اعجازوسیم باکھری:
یوں لگتا ہے کہ جیسے میچ فکسنگ کے ایشونے پاکستانی ٹیم سے جیت کی عادت چھین لی ہے کیونکہ یواے ای میں کھیلی جانیوالی ہوم سیریز میں بھی پاکستانی ٹیم کو لگاتار تیسرے میچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 8وکٹوں کے بھاری مارجن سے ہراکر پانچ میچز کی سیریز میں ایک صفرکی برتری حاصل کرلی ہے۔
دوٹونٹی ٹونٹی میچز میں شکست کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز میں مختلف روپ میں نظرآئے گی لیکن ٹیم نے نہ توروپ بدلہ اور نہ ہی شکستوں کے تسلسل کو توڑا۔ماضی کی طرح ابتدا میں بہترین آغاز ملنے کے باوجود قومی ٹیم میچ پر گرفت مضبوط نہ رکھ سکی اور بیٹسمین خودکشیاں کرتے چلے گئے اور افریقی باؤلرز اپنے مقاصد میں باآسانی کامیاب ہوتے رہے۔ شاہد آفریدی نے پہلے دو ٹونٹی ٹونٹی میچز بھی ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی تھی اور اس بار پہلے ون ڈے میچ میں بھی ٹاس جیتنے کے بعد بیٹنگ کرنے کافیصلہ کیا جوکہ ابتدامیں تو درست لگ رہا تھاکیونکہ اسد شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد محمدحفیظ اوریونس خان نے 114رنز کی شراکت قائم کرکے میچ پر گرفت مضبوط کرنا چاہی لیکن ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد دیگر کوئی بھی بلے باز نہ تو مزاحمت کرسکا اور نہ ہی ٹیم فائدہ پہنچا سکا۔محمدحفیظ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 68رنزکی اننگ کھیلی جبکہ سابق کپتان یونس خان نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے مشکل حالات میں 54رنز دلیرانہ اننگز کھیل کر ناقدین کے منہ بند کردئیے۔ یونس خان پی سی بی کے چیئرمین اعجازبٹ کے ساتھ ذاتی رنجش کی بنا پر 262 دن تک قومی ٹیم سے دور رہے اوردس دن پہلے اعجازبٹ کے ساتھ ملاقات میں معافی تلافی ہونے کے بعد اُن کی ٹیم میں واپسی کے دروازے کھلے اور یونس نے اپنی پہلی ہی اننگز میں ثابت کردیا کہ وہ ٹیم کی ضرورت ہیں اور یونس کی اننگز سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔یونس نے ٹونٹی ٹونٹی میچز میں بھی کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن ٹیم منیجر انتخاب عالم اوروقاریونس نے انہیں حتمی سکواڈ کا حصہ بنانے سے گریز کیا لیکن ون ڈے میچ میں یونس کو نہ کھلانے کا کوئی جواز نہیں مل رہا تھا جس کے باعث سابق کپتان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں دوبارہ واپسی ہوئی۔یونس خان ایک ایسا بیٹسمین ہے جو کسی بھی بھی بولنگ اٹیک کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے ، اپنے پورے کیرئیر میں یونس خان نے ہمیشہ ایسی اننگز کھیلیں جن سے براہ راست ٹیم کو فائدہ پہنچا ، کل کے میچ میں بھی ان کی 54رنز کی اننگزٹیم کیلئے مفید ثابت ہوسکتی تھی اگر ان کے بعد آنے والے بیٹسمین ذمے داری سے کھیلتے۔ بطور بیٹسمین کسی بھی کرکٹ شائق کو یونس خان شکواہ نہیں ہے البتہ آف دی فیلڈ سرگرمیوں اور کپتانی کے دنوں چند فیصلوں کی وجہ سے یونس کی شہرت کو نقصان پہنچا لیکن بیٹنگ کارکردگی سے یونس نے ہمیشہ اپنی اہمیت کا احساس دلایا۔ بہرحال یونس کی ٹیم میں واپسی خوش آئند ہے تاہم یہ الگ بات ہے کہ یونس خان نے آتی ہی کامیابی حاصل کرلی اور پاکستانی ٹیم نجانے کب تک کامیابی سے محروم رہے گی۔
پہلے ون ڈے میچ میں پاکستانی ٹیم نے صرف 203رنز سکور کیے جوکہ پچاس اوور کے میچ کیلئے انتہائی قلیل ہدف تھا جس کو جنوبی افریقہ نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔پہلے ون ڈے میں پاکستان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ کپتان شاہد آفریدی ہیں کیونکہ بطور کپتان انہیں ایسی اوچھے انداز کی بیٹنگ زیب نہیں دیتی کیونکہ کپتان دوسرے کھلاڑیوں کیلئے مثال ہوتا ہے اور اگر کپتان ہی غیرذمہ دار ہوتو اس کا براہ راست اثر دوسرے کھلاڑیوں پر پڑتا ہے۔ پہلے دو ٹونٹی میچز میں بھی آفریدی نے جلدبازی میں اپنی وکٹ گنوائی اور اب پہلے ون ڈے میں بھی وہ اُس وقت غلط شارٹ کھیل بیٹھے جب ٹیم کو اُن کی سخت ضرورت تھی۔ شاہد آفریدی کو چاہئے کہ وہ اپنی بیٹنگ کارکردگی پر توجہ دیں کیونکہ جب وہ اچھا کھیلیں گے اور دوسرے کھلاڑی بھی بہتر کھیل پیش کرینگے تو ایسے میں ٹیم فتحیاب ہوگی اور ان کی قیادت بچی رہے گی ورنہ موجودہ حالات میں تو ان کی کپتانی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ فواد عالم سے کچھ توقعات وابستہ تھیں کیونکہ ایک پرانی کہاوت ہے کہ ”کھوٹے سکے کسی بھی وقت چل سکتے ہیں“ لیکن پہلے ون ڈے میں پرانے سکے تو چل گئے مگر کھوٹے سکے کھوٹے ہی نکلے۔
بہرحال دو ٹونٹی ٹونٹی اور ایک ون ڈے میچ دیکھنے کے بعد یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ قومی ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ٹیم کے ساتھ موجود دونوں کوچز وقاریونس اور عاقب جاوید باؤلر ہیں لہذا کھلاڑیوں کی خراب تکنیک کو درست کرنے کیلئے ٹیم کو فوراً بیٹنگ کوچ ناگزیر ہوگیا ہے۔ کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی پے در پے شکستوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور معلوم کرنا ہوگا کہ اصل خرابی کہاں ہے کیونکہ ورلڈکپ میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اس لیے ورلڈکپ سے پہلے جوبھی تجربات کرنے ہیں کرلیے جائیں تاکہ ٹیم جب میگاایونٹ میں شرکت کیلئے میدان میں اترے تو حریفوں کو احساس ہو کہ پاکستان ورلڈ کپ جیتنے کیلئے میدان میں اترا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوسرا ون ڈے میچ 31اکتوبر کو کھیلا جائیگا۔