اعجازوسیم باکھری:
سال 2009ء کا اختتام ہوچکا ہے اور آج نئے سال 2010ء کا پہلا دن ہے۔2009ء کا سال پاکستان کے کھیلوں کیلئے زیادہ کامیاب اور مثبت ثابت نہیں ہوسکا۔کرکٹ ،ہاکی،سکوائش اور فٹبال کے میدان میں پاکستان کو قابل ذکرفتوحات نہیں ملیں۔کرکٹ کو سب سے زیادہ دہشت گردی کا نقصان پہنچایا جبکہ ہاکی اور سکوائش سیاست کی ستم ظریفی کا شکار رہیں جبکہ فٹبال کی صورتحال جوں کی توں رہی۔2009ء میں پاکستان کی کھیلوں کے میدان میں سب سے بڑی کامیابی ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ جیتنا تھا۔انگلینڈ میں ہونیوالے میگاایونٹ میں یونس خان کی قیادت میں پاکستان نے سری لنکا کو فائنل میں شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا۔
سال 2009ء کا آغاز پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز سے کیا لیکن دہشت گردی کی وردات نے پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل تباہ کرکے رکھ دیا ۔14ماہ کے طویل عرصے بعد پاکستان کو پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کیلئے ملا جوکہ سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد سے ممکن ہوا۔بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے وسیع پیمانے پر رخنہ ڈالنے کے باوجود سری لنکن حکومت نے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جوکہ اُن کی پاکستانی سے دوستی کا واضع ثبوت تھا مگر جب یہاں ٹیم مہمان بن کر آگئی تو پاکستانیوں نے مہمان کی حفاظت کرنے کی بجائے انہیں زندگی کی سب سے بڑی مصیبت میں ڈال دیا۔لنکن ٹیم پاک دھرتی پراُتری کھیلنے والا اور دیکھنے والا ہر کوئی چودہ مہینے کے صبر آزما انتظار کے بعد پاکستان میں دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کے شروع ہونے پر خوش تھا لیکن یہ خوشی زیادہ قائم نہ رہ سکی ۔لاہور میں ہونیوالے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز مہمان ٹیم ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم جارہی تھی کہ لبرٹی مارکیٹ کے گو ل چکر میں دہشت گردوں نے چاروں اطراف سے ٹیم بس پر فائرنگ کردی جس سے سب کچھ بدل کررہ گیا۔فائرنگ سے سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی اور نائب کوچ زخمی ہوگئے جب کہ چھ پولیس والے بھی اس دہشت گردی میں مارے گئے ۔اس واقع سے پاکستان کی بین الاقومی سطح پر خوب بدنامی ہوئی جس کا خمیازیہ ورلڈکپ 2011ء کی میزبانی سے ہاتھ دھونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آئی سی سی کے سودا بازی کی اور ورلڈکپ کے میچز کی میزبانی کی فیس اور زرتلافی وصول کرکے میچز کی میزبانی سے دستبرداری کا اعلان کردیا ۔بعض حلقوں کی جانب سے پی سی بی کے اس اقدام پر خاصی تنقید کی گئی لیکن بم دھماکوں کی جاری سیریز کو مدنظررکھ کر دیکھا جائے تو پی سی بی کافیصلہ درست تھا۔
دہشت گردی کی نذر ہونیوالے لاہور ٹیسٹ سے قبل کراچی میں کھیلے جانیوالے پہلے ٹیسٹ میچ میں یونس خان نے ٹرپل سنچری سکورکرکے اپنا نام ورلڈکلاس بیٹسمینوں کی فہرست میں درج کرایا جبکہ اس اعزاز سے چند روز پہلے کرکٹ بورڈ نے انہیں شعیب ملک کی جگہ قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا تھا۔
پاکستان نے شعیب اختر اور محمد آصف کی عدم موجودگی میں ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں حصہ لیا اور قومی کرکٹرز نے دلیرانہ کھیل پیش کرتے ہوئے مایوس اور اداس قوم کو ورلڈکپ جیت کر خوشی کا موقع فراہم کیا۔اس ایونٹ میں محمد عامر کی شکل میں پاکستان کو نیا سٹار ملا جبکہ شاہد آفریدی اپنے کیرئیر میں پہلی بار اپنے عروج پر نظر آئے۔انگلینڈسے ورلڈکپ کی ٹرافی اٹھائے پاکستانی ٹیم اگلے ہفتے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیلنے سری لنکا پہنچ گئی جہاں دونوں سیریز میں پاکستان کو شکست ہوئی۔بعدازاں پاکستان نے چیمپئنزٹرافی میں حصہ لیا جہاں بھارت کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی جبکہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ جیسی کمزور ٹیم کے ہاتھوں شکست نے کئی سوالات اور مسائل کو جنم دیدیا۔ قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین جمشید دستی نے ٹیم کی شکست کو میچ فکسنگ کا شاخسانہ قرار دیا تو یونس خان سے نہ رہا گیا اور انہوں نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا۔لیکن چند روز بعد پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے انہیں بطور کھیلنے پر راضی کرلیا لیکن ٹیم کے دیگر کھلاڑی یونس خان کے بطور کپتان کھیلنے پر خوش نہیں تھے جس کا خمیازیہ ابوظہبی میں پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
2009ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم صرف 9 ٹیسٹ میچز کھیلی جن میں سے صرف ایک میں ہی اسے کامیابی حاصل ہوسکی جبکہ چار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ سال پاکستان نے 20 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سے12 میں شکست کھائی اور صرف8 میچز اس نے جیتے ۔فاسٹ باؤلر محمد آصف نے ایک سال کی پابندی کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پی سی بی نے یونس خان کو کپتانی سے برطرف کرکے محمد یوسف کو یہ ذمہ داری سونپ دی ۔نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران نوجوان بیٹسمین عمراکمل کو ٹیسٹ کیپ دی گئی انہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کرکے اپنا انتخاب درست ثابت کردکھایا۔2009ء میں پاکستان نے آخری ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جہاں پاکستان کو 170رنز سے شکست ہوئی۔
قومی کھیل ہاکی میں بھی سال 2009ء مایوس کن رہا ۔پاکستانی ہاکی ٹیم نے اگرچہ فرانس میں ورلڈ کپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ جیت کر ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرلی لیکن اسے پولینڈ جیسی بے بی ٹیم نے بھی شکست کا مزہ چکھادیا۔چیمپئنز چیلنج میں ارجنٹائن اور پھر فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم جرمنی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ملائشیا میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم چین سے برابر کھیلنے پر مجبور ہوئی اور پھر فائنل میں اسے کوریا نے ایک گول سے ہرادیا۔پاکستان نے اس سال جونیئر ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی لیکن اس کی پوزیشن پانچویں رہی۔ جرمنی کی ٹیم چیمپئن بنی لیکن پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا کے علاوہ نیوزی لینڈ اور بیلجیئم نے بھی شکست سے دوچار کیا۔پاکستا ن نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 26میچز کھیلے ،19جیتے اور پانچ میں شکست کا سامنا کرناپڑا۔ انفرادی کارکردگی میں سہیل عباس اس لحاظ سے قابل ذکر رہے کہ وہ انٹرنیشنل ہاکی میں تین سو گول مکمل کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے ۔
ٹینس کے کھیل میں اعصام الحق ملک سے باہر پروفیشنل ٹینس کھیلتے رہے اور ڈبلز میں انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ ملکر ٹینس کنگ راجر فیڈرر اور اُن کے ساتھی کو شکست دی۔گالف کے کھیل میں پاکستانی گالفرز شبیر اقبال اور محمد منیر نے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔
گزشتہ سال ایک بار پھر سکواش کورٹ سے کوئی خوشخبری سننے کو نہ ملی حالانکہ پاکستان سکواش فیڈریشن نے بہت بلندو بانگ دعوے کیے لیکن ورلڈ اوپن ہو یا برٹش اوپن پاکستانی کھلاڑی کوالیفائنگ یا پھر پہلے دوسرے راوٴنڈ سے آگے ہی نہ بڑھ سکے اور مزید ایک سال یونہی گزر گیا۔
نیا سال شروع ہوچکا ہے اور ہماری دعاہے کہ 2010ء کا سال کھیلوں میں پاکستانی ٹیموں کیلئے کامیاب سال ثابت ہو ۔آمین۔
اردوپوائنٹ اورمیری طرف سے تمام قارئین کو نئے سال کی آمد مبارک ہو۔