اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اور انگلینڈکے مابین دبئی میں آج دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ کھیلا جارہا ہے جہاں دونوں اطراف سے جیت کیلئے زبردست دعوے کیے جارہے ہیں۔پاکستانی ٹیم شعیب ملک کی قیادت میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے جانیوالے اپنے آخری ٹونٹی ٹونٹی میچ میں شکست کھا چکی ہے البتہ آسٹریلیا کے خلاف کھیل کر قومی کرکٹرز کی جہاں خاصی درگت بنی ہے وہیں اُن کی کافی اچھی پریکٹس بھی ہوچکی ہے اور یقیناً آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کا تجربہ یہاں دبئی میں ٹیم کے کام آئے گا اور 30اپریل سے ویسٹ انڈیز میں شروع ہونیوالے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ سے قبل پاکستان کے پاس جیت کے ٹریک پر واپس آنے کا یہ نادرموقع ہے کہ پاکستان انگلینڈ کے خلاف اچھی کرکٹ کھیلے اور اپنے ٹائٹل کے دفاع کیلئے ابھی سے تیاری شروع کردے۔
انگلش ٹیم پال کولنگ ووڈ کی قیادت میں کافی سخت ٹریننگ کے بعد پاکستان کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے اور انگلش ٹیم چونکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلنے کا کافی تجربہ رکھتی ہے اور ویسے بھی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغاز انگلینڈ سے ہی ہوا تھا مگر وہ تاحال بڑی کامیابی کی منتظرہے۔پاکستان جوکہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کا عالمی چیمپئن ہے کے خلاف انگلش ٹیم جیت کیلئے سرتوڑکوششیں کریگی کیونکہ اگرانگلینڈ کو یہاں کامیابی مل گئی تو ورلڈکپ میں وہ بھی فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے ،لیکن انگلینڈ کے مقابلے میں پاکستان کو دو بڑے ایڈوانٹیج ہیں ،پہلا دبئی کا ماحول اور کرکٹ کنڈیشنز پاکستان سے ملتی جلتی ہیں اور پاکستان کو وہاں ہوم کراؤڈ کی جانب سے بھی کافی سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور دوسرا بڑا ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو دبئی سپورٹس سٹی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلنے کا وسیع تجربہ ہے۔پاکستان چند ماہ پہلے نیوزی لینڈ کیخلاف دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز میں دوصفرسے کامیابی حاصل کرچکا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کونفسیاتی برتری حاصل ہوگی لیکن آسٹریلیا کے خلاف پے درپے شکستوں کی وجہ سے کھلاڑیوں پرپریشرضرورہوگا لیکن شعیب ملک کی قیادت میں پاکستان کو ٹونٹی ٹونٹی میچ میں شکست ہوئی اور پھرکھلاڑیوں کی آپس میں گروپ بندی کا فیکٹربھی پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجہ بن سکتا ہے۔شعیب ملک کو اس وقت ٹیم کا سب سے سازشی کھلاڑی کہاجارہا ہے اور اُس نے یوسف کے خلاف لاہور میں پریس کانفرنس کرکے اس بات کا ثبوت بھی پیش کیا کہ آسٹریلیا میں ٹیم کی شکست کی بنیادی وجہ کھلاڑیوں کی آپس میں رنجش تھی۔بہرحال اب وہ ٹیم کے کپتان ہیں اور وہ تمام چیزوں کو بھلا کر اپنی ٹیم کی کامیابی پرتوجہ دینگے۔مستقبل میں کیا ہوتا وہ بعد کی باتیں ہیں لیکن فی الحال شعیب ملک کو پوری ٹیم کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور ٹیم کو شکستوں کی بھنور سے نکالنا چاہئے۔اعجازاحمد ٹیم کے نئے کوچ مقرر کیے گئے ہیں وہ شعیب ملک کے زبردست حمایتی ہیں امید ہے دونوں مل کر ٹیم کو ورلڈکپ سے پہلے جیت کے ٹریک پر ڈال دیں گے۔ٹیم کے ساتھ ہردلعزیز کھلاڑی شاہد آفریدی بھی موجود ہیں پہلا میچ میں وہ باہر بیٹھ کر دیکھیں گے اور امید ہے کہ انہوں نے حالات سے کافی سبق سیکھ لیا ہے اور وہ مستقبل میں اسی غلطی نہیں کرینگے۔
انگلینڈ کے خلاف ان دو دوٹونٹی ٹونٹی میچز سے پاکستانی ٹیم کیلئے ورلڈکپ کیلئے اپنی سمت کا تعین کرنے میں آسانی ہوگی ،بالخصوص ٹیم میں شامل کیے گئے نوجوان باؤلروہاب ریاض اور محمد طلحہ کیلئے ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے یہ بہترین موقع ہے اور اگر یہ کھلاڑی یہاں پرفارمنس دینے میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف یہ مستقل طورپرٹیم کا حصہ بن جائیں گے بلکہ پاکستانی ٹیم کی قوت میں بھی اضافہ ہوگا۔یاسرعرفات بھی ایک طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں اور مستقل کبھی بھی ٹیم میں شامل نہیں رہے، اس سیریز میں ان کے کیرئیر کا بھی فیصلہ بھی ہوجائیگا ، کامران اکمل کو سلیکٹ نہیں کیا گیا سرفراز احمد کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا بھی موقع مل گیا ہے جبکہ عبدالرزاق ٹیم میں بھی لوٹ آئے ہیں۔آصف پابندی کی وجہ سے ٹیم کے ساتھ نہیں جاسکے کیونکہ ان کے دبئی داخلے پرپابندی ہے جبکہ عمران نذیر آسٹریلیا صرف ایک ٹونٹی ٹونٹی میچ کھیلنے گئے تھے اور رن آؤٹ ہوگئے تھے، اس کیلئے بھی یہ سیریز بہت بڑا چیلنج ہے جبکہ عمران فرحت بھی ابھی تک کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے،ورلڈکپ کی ٹیم میں وہ جگہ بناسکتے ہیں یا نہیں اس سیریز میں ان کی کارکردگی پرمنحصرہے۔