اعجاز وسیم باکھری:
دنیائے کرکٹ میں سچن ٹنڈولکر کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔سچن نے اپنے کیرئیر میں کرکٹ کی دنیا کا ہربڑے اور ناممکن ہدف تک رسائی حاصل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بریڈ مین کے بعد دوسرا عظیم ترین بلے باز ہے۔طویل عرصے سے تنقید کاشکاررہنے والے لٹل ماسٹر نے بلاآخر شائقین کے امنگوں کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کی ہسٹری میں 12000 رنز کا حدف عبور کرکے اپنے عظیم بلے بازہونے کا ایک اور ثبوت پیش کردیا۔بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان4 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے معرکے میں موہالی کرکٹ گراوٴنڈمیں دنیائے کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ بیٹسمین سچن ٹنڈولکر نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ بدل ڈالی۔ٹنڈولکر نے پیٹر سڈل کی گیند پر تھرڈ مین باوٴنڈری کی جانب سٹروک کھیل کر تین رنز مکمل کرتے ہوئے ویسٹ انڈین لیجنڈ برائن لارا کے عالمی ریکارڈکو پاش پاش کردیا۔ ریکارڈز کی دنیا میں یہ واحد قلعہ تھا جس پر ٹنڈولکر کے نام کا جھنڈا نہیں لہرارہا تھا، اس سنگ میل کے ساتھ ہی بیٹنگ کی سلطنت پر ٹنڈولکر کا قبضہ مکمل ہوگیا ہے ۔ ٹنڈولکر نے برائن لارا کے ریکارڈ پر قبضہ کرنے کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں 12ہزار رنز بھی مکمل کرلیے ، ان کی 88 رنز کی معرکہ آرا اننگز فاسٹ بولر سڈل کی بولنگ پر ہی اختتام کو پہنچی وہ سلپ میں ہیڈن کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔سچن ٹنڈولکر ایک بار پھر بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے ۔سچن نے اپنے کیرئیر میں دنیا کے تمام باؤلر پر حکمرانی کی اور ہمیشہ وہ حریف باؤلرز کے سامنے ڈٹ جانے والا بلے باز سمجھا جاتا ہے۔گوکہ سچن برائن لارا کی کلاس کا بیٹسمین نہیں ہے لیکن وہ بھارت کیلئے ہمیشہ نمایاں کارکردگی پیش کرتا ہے۔سچن جہاں ایک عظیم بیٹسمین ہے وہیں سچن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ میچ ونر بیٹسمین نہیں ہے کیونکہ سچن کی 50سنچریاں ایسی ہیں جو بھارت کو شکست سے نہیں بچاسکیں۔اس کے علاوہ سچن سنچری کے قریب پہنچ کر ڈر جاتا ہے اور وہ اپنے کیرئیر میں 17مرتبہ سنچری کے قریب پہنچ گھبرا کرآؤٹ ہوگیا۔لیکن اس کے باوجود اس نے ڈھلتی عمرمیں آسٹریلیا کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں عمدہ بیٹنگ کی اور ناقدین کے منہ بند کردئیے۔
ریکارڈ یافتہ بلے باز سچن ٹنڈولکر نے موہالی ٹیسٹ میں برائن لارا کا ریکارڈ توڑنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں نے میرے اوپر پتھروں کی بارش کی لیکن میں نے کبھی بھی انکی ان باتوں کابرا نہیں منایا اور میں اپنے مقصد اور منزل کی جانب گامزن رہا ۔سچن کہتے ہیں کہ میں نے ناقدین کے پتھروں کو سنگ میل میں بدل دیا۔ سچن نے کہاکہ بعض اوقات لو گ سنگ زنی کرتے ہیں اور بڑے کھلاڑی انہیں سنگ میل میں بدل دیتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ ہے اور میں اس پرجتنی بھی خوشی مناوٴں کم ہے ،سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ میں زیادہ ریکارڈ کے بارے نہیں سوچتا لیکن انسان کے ذہن میں یہ بات بار بار دستک ضروردیتی ہے ، لٹل ماسٹر کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ صرف اور صرف کرکٹ پرتوجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں جب وکٹ پر گیا تو مجھے معلوم تھا کہ میں نے صرف 15رنز سکور کرنے ہیں اور اسکے لئے میں نے صرف بال کو دیکھ کر کھیلنے کی کی حکمت عملی اپنائی اور اس میں میں کامیاب رہا ۔سچن ٹنڈولکر نے گفتگومیں بتایا کہ مجھے ریکارڈ بریک کرنے کے بعد پویلین میں برائن لارا کامبارک باد کا فون آیاجس نے میری خوشی کی انتہاکردی ۔
ٹنڈولکرنے اب تک جتنے بھی عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں ان کو توڑنا مشکل توضرور ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ ریکارڈ بنتے ہیں ٹوٹنے کیلئے ہیں۔لیکن ہاں ٹنڈولکرکے ریکارڈ توڑنے کیلئے نہ صرف حوصلے و ہمت کی ضرورت ہے بلکہ مذکورہ کھلاڑی کا خوش قسمت ہونابھی ضروری ہے کیونکہ ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریوں کی بھرمار کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ریکارڈ چندسالوں میں ٹوٹ پائیں گے ان کیلئے دہائیوں کی ضرورت ہے کیونکہ وکٹ پر کھڑے ہوکر وسیم اکرم ،وقار یونس ، میگراتھ ،ایلن ڈونلڈ،شین وارن ،مرلی دھرن اور شعیب اختر جیسے برق رفتار باؤلر ز کا سامنا کرنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔یہ سچن ٹنڈولکر ہی تھا جس نے ہر دور میں رنز کے انبار لگائے ۔