھنے سے انکارکردیا ہے جس سے فاسٹ باؤلر کے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ابھی چند روز پہلے محمد آصف افیون کیس میں دوبئی پولیس کے19دن تک سرکاری مہمان رہ کر آئے ہیں اور دوہفتے بعد ڈوپنگ کے تنازع نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی ایک بار پھر کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے ۔ایک طرف کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں پر حد درجہ سختی کرتا ہے تو دوسری جانب جرم ثبوت ہوجانے کے باوجود بھی کھلاڑیوں کی سرپرستی کی جاتی ہے یہی وہ دوہرامعیار ہے جس کی بدولت پاکستان کرکٹ جگ ہنسائی کا سبب بنی ہوئی ہے ۔کرکٹ بورڈ کیلئے ایک بارپھر آصف کا ڈوپنگ میں ملوث ہونا چیلنج ضرورہے تاہم بورڈ کو اس واقعہ سے خود بھی سیکھنا چاہیے اور اپنے کھلاڑیوں کو بھی سیکھانا چاہے تاکہ مستقبل قریب میں ایسے ملک بدنامی کے واقعات سے بچا جاسکے۔