اعجازوسیم باکھری:
اگر یہ کہاجائے گزشتہ رات جنوبی افریقہ کیخلاف دوسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم بری طرح ہارگئی اور عبدالرزاق جیت گئے تو غلط نہ ہوگا۔ ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں رزاق نے جس بے دردی سے جنوبی افریقی باؤلنگ لائن اپ کا قتل عام کیا وہ شائقین کبھی بھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی ایک وکٹ سے کامیابی نہ صرف پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی بہترین کامیابی ہے بلکہ ماہرین نے رزاق کی اننگز کو ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کی سب سے دلچسپ اور میچ وننگ اننگز قرار دیا ہے۔ رزاق نے ثابت کیا کہ وہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی ٹیم کیخلاف میچ اپنے حق میں بدل سکتا ہے۔10چھکوں اور سات چوکوں سے سجی رزاق کی یہ تاریخ ساز اننگز پاکستانی شائقین کیلئے کسی تحفے سے کم نہیں ہے کیونکہ مسلسل ناکامیوں اور تنازعات نے شائقین سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے دعائیں مانگنے کی عادت بھی چھین لی تھی مگررزاق کی اننگز نے انہیں خوشی کا موقع عطا کیا اور چہروں پر مسکراہٹ واپس آگئی ۔ کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم مرتبہ ایسا دیکھنے میں آیا کہ کسی بیٹسمین نے ساتویں نمبرپر بیٹنگ کرتے ہوئے انتہائی اعصاب شکن حالات میں تن تنہا اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی ہو۔ ماضی میں مائیکل بیون ، موجودہ دور میں مائیکل ہسی ، یوراج سنگھ اور چندرپال نے اس طرح کے حالات میں اپنی ٹیم کو کامیابیاں دلائی ہوئیں ہیں لیکن جس اضطرابی صورتحال کا سامنا عبدالرزاق کو تھا شاید اس جیسے حالات کسی اور کے سامنے نہ آئے ہوں، کیونکہ رزاق نے تو ایک ایسا میچ جتوایا جو ہاتھ سے نکل گیا تھا اور آخری بال شارٹ تک کسی کو توقع نہیں تھی کہ یہ میچ پاکستان جیت سکتا ہے کیونکہ جب نو کھلاڑی آؤٹ ہوجائیں تو امیدیں ختم ہوجاتی ہیں اور توقعات میں بھی کمی آجاتی ہے لیکن رزاق کے حوصلے کو داد دینا ہوگی کہ وہ ایک شیر کی طرح ڈٹا رہا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوکررہا۔رزاق کی اس یادگار اننگز نے جہاں پاکستانی شائقین کو خوشی کا موقع فراہم کیا وہیں پاکستانی ٹیم مینجمنٹ اور دیگر کھلاڑیوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع بھی مل گیا بلکہ وہ رزاق کی اس اننگز پر اس لیے اچھل اچھل کر خوش ہورہے تھے کہ کیونکہ رزاق نے میچ جتوا کر ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دیاہے ۔ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کو اس تاریخی فتح کو انجوائے کرنا چاہئے اور ان کا خوش ہونا بھی حق بجانب ہے لیکن انہیں اپنی غلطیوں کو درست بھی کرنا چاہئے کیونکہ باربار بیٹسمین وہی غلطیاں کرتے چلے آرہے ہیں جو عرصہ دراز سے پاکستانی ٹیم کی کمزوری بنی ہوئی ہیں۔ فیلڈنگ کا شعبہ تاحال ٹھیک نہیں ہوسکا حالانکہ ٹیم کے ساتھ تین کوچز موجود ہیں لیکن ہرمیچ میں دو سے تین رن آؤٹ مس کیے جاتے ہیں اور بیٹنگ کے دوران کھلاڑی اس قدر ناتجربہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہر میچ میں جس طرح تین سے چار کیچز ڈراپ ہونا ایک معمول بن گیا ہے اسی طرح ہرمیچ میں دو سے تین کھلاڑی بلاوجہ رن آؤٹ ہوجاتے ہیں ۔ قومی ٹیم کی مینجمنٹ کو ان چیزوں پر کنٹرول کرنا ہوگا کیونکہ پاکستانی ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا اور جب بھی میچ جیتا کسی ایک کھلاڑی نے اپنی انفرادی کارکردگی سے جتوایا ، جس ٹیم کی کامیابی میں ٹیم ورک نظر نہ آتا ہووہ ٹیم نہیں ایک گروپ کہلواتا ہے لہذا پاکستانی ٹیم کو اب ایک ٹیم کی طرح کرکٹ کھیلنی چاہئے کیونکہ موجودہ حالات اس کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ آئی سی سی نے عامر ، آصف اور سلمان بٹ کی معطلی کی اپیل خارج کرکے ایک طرح عندیہ دیا ہے کہ کھلاڑی قصوروار ہیں لہذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور ہوش مندی سے کام لیں۔
سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا شکار محمد عامر اور سلمان بٹ جب دبئی میں اپنی معطلی کیخلاف اپیل کی سماعت کیلئے جارہے تھے تو توقع یہی کی جارہی تھی کہ دونوں کھلاڑیوں کی اپیل قبول ہوگی اور ان پر عارضی معطلی ختم کردی جائے گی لیکن گزشتہ روز آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ چیئرمین مائیکل بیلوف نے اپیل خارج کرتے ہوئے معطلی کو برقرار رکھنے کافیصلہ کیا۔ اس فیصلے کیخلاف پاکستان میں شدید رد عمل سامنے آرہا ہے ۔ سابق کرکٹرز نے اس فیصلے کو آئی سی سی کا تعصب قرار دیا ہے جبکہ پی سی بی نے اپنی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ آئی سی سی کے سپرد ہے لہذا ہم کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کے ساتھ رعائت برتنے کے موڈ میں نہیں ہے ۔ اگر کھلاڑیوں نے جرم کیا ہے تو تاحیات کی پابندی سے کم سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ آئی سی سی کا اپنا وقار داؤ پر لگ گیا ہے لیکن اگر کھلاڑی بے گناہ ہیں اور پھنسایا گیا ہے تو تب بھی آئی سی سی آنکھیں بند کیے حقائق جاننے کے موڈ میں نہیں ہے اور کھلاڑیوں کو عبرت کا نشان بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ دبئی روانگی سے ایک روز قبل میری محمد عامر سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں عامر کافی مطمئن نظر آرہے تھے اور باربار وہ یہی کہہ رہے تھے کہ انہیں یقین ہے کہ معطلی ختم ہوجائے گی لیکن آئی سی سی کا کل کافیصلہ نہ صر ف ہمارے لیے بلکہ محمد عامر کیلئے بھی حیران کن ہوگا ۔اس وقت تک بھی اس کیس کے بارے میں حتمی رائے دینا ممکن نہیں ہے کہ آگے کیا ہوگا اور اصل کہانی کیا ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ جوکہ آئی سی سی کی نظروں میں احمقوں کی جنت ہے کو چاہئے کہ کھلاڑیوں کی مدد کرے اور آئی سی سی پر پریشر ڈالا جائے کہ وہ میرٹ پر فیصلہ کرے ناکہ تعصب پرستی پر کیونکہ بھارتی کھلاڑی سریش رائنا کی خبریں گردش ایام ہیں کہ ان کے بکیز کے ساتھ روابط تھے لیکن اس کیخلاف تحقیقات کرنا بھی گوارا نہیں کیا گیا اور ہمارے کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کافیصلہ کرلیا ہے یہ کسی صورت میں قبول نہیں۔ اب پی سی بی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور آئی سی سی کو مجبور کیا جائے کہ وہ میرٹ پر فیصلے کرے کیونکہ گزشتہ روز کی سماعت اور فیصلے میں میرٹ کی بجائے تعصب پرستی کی بو آرہی ہے اور یوں محسوس ہورہا ہے کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو عبرت کا نشان بنانے کیلئے میرٹ کو نظرانداز کررہا ہے ۔
بہرحال: یہ کیس اب اس حد تک پیچیدہ ہوگیا ہے کہ عام آدمی تو درکنار کھلاڑیوں کو بھی علم نہیں کہ کل کیا ہوگا تاہم ہماری دعاہے کہ فکسنگ کے الزامات صرف الزامات ہی رہیں۔