اعجازوسیم باکھری:
اس بات میں توئی شک نہیں کہ کرکٹ پاکستانیوں کا سب سے پسندیدہ کھیل ہے۔ گوکہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لیکن کرکٹ ٹیم ہارے یا جیتے ، کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات لگیں یا کرکٹ بورڈ تنقید کا نشانہ بنے ،پاکستانی شائقین کی کرکٹ سے محبت میں کمی نہیں آسکتی، جس کی واضح مثال گزشتہ رات قذافی سٹیڈیم میں فیصل بینک ٹونٹی ٹونٹی کپ کے فائنل میں شائقین کی ریکارڈ تعدادمیں آمد ہے۔ یہ بات درست ہے کہ لاہور اور کراچی کا فائنل ہونے کی وجہ سے شائقین اپنی ہوم ٹیم کو سپورٹ کرنے کیلئے سٹیڈیم امڈ آئے لیکن شائقین کی اتنی بڑی تعداد میں آمد صرف فائنل میچ میں دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ ٹورنامنٹ کے سات دن تک ہرروز شائقین کی کثیر تعداد نے سٹیڈیم کا رخ کیا جس سے ظاہر ہوتا پاکستانی عوام کرکٹ سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے اور لوگ کسی بھی حال میں کرکٹ کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔
قومی ٹونٹی ٹونٹی کپ کئی لحاظ سے یاد گار ٹورنامنٹ رہاہے، پہلی بارکوئی میزبان ٹیم چیمپئن بنی اور لاہور جوکہ کرکٹ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہا۔ قذافی سٹیڈیم کی تاریخ میں فائنل میچ دیکھنے کیلئے ریکارڈ تعداد میں شائقین نے شرکت کی جبکہ گزشتہ پانچ سال سے لگاتار چیمپئن رہنے والی سیالکوٹ سٹالینز کی ٹیم ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل کھیلنے سے محروم رہی جبکہ فیصل آباد کی مضبوط ٹیم بھی جلد ہی ہمت ہار گئی ۔ شعیب اختر تن تنہا اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں لیکر آئے تاہم لاہور کے ہاتھوں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔لاہور کی ٹیم کی کامیابی میں آل راؤنڈر عبدالرزاق ،احمد شہزاد اور محمدیوسف کا کردار اہم رہا ۔ فائنل میں عبدالرزاق کی 71رنز کی اننگز شائقین کا مدتوں یاد رہے گی کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں انتہائی مشکل حالات میں اس سے پہلی اس معیار کی اننگز دیکھنے کو نہیں ملی۔رزاق نے ثابت کیا کہ وہ آج بھی دنیا کا بہترین آل راؤنڈر ہے اور ہرطرح کی کرکٹ میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حالیہ ٹونٹی ٹونٹی کپ میں شاہ زیب حسن کی کارکردگی بھی متاثر کن رہی ، شاہ زیب نے تمام ٹیموں کے نامور باؤلرز کی خوب درگت بنائی اور اپنی مرضی کے سٹروکس کھیل کر کراچی ڈولفنز کو باآسانی فائنل تک پہنچایا تاہم فائنل میں وہ کراچی کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور جلد آؤٹ ہوگئے ۔احمد شہزاد بھی اس ٹورنامنٹ میں کافی میچور بیٹسمین نظر آئے اور بہت سی دلکش شاٹس دکھائیں۔
فیصل بینک ٹونٹی ٹونٹی کپ کے کامیاب انعقاد سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور اور پاکستانی عوام بیرونی دنیا کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ پاکستان میں آج بھی شائقین سے کھچا کھچ سٹیڈیمز میں میچز ہوسکتے ہیں اور لوگ اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی چاہتے ہیں ۔سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ محض ایک حادثہ تھا جو آج سے دو سال پہلے پیش آیا لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر سیکورٹی ادارے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کا کامیاب انعقاد کرکے کئی بار یہ باور کراچکے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی ٹیم کا دورہ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگا اب صرف آئی سی سی اور دیگر ممالک کے رسپانس کا انتظار ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصل بینک ٹونٹی ٹونٹی کا کامیاب انعقاد کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کی میزبانی کرنے کیلئے تیار ہے ، امید ہے کہ آئی سی سی اس ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کو نظرانداز نہیں کریگی اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے سلسلے کو روکنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریگی۔ فیصل بینک ٹونٹی ٹونٹی کپ کے کامیاب انعقاد پر جہاں لاہور پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کو بھی اس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا کہ انہوں نے کم وقت میں ایک کامیاب ٹورنامنٹ کا شاندار اختتام کیا ، جس میں ہرزور 30ہزار سے زائد شائقین نے سٹیڈیم کا رخ کیا اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملا ، آخری روز کچھ دیر کیلئے گیٹ اس لیے بند کردیئے گئے کیونکہ شائقین کی کثیر تعداد کی وجہ سے ایک ایک فرد کو چیک کرنا مشکل ہوگیا تھا اس لیے کچھ دیر کیلئے گیٹ بند کیے گئے لیکن اوور آل انتظامی امور انتہائی پروفیشنل انداز میں نبھائے گئے جس پر پی سی بی کے لوگ مبارکباد کے حقدار ہیں ۔