اعجازوسیم باکھری:
یونس خان کے پرستاروں کیلئے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے کہ وہ نو ماہ بعد پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپس آگئے ہیں بلکہ یوں کہا جائے توبے جا نہ ہوگا کہ انہیں واپسی پر راضی کرکے ٹیم میں دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے۔ دورہ آسٹریلیا میں گروپ بندی کے الزامات کی وجہ سے ان پر غیرمعینہ مدت کیلئے پابندی عائد کردی گئی تھی لیکن شعیب ملک کیلئے سرکاری سفارش نے یوسف ، کامران اکمل ، عمراکمل ، شاہد آفریدی اوررانا نوید الحسن کے بعد یونس خان کیلئے بھی راہ ہموارکی اور بالآخر اعجازبٹ نے مجبوری ہی سہی یونس کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ پیدا کرہی لیا اور اُسے واپسی کا گرین سگنل دیکر فوری طور پر جنوبی افریقہ کیخلاف 26اکتوبر سے شروع ہونیوالی نیوٹرل سیریز کیلئے پاکستانی ٹیم کے کیمپ میں شامل کرلیا۔
ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستانی شائقین کی اکثریت یونس خان کو ٹیم میں واپس دیکھنا چاہتی تھی اور لاتعداد لوگوں کی خواہش تھی کہ جس طرح کرکٹ بورڈ نے دوسرے کھلاڑیوں کو معافی نامہ تھما کر ٹیم میں واپس شامل کیا اُسی طرح یونس کو بھی معاف کرکے موقع دیا جانا چاہئے کیونکہ انصاف سب کے ساتھ برابر ہونا چاہئے۔ عوامی امنگوں کے مطابق یونس خان دوبارہ ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں اور اب یونس خان پر منحصر ہے کہ وہ ٹیم میں واپس آکر شائقین کرکٹ کو خوش کرتے ہیں یا ماضی کی طرح گروپ بندی کے عنصرکو ہوا دیکھ کر ٹیم کا ماحول خراب کرتے ہیں۔ ڈسپلن پر عمل ہوتا ہے یا نہیں ، یونس ٹیم کی فتوحات میں آسانیاں پیدا کریگا یا مسائل میں اضافے کا سبب بنے گا یہ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کریگا لیکن فی الحال بڑی خبریہی ہے کہ اعجازبٹ نے اب فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جو ذاتیات کی بجائے ملکی کرکٹ کے مفاد میں ہوں اوریونس کی واپسی بھی اُسی کی ایک کڑی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات نظرانداز نہیں کرنی چاہئے کہ یونس کی واپسی گوکہ پہلے سے طے تھی لیکن موجودہ حالات میں محمدیوسف کا زخمی ہوکر سیریز باہر ہونا یونس کی جلد واپسی کا سبب بناہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق شاید نہ کریں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یونس اور یوسف کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی کو ہوا دیتے تھے اور دونوں میں اس وقت ناراضگی چل رہی ہے جس کا واضح ثبوت فیصل بینک ٹونٹی ٹونٹی کپ کا پشاور بمقابلہ لاہور کا راؤنڈ میچ ہے جہاں لاہور لائنز کے کپتان محمدیوسف نے پشاور کیخلاف اس لیے کھیلنے سے انکار کردیا کیونکہ مخالف ٹیم کے کپتان یونس خان تھے۔ یہ بات درست ہے کہ آپس میں ناراضگی ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن یہ ناراضگی اپنی ذمہ داری اور قومی فریضے پر غالب نہیں آنی چاہئے کیونکہ یوسف یونس کیلئے نہیں کھیلتا اور نہ ہی یونس کے اچھا کھیلنے سے یوسف کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ دونوں پاکستان کیلئے کھیلتے ہیں اور ذاتی عناد کو قومی ذمہ داری پر فوقیت دینا کسی صورت میں قبول نہیں لہذا دونوں اپنے اپنے کیرئیر میں تلخ تجربات کرچکے ہیں اور اب اگر ایک ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو انکار نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے پاس ماضی کی کئی بڑی مثالیں موجود ہیں جب کھلاڑی آپس میں بولنے سے بھی گریز کرتے ہیں لیکن گراؤنڈ میں اُتر کروہ حریف ٹیم کیلئے وبال بن جاتے تھے، وسیم اکرم اوروقاریونس کی رنجش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن کبھی بھی ان دونوں نے ذاتی عناد کو اپنی کارکردگی پر حاوی نہیں ہونے دیا تھا بلکہ چپقلیش کے دوران یہ مزید اچھا پرفارم کرکے ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کیلئے کوشاں رہتے تھے جس کا ٹیم کو فائدہ پہنچتا تھا ۔
بہرحال :یونس خان کی واپسی پاکستانی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کیلئے نیک شگون ثابت ہوگی کیونکہ ہمیں اُن کے آف دی فیلڈ کارناموں سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن بطور بیٹسمین یونس محمدیوسف کے پائے کے بیٹسمین ہیں ۔ بدقسمتی سے یوسف انجرڈ ہوکر جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز سے باہر ہوگئے ہیں تاہم مصباح الحق اور یونس خان بیٹنگ کی ذمہ داریاں توقع ہے کہ احسن طریقے سے نبھائیں گے ۔یونس خان نے اگر اپنے غصے پر کنٹرول رکھا اور کھلاڑیوں کو پھرکسی نئے گروپ میں تبدیل نہ کیا تو پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کو ٹف ٹائم دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ، میچ فکسنگ اور دیگر الزامات اور مسائل میں الجھی پاکستانی ٹیم اب مزید کسی بحران کی متحمل نہیں ہوسکتی ، امید ہے کہ سینئر کھلاڑی صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ٹیم کیلئے زحمت کی بجائے باعث رحمت ثابت ہونگے۔