اعجازوسیم باکھری:
فٹبال ،ٹینس اور اتھلیٹکس کے بعد کرکٹ ایسا کھیل ہے جہاں ٹیم کی ہار جیت میں کوچ کا اہم کردار ہوتا ہے۔دنیا کی ہرٹیم کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا کوچ دنیا کاسب سے زیادہ شاطراور حریف ٹیم کے گیم پلان کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو،یہی وجہ ہے کہ مہنگے ترین کوچز کو اپنی اپنی ٹیموں کیلئے مقرر کرنا اب ایک روایت بن چکی ہے اور اس روایت کو برقراررکھنے کیلئے ایشیائی ممالک کی ٹیموں کے زیادہ ترغیرملکی کوچز ہیں۔آسٹریلیا میں قومی ٹیم کی ذلت آمیز شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیرملکی کوچ کی تلاش شروع کردی ہے اور ابتدائی طور پرسری لنکن ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوانے والے ڈیوواٹمواور بھارتی ٹیم میں نئی روح پھونکنے والے آسٹریلوی سابق آسٹریلوی کرکٹرگریگ چیپل سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم چیپل نے آسٹریلوی یوتھ اکیڈمی کی ذمہ داریوں کی وجہ سے انکار کردیا ہے لیکن واٹمورسمیت نیوزی لینڈ کے سابق کپتان جان رائٹ سمیت متعد انگلش کاؤنٹیوں کے کوچز سے رابطہ کیا جارہا ہے اور کرکٹ بورڈ کی بھرپورکوشش ہے کہ ٹیم کیلئے اس بار کسی ایک شاطراور محنتی کوچ کو تیعنات کیا جائے جو بحران سے دوچار اور مسائل میں گھری ٹیم میں جان ڈال دے اور تاش کے پتوں کی طرح بکھرے کھلاڑیوں کو یکجاکرکے انہیں ایسی تربیت دے کہ وہ گراؤنڈ میں ایک ہوکر اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے ملک کیلئے کھیلیں۔
کرکٹ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ کو آسٹریلیا کے خلاف لگاتا9میچز میں قومی ٹیم کی ذلت آمیز شکست کے بعد ادراک ہوا کہ ٹیم کا کوچنگ سٹاف ناکارہ ہوچکا ہے اور ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن میں خود بھی سپارک ہواور وہ ٹیم میں بھی کرنٹ پیدا کریں،حالانکہ آسٹریلیا کے دورے سے پہلے بھی پاکستان نے ماسوائے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے اور کوئی بڑی کامیابی تو درکنار کوئی سیریز بھی نہیں جیتی تھی۔گورے کوچ چیف لاسن کی چھٹی کرانے کے بعد پاکستان نے یواے ای میں آسٹریلیا کے خلاف پانچ ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جہاں قومی ٹیم کو 3-2سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پھرٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ جوکہ محدود اوورز کی کرکٹ ہے اور ماہرین اس فارمیٹ کو کھیل کے روح کے منافی قرار دیتے ہیں میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی لیکن طویل عرصے بعد قوم کو عالمی کپ میں پاکستان کی جیت پر بے پناہ خوشی ملی تھی لیکن ورلڈکپ جیتنے کے بعد ٹھیک ایک ہفتہ بعد پاکستان نے سری لنکا کا دورہ کیا جہاں ٹیسٹ کے بعد ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کو ذلت آمیزشکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کی جیت کا نشہ اور خوشی یکدم ہرن ہوگئی۔یہاں سے شکستوں کے تاج سجائے قومی ٹیم نے چیمپئنزٹرافی میں حصہ لیا وہاں نیوزی لینڈ جیسے کمزور حریف سے جواب پاکستان کیلئے ایک مشکل ترین ٹیم بن چکی ہے کے خلاف سیمی فائنل میں شکست کھائی ۔پھرقومی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہی ابوظہبی میں ون ڈے سیریز میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا یہاں بھی کوچز کو ایک اور موقع دیکر نیوزی لینڈ لیجایا گیا لیکن وہاں بھی قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہترنہ آسکی تو کرکٹ بورڈ نے انوکھی منطق کے مترادف بولنگ کے شعبے کیلئے جوکہ پہلے سے ہی مضبوط تھا وقاریونس کو تعینات کردیا۔وقاریونس آسٹریلیا کے پورے دورے پر ٹیم کے ساتھ رہے جہاں پاکستان کو پہلے تین ٹیسٹ اور پھرمسلسل پانچ ون ڈے میچز کے بعد اولین ٹونٹی ٹونٹی میچ میں بھی رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔وقاریونس کو کرکٹ بورڈ نے کام جاری رکھنے کی درخواست کی لیکن ”وکی بوائے“نے گروپ بندی کا شکار ٹیم کی کوچنگ کرنے سے انکار کردیا اور دوسری جانب ٹیم کی مسلسل ناکامیوں اور کھلاڑیوں میں پیدا ہونیوالے انتشار نے کرکٹ بورڈ کو انتخاب عالم کو کوچنگ کے عہدے سے ہٹانے پرمجبورکردیا اور ان کی جگہ اعجازبٹ احمد کو دبئی میں انگلینڈ کے خلاف ٹونٹی ٹونٹی سیریز کیلئے کوچ تیعنات کردیا اور دوسری طرف ٹیم کیلئے کسی غیرملکی کوچ کی تلاش شروع کردی۔
اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کی ون ڈے اور ٹیسٹ کی عالمی رینکنگ میں مشترکہ ساتویں پوزیشن ہے ،پاکستان سے نچلی ریکنگ پرصرف ویسٹ انڈیز،بنگلہ دیش اور بھارت کی ٹیمیں ہیں لیکن جب باب وولمر قومی ٹیم کے کوچ تھے تب پاکستان کی ون ڈے اور ٹیسٹ میں تیسری رینکنگ تھی اور پاکستان سے بہتر درجہ بندی پر آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں تھی جبکہ پاکستان کونیوزی لینڈ، بھارت اورسری لنکا پر فوقیت حاصل تھی اورآج یہ تمام ٹیمیں پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئی ہیں۔اگر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان ٹیموں نے کوئی زیادہ ترقی نہیں کی البتہ پاکستانی ٹیم کے کارکردگی کے میعار میں بہتر فرق آچکا ہے۔باب وولمر کے دور میں پاکستانی ٹیم کا شمارمضبوط ترین ٹیموں میں ہوتا تھا لیکن بدقسمتی سے ورلڈکپ 2007ء میں قومی ٹیم ناقص کارکردگی کے صدمے کیو جہ سے وہ چل بسے لیکن ان کے بطور کوچ ساڑھے تین سال پاکستان کرکٹ ٹیم کے عروج کے سال تھے۔وولمر سے پہلے پاکستان نے وقاریونس کی کپتانی میں ساؤتھ افریقہ سے تعلق رکھنے والے رچرڈپائی بس کو بھی کوچ مقرر کیا گیا ،رچرڈپائی بس کو چند ماہ بعد اس وجہ سے برطرف کردیا گیا تھا کیونکہ وہ اپنے کیرئیر میں کوئی بھی ون ڈے یا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، ان کے بعد جاوید میانداد اور مدثرنذر کو کوچنگ دی گئی لیکن ٹیم کی اندرونی سیاست نے انہیں بھی رخصتی لینے پر مجبورکردیا تواُس وقت کے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹورمیض راجہ نے باب وولمر جوکہ جنوبی افریقی ٹیم کو بام عروج پر لیجانے کا اعزاز رکھتے تھے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ پر راضی کیا لیکن وولمرنے جس طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم میں قوت پیدا کرکے انہیں مضبوط یونٹ میں بدلا اس کے بدلے میں انہیں پاکستان میں وہ عزت و احترام نہیں دیا گیا۔باب وولمر کی موت کے بعد کرکٹ بورڈ نے سابق آسٹریلوی فاسٹ باؤلرجیف لاسن کو قومی ٹیم کا کوچ مقرر کیا لیکن پاکستانی میڈیا کے ساتھ سردمہریوں کیو جہ سے لاسن کا پاکستان میں ٹیم کی کوچنگ کا کرنا مشکل ہوگیا تھا البتہ ان کی کوچنگ کی پہلی اسائنمنٹ میں پاکستان نے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2007ء کے فائنل تک رسائی حاصل کی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم اور بھارت کے خلاف اوے ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔نسیم اشرف کی رخصتی کے بعد لاسن کی کوچنگ میں پاکستان کوسری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈز پر ون ڈے سیریز میں ذلت آمیزشکست کا سامنا کرنا پڑا،لاہور کے آخری ون ڈے میچ میں پاکستانی ٹیم صرف75رنزپرڈھیر ہوگئی تو پاکستانی میڈیا ،ناقدین اور سابق کرکٹرز نے آسٹریلوی کوچ کیلئے پاکستان میں زمین تنگ کردی۔پی سی بی کے موجودہ سربراہ اعجازبٹ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد نسیم اشرف کے ساتھی چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی سے بھی پہلے جیف لاسن کو سڈنی واپسی کا ٹکٹ تھما دیا اور بھارتی پنجاب ایسوسی ایشن ٹیم کی کوچنگ کرنے والے انتخاب عالم کو ٹیم کا کوچ بنادیا اور آسٹریلیا کے خلاف وائٹ واش کے بعد میڈیا اور سابق کرکٹرز نے ایک بارپھراپنی روایت کو دہراتے ہوئے انتخاب عالم کی برطرفی کا مطالبات شروع کردئیے جس پر بورڈ نے غورکرتے ہوئے انہیں دبئی سیریز کیلئے ٹیم کی کوچنگ سے روک دیا۔
اس وقت پاکستانی ٹیم مکمل طور پر انتشارکا شکارہے۔کرکٹ بورڈ نے ایک بارپھرغلط فیصلہ کرتے ہوئے شعیب ملک کو کپتان بنادیا جس کے بارے میں آسٹریلیا سے واپسی پر محمدیوسف کا کہنا تھا کہ ٹیم کی تباہی اور ناکامی کا اکیلا ذمہ دار شعیب ملک ہے جو گروپ بندی کا چیمپئن ہے۔کرکٹ بورڈ واٹمور یا جان رائٹ کو ٹیم کا کوچ مقرر کرے لیکن گروپ بندی اور انتشارکا خاتمہ اُن کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ کھلاڑی غیرملکی کوچ سے قابومیں آنیوالے والے نہیں،کرکٹ بورڈ کو پہلے ٹیم میں انتشار پھیلانے والے کھلاڑیوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی پھرکسی کوچ کا انتخاب کرنا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ گروپ بندی کے خاتمے کے بعد ٹیم کو غیرملکی کوچ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔