UrduPoint Sports

كھیل >> نیا اضافہ

اعجازوسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ کیخلاف یواے ای میں ہوم سیریز کیلئے ٹیسٹ ، ٹونٹی ٹونٹی اور ون ڈے کی ٹیموں کا اعلان کردیا ہے ۔شاہد آفریدی کو ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی کیلئے کپتان برقرار رکھا گیا ہے جبکہ ٹیسٹ سیریز کیلئے مصباح الحق کو نہ صرف طویل عرصے بعد ٹیم میں واپس طلب کیا گیا ہے بلکہ انہیں قیادت بھی سونپ دی گئی ہے۔پاکستان اورجنوبی افریقہ کے درمیان یواے ای میں دو ٹونٹی ٹونٹی ، پانچ ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا آغاز 26اکتوبر سے ہوگا جبکہ اختتام 24نومبر کوہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی منطق سمجھ سے باہرہے۔مثال کے طور پر مصباح الحق کو ٹیم کا کپتان بنانا اور عمران فرحت کو ٹیم میں دوبارہ شامل کرنا آسانی سے ہضم نہیں ہورہا جبکہ انتخاب عالم کی بطور منیجر تقرری بھی لوہے کا چنا چبانے کے مترادف ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ مصباح الحق طویل عرصے سے ٹیم میں واپسی کا منتظر تھا لہذا اُسے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع عطا کرنا ناگزیر ہوچکا تھا لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں کپتان کیوں مقرر کیا گیا ؟ وہ اچھے کپتان ثابت ہوتے ہیں یا نہیں ، ان کی قیادت میں ٹیم جنوبی افریقہ کو ہرانے میں سرخرو ہوتی ہے یا ہار جائے گی، ان سوالوں کا جواب تو دبئی اور ابوظہبی میں مل ہی جائیگالیکن یہ سوال فوری جواب کے منتظرہیں کہ کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق میں ایسا کیا دیکھا جو انہیں قیادت کے اعلیٰ رتبے پرفائز کردیا۔ مصباح الحق گزشتہ دس ماہ سے گھر پر بیٹھے تھے کیونکہ آخری بار انہیں آسٹریلیا میں آزمایا گیا جہاں وہ بری طرح ناکام رہے اور انہیں سائیڈ لائن کردیا گیا تھا ، انگلینڈ کیخلاف طویل دورے میں بھی مصباح سلیکٹرز اوربورڈ کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ موصوف انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے لیکن بورڈ کے جوہری نجانے مصباح کی کس ادا پر فدا ہوئے کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں صرف 1008رنز بنانے والے بیٹسمین کو قیادت سونپ دی۔ اگر مصباح حقیقی معنوں میں اسی اعزاز کا مستحق تھا تو اُسے انگلینڈ کیخلاف سیریزمیں کیوں شامل نہیں کیا گیا ، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینے کیلئے بورڈ نے چپ کا تالہ اپنے منہ پر لگایا ہوا ہے اور رہے ہمارے بیچاے چیف سلیکٹرصاحب تو وہ بڑے صاحب کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کی جرأت سے عاری ہیں ورنہ اگلی مرتبہ برطرف کیے جانے کی اُن کی اپنی باری آسکتی ہے لہذا وہ اپنی باری کو جاری رکھنے کے عوض خاموشی سے سائیڈ لائن ہوکر بندر تماشہ دیکھ رہے ہیں اور کچھ بولنے سے قاصر ہیں۔ اگر مصباح الحق جیسے 36سالہ آزمائے ہوئے بیٹسمین جسے اگر چلا ہوا کارتوس کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کو قیادت کا اعلیٰ منصب عطا کیا جاسکتا ہے تو یونس خان جیسے ٹیسٹ کرکٹ کے مئوثر بیٹسمین کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔مصباح الحق پر بھی ٹیسٹ بیٹسمین کا ٹیگ لگے طویل عرصہ بیت چکا ہے مگر اُسے اس بار تو ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی ٹیم میں بھی شامل کرلیا گیا ہے لیکن یونس کو کسی ایک فارمیٹ میں شامل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعجازبٹ صاحب بھی اپنے آقا زرداری صاحب کی طرح جو پسند آئے اُسے تعینات کرنے میں دیر لگانا گناہ سمجھتے ہیں۔اورایک اہل چاہئے وہ حقدار بھی ہو اُسے یوں نظرانداز کیا جاتا ہے جیسے امریکہ ڈرون حملے روکنے کیلئے پاکستان ”گزارش“نظرانداز کرتا ہے۔
عمران فرحت کی سلیکشن بھی سوالیہ نشان ہے۔ دورہ انگلینڈ میں وہ بری طرح ناکام ہوئے اورانہیں گھر کی راہ دکھادی گئی تھی لیکن وہ اب پھر ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں حالانکہ پاکستان واپس آکر انہوں نے نہ تو کرکٹ کھیلی اور نہ ہی کوئی فٹنس ٹیسٹ پاس کیا کہ جس کی بنیاد پر اُن کی سلیکشن کو میرٹ کی سربلندی قرار دیا جائے۔ بہت سے قارئین جانتے ہیں کہ عمران فرحت محمد الیاس صاحب کے داماد ہیں اور الیاس صاحب سلیکشن کمیٹی کے سنیئر ممبرہونے کیساتھ ساتھ اعجازبٹ کے یاروں میں بھی شمارہوتے ہیں تو محمد الیاس اورعمران فرحت کا اتنا تو حق بتنا ہے کہ وہ بادشاہ سلامت کے ساتھ قریبی روابط کا فائدہ اٹھائیں، لہذا عمران فرحت کی سلیکشن کو چیلنج کرنا بھی بے کارہے۔ جہاں تک انتخاب عالم کی ٹیم مینجر کے عہدے پرتقرری کا سوال ہے تو یہ بھی بٹ صاحب کی راج نیتی کا ایک داؤ ہے ۔یاور سعید کی چھٹی کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ کسی بھلے آدمی کو ٹیم مینجر بنایا جائیگا لیکن اعجازبٹ جس عمرمیں پہنچ گئے ہیں اُس عمرمیں انتخاب عالم کی عمرکے لوگ ہی بھلے آدمی لگتے ہیں۔لہذا میرے خیال سے مصباح الحق کی کپتانی سے لیکر انتخاب عالم کی تقرری خالصاً ذاتی پسند کی بنیاد پر ہوئی ہے ، اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کیلئے انتظار کرنے کے سوا ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے اور اگر کرکٹ کے شائقین کے بس میں کچھ ہوتا یا اُن کی خواہش کی کوئی قدر ہوتی تو یونس خان یوں سول آمریت کی بھینٹ نہ چڑھتے۔ بہرحال:یہ کرکٹ ٹیم بھی ہماری ہے اور مصباح الحق بھی ہمارے اپنے ہیں اور انتخاب عالم تو کئی دہائیوں سے ہمارے ہی چلے آرہے ہیں ،لہذا جوہوگیا سو ہوگیا لیکن خدارا اپنے ملک کی عزت کیلئے سب کھلاڑیوں کوملکر فائٹ کرنی چاہئے کیونکہ پاکستانی لوگ پی سی بی کے یہ انوکھے فیصلے تو برداشت کرجاتے ہیں لیکن پاکستان کی ہار کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.