اعجاز وسیم باکھری :
طویل جدوجہد اورایک گھمسان کی لڑائی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیمپئنزٹرافی کی میزبانی اپنے پاس برقرار رکھنے کی جنگ جیت لی ہے اور اب ٹورنامنٹ بلا کسی خوف خطرے سے اپنے شیڈول کے مطابق 11ستمبر سے لاہور میں شروع ہوگا۔چیمپئنزٹرافی کی میزبانی برقرار رہنے سے جہاں پاکستان کرکٹ کو فائدہ پہنچے گا وہی 2011ء کے ورلڈکپ کیلئے بھی راستہ آسان ہوجائیگا۔چیمپئنزٹرافی چونکہ ورلڈکپ کے بعد کرکٹ کا دوسرا بڑا ایونٹ ہے لہذا اس ایونٹ کے پاکستان میں انعقاد سے نہ صرف پاکستان کے بارے میں بیرونی دنیا میں قائم سیکورٹی خدشات دور ہونگے بلکہ پاکستان چیمپئنزٹرافی کی بدولت اپنا کرکٹ کے میدان میں کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرلے گا۔2006ء میں پاکستان کو چیمپئنزٹرافی کی میزبانی دینے کافیصلہ کیا گیا تھا تاہم گوری ٹیموں نے سیکورٹی کا شور مچانا شروع کردیا اور بالآخر پاکستان ایونٹ کی میزبانی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ تاریخی فیصلہ گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹیلی کانفرنس میں کیا جہاں آئی سی سی چیمپئنزٹرافی کو پاکستان میں منعقد کرنے کافیصلہ برقرار گیا اور آسٹریلیا،انگلینڈ،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقی کرکٹرز کی جانب سے سیکورٹی خدشات دور کرنے کیلئے ٹاسک فورس بنانے کافیصلہ کیا گیاجوایونٹ سے قبل پاکستان کا دورہ کرکے ایک بار پھر سیکورٹی اور ٹیموں کے پروٹوکول انتظامات کا جائزہ لے گا۔چیمپئنزٹرافی کی میزبانی برقرار رکھنے کی خوش خبر ی قذافی سٹیڈیم میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ڈاکٹر نسیم اشرف نے سنائی ،ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایگزیکٹو بورڈ نے ٹیلی کانفرنس میں چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں کرانے کا فیصلہ برقراررکھا ہے تاہم بعض رکن ممالک کے خدشات دور کرنے کیلئے آٹھ رکنی ٹاسک فورس قائم کردی ہے ۔ٹیلی کانفرنس پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے شروع ہوکرشام سات بجے اختتام پذیر ہوئی۔ٹیلی کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف،انگلینڈ اینڈ ویلزکرکٹ بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک ،کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ کرے اوکارنر ،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ سینا ابن جمالی، آئی سی سی کے نائب صدر اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ شرد پوار ،سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر رانا ٹنگا ،جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کی جانب سے نور امان ،ویسٹ انڈیز کی جانب سے ڈاکٹر جولین ہنٹے ،زمبابوے کرکٹ بورڈ کے صدر پیٹر چنگوکا ،نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے جانب سے ڈاکٹر جسٹس وان ،آئی سی سی کے پرنسپل ایڈوائزر اندرجیت سنگھ بندرا ،آئی سی سی کے چیف ایگویکٹوآفیسر ہارون لورگٹ ،جبکہ ایسوسی ایٹ ممبران کی جانب سے سنگا پور،کنیا اور برمودا کے کرکٹ بورڈ کے سربراہان نے ٹیلی کانفرنس میں حصہ لیا ۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ ٹاسک فورس کے ارکان بعض رکن ممالک، کھلاڑیوں اور اسپانسرز کے خدشات دور کرنے کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ ٹاسک فورس آئی سی سی کے صدر ڈیوڈ مورگن کی سربراہی میں کام کرے گی جبکہ دیگرسات اراکین میں آئی سی سی کے نائب صدر شرد پوار ،آئی سی سی کے پرنیسپل ایڈوائزر اندرجیت سنگھ بندرا ،پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف ،آئی سی سی کے چیف ایگویکٹوآفیسر ہارون لورگٹ ،آئی سی سی براڈ کاسٹر پارٹنر ای ایس پی این آئی سی سی آزاد سیکورٹی ایڈوائزر اور فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن شامل ہیں۔آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل میڈیا ریلیز میں کہاگیا ہے کہ ٹاسک فورس پاکستان میں آزاد سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیکر سیکورٹی خدشات کے بارے میں آسٹریلیا ،انگلینڈ،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کو یقین دہانی کرائیں گے۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایاکہ چیمپئنزٹرافی کوپاکستان میں برقرار رکھنے کافیصلہ ایشیا کپ کے فائنل کی سیکورٹی رپورٹ کی بناپرکیا گیا جس میں پاکستان نے بہترین سیکورٹی انتظامات کیے تھے۔نسیم اشرف نے کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی سے پرامید تھے کہ چیمپئنزٹرافی پاکستان ہی میں ہوگی کیونکہ پاکستان مہمان ٹیموں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ پی سی بی چیئرمین نے انڈین کرکٹ بورڈ سمیت تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
چیمئنزٹرافی کی میزبانی برقرار رہنے سے پاکستان کرکٹ کو بے حد فائدہ پہنچے گا اور نوجوانوں میں کرکٹ کا شوق مزید تقویت پکڑے گا۔پاکستان نے آخری بار 1996ء کے عالمی کپ کی میزبانی کی تھی اور اب 11ستمبر 2008ء سے ایک بار پھر پاکستان میگاایونٹ کی میزبانی کریگا ۔چیمپئزٹرافی میں پاکستان ،آسٹریلیا اور بھارت ایک ہی پول میں شامل ہیں اور ایونٹ کے تمام میچز کراچی ،لاہور اور راولپنڈی میں کھیلے جائینگے جبکہ فائنل قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔