اعجاز وسیم باکھری :
پیسہ بھی کیا خوب چیز ہے ۔اگر یہ انسان کے پاس نہ ہو تو زندگی بیکار سی لگتی ہے ،اگر زیادہ آجائے تو مزید کی طلب انسان کا خون سفید کردیتی ہے ۔بہت سے لوگ شاید اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب پیسہ تواتر کے ساتھ جیب اور اکاؤنٹ میں آنا شروع ہوجاتا ہے تو بہت سوں کا دماغ خراب ہوجاتا ہے اور ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں جن کا پیسہ ہی دین ایمان ہوتا ہے۔مجھے یوں لگتا ہے کہ پاکستان ہی شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کی ایلیٹ کلاس میں انسانیت اور پاکستانیت نام کی چیزکوئی نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہرشخص پیسے کی ہوس میں پاگل ہوا جارہا ہے ،اس ملک میں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے لیکن اکثریت ایسی ہے جو پیسہ کوہی خدا مانتی ہے اور اس کے حصول کی خاطر کچھ بھی کرگزرنے سے گریز نہیں کیا جاتا ۔اگرآج ایسے لوگوں کی فہرست تیار کی جائے تومیرے خیال میں محمد یوسف کانام پہلے نمبر پر ہوگا۔پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے ممتاز ترین بیٹسمین محمد یوسف نے نجانے کس سوچ پر آئی سی ایل جوائن کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ اب نسیم اشرف دور بھی نہیں رہا اور نہ ہی وہ سلیکشن کمیٹی رہی لیکن اس کے باوجود وہ آئی سی ایل چلے گئے یقینا قومی سٹار پیسوں کی چمک کے سامنے اندھے ہوگئے اور پاکستان کی وجہ سے جو مقام ملا تھا اس بالکل فراموش کرکے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔
حضرت علی کا قول ہے۔ ”حکمرانی، پیسہ اور شہرت انسان کو تبدیل نہیں کرتی بلکہ بے نقاب کرتی ہے“ہر شخص اس مٹی کا مقروض ہوتا ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھایا گیا ہو لیکن وہ یہ قرض اتارنے کی بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کو ترجیح دینے لگے تو وطن سے محبت رکھنے والوں کے جذبوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یوسف یوحناکا گڑھی شاہو کے تنگ و تاریک علاقے سے لیکر خوبصورت بنگلوں تک کاسفر، عالمی ریکارڈز اور پھر محمد یوسف کہلوانے کی سعادت سب پاکستان کی دین ہے ۔مگر حد سے بڑھی ہوئی پروفیشنل ازم نے انہیں روپے کے مقابلے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتے ڈالر کے قریب اور پاکستانیوں کے دلوں سے دور کر دیا ہے۔ مانا کہ انڈین کرکٹ لیگ اور انڈین پریمیئر لیگ دونوں ایک ہی تصویر کے دو بگڑے ہوئے روپ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آئی سی ایل نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی آمریت کو چیلنج کرتے ہوئے چھوٹی سی آزاد ریاست بنانے کی جرأت کر لی جبکہ آئی پی ایل کرکٹ کی ”سپر اتھارٹی“ کے بطن سے نکلنے والی جائز اولاد قرار پائی۔ ان دونوں لیگ میں سے کون غلط ہے، کون درست یہ الگ بحث ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مالی، انتظامی، اخلاقی اور نفسیاتی طور پر کمزور بورڈ ہونے کے ناطے ہم ہمسایہ ملک بھارت اور آئی سی سی کی غلامی کے عادی ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہراس بات کو جائز سمجھیں جو بی سی سی آئی اور آئی سی سی کا فرمان ہے۔ اس فرمان کی رو سے آئی پی ایل شجر ممنوع ہے جس کو ہاتھ لگانے کا مطلب انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری ہے۔ یہ بات سب کھلاڑی خاص طور پر اس حوالے سے عدالتی بکھیڑوں میں الجھے رہنے والے محمد یوسف زیادہ جانتے ہیں۔جن کھلاڑیوں کی پہلی ترجیح ملک کیلئے کھیلنا ہے، وہ باغی قرار دی جانے والی آئی سی ایل کا نام تک بھی زبان پر نہیں لاتے۔دوسری طرف وہ کھلاڑی جو اپنے انٹرنیشنل کیریئر ختم کر چکے، مستقبل سے مایوس یا اپنے کرکٹ بورڈ سے نالاں ہیں، انہیں چار پیسے بنانے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ محمدیوسف کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ وکٹ پر کھڑے ہونے کی نیت کرلیں تو دنیا کا کوئی بولر ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں کرسکتا۔اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے متعدد بار قومی ٹیم کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ سال جب اولین ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کیلئے قومی ٹیم کا اعلان ہوا تو عبدالرزاق کے ساتھ محمد یوسف نے بھی ناراض ہو کر آئی سی سی ایل کے ساتھ 3لاکھ 30 ہزار ڈالر کے عوض ناطہ جوڑ لیا۔ پیشگی رقم کے طورپر 52 ہزار ڈالر وصول کئے(آئی سی ایل کا موقف ہے کہ 82 ہزارڈالر دیئے) پی سی بی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کی منت سماجت پر ایڈوانس واپس کرکے آئی پی ایل سے تعلق بنایا اور بقول بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری نرنجن شاہ کے 3 لاکھ ڈالر ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے۔ ملکی خدمت کیلئے راضی ہو جانے کے انعام میں پی سی بی نے ایک کروڑ روپے الگ دیئے۔ عوام کو بتایا گیا تھا کہ رقم ورلڈ ریکارڈ بنانے پر دیا جانے والا نذرانہ ہے۔ عہد شکنی کی سزا کے طورپر پر آئی سی ایل نے عدالت کے ذریعے یوسف کے آئی پی ایل کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیردیا تو وہ مایوسی کے عالم میں ہی جیسے تیسے ملک کیلئے کھیلتے رہے۔ ٹیسٹ کرکٹ پاکستان ٹیم کو نہ ملی،ون ڈے میچز کی کمائی یوسف کیلئے کافی نہ تھی، کینیڈا کی یاترا کا موقع بھی ان کو نہ مل سکا ۔ آئی پی ایل میں شرکت کی راہ میں عدالتی دیوار تھی۔ اب ڈالرز کی کشش نے ایک بار پھر انہیں ملک کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دینے پر مجبور کردیا اور تمام چیزیں بھلا کر آئی سی ایل کی گود میں جوبیٹھے۔۔ اپنی ساکھ بنانے کیلئے آئی سی ایل کو بڑے بڑے ناموں کی تلاش ہے اور وہ یوسف کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتی، یہی وجہ ہے کہ اس بدنامی کو گلے لگانے کے بدلے ہمارے ”قومی ہیرو“ کو منہ مانگی رقم ملی ہے۔ ڈیرھ سال سے جاری آئی سی ایل اور آئی پی ایل کی اس جنگ میں یوسف کو تاحال کسی بھی ٹوئنٹی 20 لیگ میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقعہ نہیں مل سکا۔ پہلے آئی سی ایل نے حکم امتناعی لے کر ان پر غضب ڈھایا اب لگتا ہے کہ آئی پی ایل یوسف کو نہیں کھیلنے دے گی۔آج واقعی شعیب اختر پر فخر محسوس ہورہاہے کہ وہ جتنا خود سر اور ضدی ہے لیکن پابندیوں کا سامنا ،جرمانے ،عدالتوں کے چکر اور لڑائی جھگڑوں سے نجات پانے کے بعد اس کی سب سے پہلی ترجیح پاکستان کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے ۔وہ سال کے دس مہینے تماشوں میں گزار دیتا ہے لیکن آخر میں اس کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح پاکستان کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہوجائے کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ شعیب اختر کی پہچان پاکستان ہے ۔پاکستان کی پہچان شعیب اختر نہیں۔
پیسے کی ہوس ہر انسان میں ہے، کسی میں بہت زیادہ جبکہ کسی میں کم ہوتی ہے۔پاکستان کی نمائندگی کرنے والا ہرکرکٹر ماہانہ تنخواہ، میچ فیس، بونس، اشتہارات، بہترین کارکردگی پر انعامات کے ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹ سے بھی رقم اور دیگر سہولیات سے مستفید ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کرکٹرز ایک سال میں اتنا کمالیتے ہیں جتنا کوئی عام انسان پوری زندگی بھی نہیں کماپاتا۔ پیسوں کے معاملے پر کرکٹ ٹیم کے” اینگری مین“ کے بہت سے قصے کرکٹ بورڈ حکام مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ادھارپر بالکل یقین نہیں رکھتے اور میچ کے خاتمے سے پہلے ہی تمام حساب بے باق کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ محمدیوسف کے دوبارہ آئی سی ایل سے رجوع کرنے میں پیسے کی ہوس کے ساتھ ساتھ بورڈ کی غلط پالیسیوں اور ناانصافیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ یوسف جیسے دیگر پاکستانی کرکٹرز کے لیے ڈالرز کی چمک اپنی جگہ، مگر ان شائقین کرکٹ کا کیا قصور جو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ہمیشہ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔یوسف کے آئی سی ایل چلے جانے پر میری طرح ہرپاکستانی کو دکھ پہنچا کیونکہ وہ ہمارا ہیرو تھا اور ہمیں اس پر فخر تھا لیکن آج نجانے کیوں ہمیں اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے کہ ہم نے ایک غلط شخص کو ہیرو کی حیثیت دے رکھی تھی ۔اس کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کو فراموش کرسکتا ہے تو ہم بھی اسے فراموش کرسکتے ہیں۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کھلاڑی اپنے ملک کے سفیر، زندہ جذبوں کے امین اور نوجوان نسل کیلئے عزم و ہمت کی روشن مثال ہوتے ہیں۔ عوام ان کی کارکردگی کے گراف میں کمی بیشی پر ویسے ہی دکھ اور خوشی محسوس کرتے ہیں جیسے ایک فیملی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ روپیہ پیسہ ملک کی معاشی بنیادوں کیلئے اہم ہے تو وہیں کھلاڑیوں کی کارکردگی اہداف کے حصول کیلئے جدوجہد کی اہمیت اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ دونوں حقیقتیں اپنی اپنی جگہ پر اہم ہیں۔ اس لیے کھیلوں میں پروفیشنل ازم کا فروغ کوئی بری چیز نہیں لیکن پیسے کی بھوک اس قدر بڑھ جائے کہ کھلاڑی اسے مٹانے کیلئے ”مادروطن“ کی ضرورتوں کو بھی نظرانداز کر دے، یہ کسی طور جائز رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہم پاکستانی اس کو برداشت کرسکتے ہیں ۔اگر ہم پاکستانی لاہور کی تنگ گلیوں کے رہائشی یوسف یوحنا کو اپنا قومی ہیرو بناسکتے ہیں تو ہمارے اندر رنز کی مشین سمجھے جانے والے محمدیوسف کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی ختم کرنے کی صلاحیت بھی موجودہے۔