اعجاز وسیم باکھری :
کرکٹ کی دنیا میں اب انقلابات کوئی انوکھی یا مشکل بات نہیں رہی۔اب تو یہ نوبت آچکی ہے کہ جو آپ سوچتے ہیں اس کو حقیقت کے روپ میں تبدیل کرنا بائیں ہاتھ کا کا م بن کررہ گیا ہے ۔ماضی میں جب ہر طرف ٹیسٹ کرکٹ کا راج تھا تو انگلینڈ اور آسٹریلیا نے مشترکہ کوششوں سے ون ڈے کرکٹ کا آغاز کیا اور کیری پیکر نے اس کو تقویت بخشی۔ ناقدین کا خیال تھا کہ ایک روزہ کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ کو ختم کردے گی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ون ڈے کرکٹ نے بھی عروج پکڑا اورٹیسٹ کرکٹ کی حیثیت کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچا۔ایک بار پھر انگلینڈ سے نئی طرز کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغازہوا تو مبصرین نے اسے کھیل کی روح کے منافی قرار دیا اور فوری طور پر اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا لیکن منتظمین کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی آمد سے نہ تو ایک روزہ کرکٹ کو نقصان پہنچے گا اور نہ ہی ٹیسٹ کرکٹ کی مارکیٹ ویلیو متاثر ہوگی۔ آج یہ بات مکمل طورپر ثابت ہوچکی ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کی آمد سے نہ تو بیٹسمینوں کی تکنیک متاثر ہوئی اور نہ ہی ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ۔دنیا کے تقربیاً تمام ممالک میں پانچ سے چھ مرتبہ ڈومیسٹک لیول پر ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوچکا ہے اور آئی سی سی نے اب تمام ٹیموں کے ٹورز پر بھی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میچ لازمی قرار دیدیاہے۔ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نے ٹونٹی کرکٹ کا عالمی کپ کرانے کافیصلہ کیا جو کہ ایک کامیاب ترین ایونٹ ثابت ہوا ۔بعدازاں بھارت میں آئی سی ایل کے نام سے ایک پرائیوٹ ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کھیلا گیا جسے شائقین نے بے حد پسند کیااور اسی طرزپر آئی سی سی اور بھارتی بورڈ کے زیر اہتمام آئی پی ایل نامی کرکٹ کی سب سے بڑی لیگ کرائی گئی جس میں دنیائے کرکٹ کے چمکتے دمکتے ستاروں نے اپنے جوہردکھائے اور اب دنیا کے تمام ممالک کی ڈومیسٹک ٹونٹی کپ کی فاتح ٹیموں کے مابین بھارت میں ایک اور چیمپئنز لیگ کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو کوئی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کو نہیں ملا جبکہ آخری ٹیسٹ میچ کھیلے قومی ٹیم کو ایک سال بیت چکا ہے۔چیمپئنزٹرافی کے منسوخ ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ ایک بار پھر بحران کا شکار ہوگئی ہے جس کا حل تادم تحریر کرکٹ بورڈ کے عہدیدار کو نہیں ملا البتہ ہاں غیرملکی سپانسرز کے ساتھ ملکر گزشتہ دوسال سے التوا کا شکار قومی ڈومیسٹک ٹونٹی ٹونٹی کپ کا دوبارہ اجراء کردیا گیا ہے جوکہ پاکستانی شائقین کرکٹ اور قومی کرکٹرز کیلئے ایک خوش آئند بات ہے۔4اکتوبر سے لاہور کے تین مختلف گراؤنڈز پر کھیلے جانیوالے ایونٹ میں پاکستان بھر سے13ٹیمیں شرکت کررہی ہیں اور ایونٹ کافائنل 8اکتوبر کوقذافی سٹیڈیم میں کھیلا جائیگا۔ایونٹ کے لئے 43لاکھ 95ہزار روپے کی انعامی رقم مختص کی گئی ہے۔فاتح ٹیم کو 25لاکھ جبکہ رنر اپ کو 10لاکھ روپے ملیں گے۔رائل بنک سکاٹ لینڈ قومی ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ کو سپانسر کررہا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ جب رائل بنک سکاٹ لینڈ پاکستان میں کسی بڑے ایونٹ کو سپانسر کررہا ہے۔ماہرین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے تیرہ ٹیموں کے مابین پانچ روزمیں 18 میچز کرائے جانے پرکرکٹ بورڈ پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ ایونٹ میں ٹیمیں زیادہ ہیں لیکن وقت کم رکھا گیا ہے اور ہرروز پانچ میچز کھیلے جائینگے۔یہ دوسرا موقع ہے کہ جب لاہور قومی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کے شرف حاصل کررہا ہے اس قبل 2004ء میں ہونیوالے پہلے ڈومیسٹک ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد لاہور میں کیا گیا جو کہ ایک کامیاب ایونٹ ثابت ہوا اور فائنل میں جو کہ فیصل آباد کی ٹیم نے جیتا تھا کو دیکھنے کیلئے قذافی سٹیڈیم کی تاریخ میں پہلی بار 40ہزار سے زائد شائقین سٹیڈیم آمڈ آئے تھے جبکہ دس ہزار کے قریب لوگ سٹیڈیم کے اردگرد جمع تھے۔پہلے ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے بعد پی سی بی نے 2005ء اور 2006ء کے ایونٹ کراچی میں منعقد کیے جوکہ اپنی طرز کے کامیاب ٹورنامنٹ ثابت ہوئے۔کراچی میں ہونیوالے دونوں ٹورنامنٹ میں سیالکوٹ سٹالنز کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی اور اس بار بھی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کی قیادت میں سٹالنز کی ٹیم مسلسل تیسراٹائٹل جیت کر ہیٹ ٹرک کرنے کیلئے پرعزم ہے لیکن شعیب ملک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عمران نذیر اور رانا نوید جیسے منجھے ہوئے کھلاڑی جو کہ آئی سی ایل کھیلنے کے جرم میں پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے محروم کردئیے گئے ہیں کی عدم موجودگی سے ٹیم کا کمبی نیشن متاثر ہوگا لیکن انہیں نوجوان کھلاڑیوں پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ اپنے اعزاز کے دفاع کیلئے بھر پور محنت کرینگے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹونٹی 20ٹورنامنٹ میں تمام قومی کرکٹرز کی شرکت کو لازمی قرار دیدیا ہے ۔ایونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شفقت نغمی نے واضح طور پر اعلان کیا جوکھلاڑی آر بی ایس ٹونٹی کپ میں حصہ نہیں لے گا اسے کینیڈا میں ہونیوالے چار ملکی ٹونٹی کپ میں شامل نہیں کیا جائیگا ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹورنامنٹ کینیڈا میں ہونے والے ٹونٹی 20 ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا حصہ بھی ہے ۔ اس لیے بورڈ نے ملک کے تمام صف اول کے کھلاڑیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ایونٹ میں ضرور شرکت کریں۔واضح رہے کہ قومی کرکٹرز گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلے لیکن ایک طویل عرصے بعد ان کھلاڑیوں کو عیدکے تیسرے روزسے شروع ہونیوالے ایونٹ میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملے گا۔پاکستان کرکٹ ٹیم ٹونٹی 20 کپ فائنل کے اگلے دن یعنی 9 اکتوبر کو کینیڈا کیلئے روانہ ہوگی جہاں 10 سے 13 اکتوبرٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کھیلا جائیگا۔پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ کے افتتاحی روز 4اکتوبر پہلا میچ صبح دس بجے فیصل آباد وولفنز اور ایبٹ آباد رینوز کے درمیان میچ ایل سی سی اے گراؤنڈ پر، دوسرا میچ لاہور ایگلز اور کراچی ڈولفنز، کے مابین باغ جناح، تیسرا میچ لاہور لائنز اور کوئٹہ بیئر کے درمیان قذافی سٹیڈیم جبکہ چوتھا اسلام آباد لیپرڈ اور پشاور پینتھر کے درمیان قذافی سٹیڈیم میں ہوگا۔ 5اکتوبر کو راولپنڈی ریمز اور کوئٹہ بیئر کے مابین ایل سی سی اے گراؤنڈ، دوسرا میچ پشاور پینتھر اور ملتان ٹائیگر، تیسرا میچ کراچی زیبرا اور حیدر آباد ہاکس کے درمیان، چوتھا میچ فیصل آباد وولز اور اور کراچی ڈولفن کے درمیان جبکہ پانچواں میچ لاہور ایگلز اور ایبٹ آباد رینوز کے درمیان قذافی سٹیڈیم میں ہوگا۔ 6اکتوبر کو پہلا میچ لاہور ایگلز اور فیصل آباد وولفنز کے درمیان، دوسرا میچ سیالکوٹ سٹالنز اور حیدر آباد ہاکس کے درمیان ، تیسرا میچ کراچی ڈولفنز اور ایبٹ آباد رینوز کے درمیان، چوتھا میچ اسلام آباد لیپرڈ اور ملتان ٹائیگر کے درمیان جبکہ پانچواں میچ لاہورلائنز اور راولپنڈی ریمز کے درمیان قذافی سٹیڈیم میں ہوگا۔ 7اکتوبر کو دونوں سیمی فائنلز ہونگے جبکہ فائنل8 اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم کی فلڈلائٹس میں منعقد ہوگا۔