اعجازوسیم باکھری:
کرکٹ عصرحاضر کا اولین کھیل ہے جو اپنے آغاز کے وقت کچھ اور تھا اور ترقی پذیر دور میں بے شمار تبدیلیوں کی بدولت ماضی کے مقابلے میں کافی حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ابتداء سے لیکر اب تک نہ صرف کرکٹ کے قوائد و ضوابط تبدیل کیے گئے بلکہ کھلاڑیوں کے کھیلنے کے طریقہ کار سے لیکر مزاج تک بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ کرکٹ میں کی جانیوالی ہرتبدیلی نہ صرف کامیاب ہوتی ہے بلکہ اُس تبدیلی کی آڑ میں کی جانیوالی مزید تبدیلیوں سے بجائے کھیل کو نقصان پہنچے کھیل کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے اور شائقین کی دلچسپی بڑھی ہے۔پہلے زمانے میں کھلاڑی انتہائی نازک جسم کے مالک ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود اُن میں انجریزکا عنصرنہ ہونے کے برابر تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح چھ دن کے ٹیسٹ میچ کو پانچ دن میں تبدیل کیا گیا ، پھر ون ڈے کرکٹ کا آغاز ہوا اس میں ساٹھ اوورز کو کم کرکے پچاس اوورز مقرر کیے گئے اور بعد ازاں ٹونٹی ٹونٹی اور ڈبل وکٹ ورژن متعارف کرائے گئے اس سے کرکٹ میں تیزی آئی اور کھلاڑی ماضی کے برعکس زیادہ محنت کرتے ہوئے نظرآتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ”فاسٹ کرکٹ“نے کھلاڑیوں کو انجریز میں مبتلا کردیا ،حالانکہ عصرحاضر کے کھلاڑی ماضی کے سٹارز کے مقابلے میں سخت جان اور زیادہ ورزش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود کھیل کی تیزرفتاری نے انجریز جیسے ناسورکو جنم دیا جو تقربیاً آج کے دورکے ہرسینئر جونیئر کھلاڑی کواپنا شکار بنا چکا ہے جن میں بہت سے ایسے ہیں جو انجریزکا مقابلہ کرکے دوبارہ میدان میں لوٹ آئے لیکن ایسے کھلاڑیوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جو انجریز کی بدولت وقت سے قبل ہی ریٹارمنٹ لینے پر مجبور ہوگئے۔
ان دنوں کرکٹ کے کھلاڑیوں میں ”گھٹنے “کی تکلیف کا مرض تیزی سے بڑھتا جارہاہے جس کے خطرناک حد تک اضافے نے کئی سٹارز کھلاڑیوں کو سائیڈ لائن کردیا ہے۔گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہونے والوں میں اکثریت فاسٹ اور میڈیم فاسٹ باؤلرز کی ہے۔ ان میں نمایاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر ، انگلش آل راؤنڈ اینڈریوفلنٹوف ، بھارتی میڈیم پیسر ظہیر خان سمیت کیوی فاسٹ باؤلر ڈیرل ٹفی ، آل راؤنڈ جیکب اورم اورآسٹریلوی فاسٹ باؤلر نتھن بریکن ان دنوں اس تکلیف کا شکار ہیں ،شعیب اختر اور فلنٹوف نے اس بیماری سے چھٹکارا پانے کیلئے لند ن میں ایک ہی سرجن سے آپریشن کرالیا ہے جبکہ ظہیر خان کا علاج جاری ہے ،کیوی پیسر ڈیرل ٹفی اور آسٹریلوی میڈیم پیسر بریکن اسی مرض کا شکار ہوکر چیمپئنزٹرافی ٹورنامنٹ میں ایک ایک میچ کھیل کرسائیڈ لائن پر چلے گئے جبکہ آل راؤنڈ جیکب اورم بھی چیمپئنزٹرافی میں اسی تکلیف کا شکار ہوئے او ر وطن واپس لوٹ کر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔شعیب اختر اور فلنٹوف کے بارے میں ان کے سرجن اینڈریوولیمز کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑی اب باآسانی اگلے تین سے چار سال تک اس تکلیف سے دور رہیں گے اور اپنے پورے ردھم کے ساتھ فاسٹ بولنگ کرائیں گے ،فلنٹوف جوکہ تقربیاً ہرسال گھٹنے کی تکلیف کا شکار رہے ،اس بارے میں واضع الفاظ میں کہتے ہیں کہ اگر مجھے دوبارہ گھٹنے کی تکلیف ہوئی تو گراؤنڈ سے باہرآکر ریٹائرمنٹ کا اعلان کردوں گا ، فلنٹوف نے اپنی ذاتی کاوشوں سے انگلینڈ کو آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز میں کامیابی دلائی اور صرف چوبیس گھنٹے بعد گھٹنے کا آپریشن کرالیا اور وہ ان دنوں دبئی میں تین ماہ کیلئے ریسٹ پر آئے ہوئے ہیں ۔فلنٹوف اس سے قبل گزشتہ چھ سال میں پانچ بار گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوچکے ہیں ۔شعیب اختر کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے ، انہوں نے انجریز کی وجہ سے اپنے بارہ سالہ کیرئیر میں صرف 46ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجریز اور شعیب اختر کا آپس میں کتنا گہرا ہ رشتہ ہے ۔شعیب اختر اب تک تین بار گھٹنے کا آپریشن کراچکے ہیں اور اب چوتھی بار وہ اسی تکلیف سے دوچار ہونے کے بعد لند ن میں زیر علاج ہیں ۔شعیب اختر گھٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے اگلے پاؤں میں بھی کئی عرصہ تکلیف کا شکار ہے، کیونکہ وہ تیز دوڑ نے کے بعد جب امپائرکو کراس کرتے ہیں تو ایک بڑا جمپ لگانے کے بعد گیند پھینکتے ہیں جس سے اگلے پاؤں پر زبردست بوجھ پڑتا ہے لیکن حالیہ چند سال میں شعیب پاؤں کی تکلیف کا شکار نہیں ہوئے البتہ گھٹنے کی تکلیف اُن کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ۔
کرکٹ کے ماہرین اور میڈیکل آفیسر کی کرکٹر زمیں گھٹنے کی تکلیف کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں یکسر مختلف رائے ہے ۔بہت سوں کا خیال ہے کہ فاسٹ باؤلرز تیزبھاگنے اور جمپ لیکر گیند کراتے ہیں اسی وجہ سے اُن میں گھٹنے کی تکلیف زیادہ پائی جاتی ہے لیکن دوسری جانب الگ سوچ کے ماہرین کی جانب سے اس وجہ کو ایک عنصر تو ضرور قراردیا جاتا ہے لیکن بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جاتا کیونکہ گھٹنے کی تکلیف کا شکار صرف تیز باؤلر ہی نہیں ہوئے بلکہ اوسط درجے کی سپیڈ کے باؤلر بھی اس کا شکار ہوئے جن میں نمایاں انگلش باؤلر سائمن جونز ،الیکس وارف اور مارٹن سگرز کے نام شامل ہیں لیکن حیرانی کی بات ہے کہ انگلش ٹیم کے سٹار بیٹسمین مارک بوچر بھی گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرہوئے اور بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شین وارن بھی اس تکلیف کا شکار رہے اور انہیں آپریشن کرانا پڑا۔یہ بات درست ہے کہ فاسٹ باؤلرز گھٹنے کی تکلیف کا زیادہ شکار ہوتے ہیں لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ یہ مرض صرف فاسٹ باؤلرز کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے بلکہ کرکٹ کے علاوہ ٹینس میں بھی یہ مرض ان دنوں کئی کھلاڑیوں کیلئے مصیبت بنا ہوا ہے ۔رواں سال رافل نڈال اس مرض کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف فرنچ اوپن میں لگاتار ایک اور ٹائٹل جیتنے سے محروم رہے بلکہ ومبلڈن اوپن میں بھی شرکت نہ کرسکے ، رافل نڈال کے ہمراہ ثانیہ مرزا ، سیرینا ولیمز اور ڈیونپورٹ بھی اس مصیبت سے جنگ لڑچکی ہیں ۔لہذا گھٹنے کی تکلیف صرف کرکٹرز تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی یہی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہونے والے اکثریت کھلاڑی بے وقت کھاتے رہتے ہیں اور پیٹ بھر کر کھاتے ہیں ، اس تکلیف میں زیادہ وہی کھلاڑی مبتلا ہوتے ہیں جو اپنے ”سپورٹس سپلیمنٹ “سے ہٹ کر انجوائمنٹ کی غرض سے چیزیں کھاتے ہیں اُن میں یہ تکلیف ابھرتی ہے اور آگے چل کر مسائل پیدا کرتی ہے ۔اگر کرکٹر ز پر نظردوڑائی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فلنٹوف اور شعیب اختر ”سپورٹس سپلیمنٹ “کی پرواہ کیے بغیر کھابے کھانے کے شوقین ہیں جیکب اورم اور ظہیر خان بھی یقینی طور پر اسی عادت سے مجبور ہونگے کیونکہ وہ بھی گھٹنے کی تکلیف کا ہمیشہ شکار رہتے ہیں۔