اعجازوسیم باکھری:
جنوبی افریقہ نے پاکستان کو تیسرے ون ڈے میچ میں دو رنز سے شکست دیکر ایک بارپھر سیریز میں برتری حاصل کرلی ہے۔دبئی سپورٹس سٹی کے خوبصورت سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو جیت کیلئے 229رنز کا ہدف دیا جواب میں پاکستانی ٹیم نووکٹوں پرمقررہ اوورز میں 226رنز بنا سکی۔ سنسنی خیزمقابلے میں کئی اتارچڑھاؤدیکھنے کوملے اور ایک موقع ایسا آیا کہ پاکستان فتح کے نزدیک پہنچ گیا لیکن فواد عالم کی بچگانہ حرکت کی وجہ سے پاکستان ایک اور تاریخ جیت سے محروم رہا۔فواد عالم نے 67گیندوں پرناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 59رنز بنائے اور ایک معمولی سی غلطی کی وجہ سے ٹیم کو شکست کے منہ میں دھکیل دیا ۔ پاکستان کو آخری اوور میں جیت کیلئے 12رنز جبکہ آخری تین گیندوں پر پانچ رنز درکار تھے اس موقع پر فواد عالم نے غیرمتوقع طور پر سنگل لے کر سٹرائیک اینڈ سعید اجمل کے حوالے کردیا جوکہ پہلے سے ہی خوفزدہ لگ رہے تھے اور وہ اگلی ہی گیند پربولڈ ہوگئے جبکہ آخری آنے والے بیٹسمین شعیب اختر آخری گیند پر درکار چار رنز مکمل کرنے کیلئے باؤنڈری لگانے میں ناکام رہے۔ بظاہرتو فواد عالم نے ڈٹ کر بیٹنگ کی اور ایک اینڈسنبھالے رکھا تاہم ایسی کارکردگی کسی کھاتے میں نہیں ڈالی جاسکتی جو ٹیم کو فائدہ نہ پہنچا سکے۔ فواد عالم ایک طویل عرصہ سے ٹیم کے ساتھ منسلک ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ وہ ٹیم پر مسلط ہیں ۔ بطور سفارشی کھلاڑی انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ان کی سلیکشن پر کئی سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو میں اچھا پرفارم کروں مگر وہ شعیب ملک کی طرح سفارش پر ٹیم میں بھی رہنا چاہتے ہیں اور کچھ کرنا بھی نہیں چاہتے۔
دوسرے ون ڈے میں عبدالررزاق کے سامنے اس سے کہیں زیادہ مشکل صورتحال تھی مگراُس نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ایسی شارٹس تھیں جن پر سنگل لینے سے گریز کیا کیونکہ سیٹ بیٹسمین کو سٹرائیک اینڈ اپنے پاس رکھنا ہوتا ہے تاکہ اناڑی کی بجائے وہ خود شارٹ کھیلے ۔لیکن فواد عالم نجانے کیا سوچ کر یا خوفزدہ ہوکر سٹرائیک اینڈ چھوڑ کرچلے گئے اور ایک جیتا ہوا میچ گنوا دیا۔ لیکن اس کے باوجود فواد عالم کو اس بات کا بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ آخرتک وکٹ پر موجود رہا اور اس نے جیت کی امیدیں بحال رکھیں ۔ عبدالرزاق سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں تاہم قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ صرف 12رنز بنانے کے بعد کیلس کی شارٹ پچ گیند پر ہٹ لگانے کی کوشش میں کیپر کے ہاتھ کیچ آؤٹ ہوگئے۔ کپتان شاہد آفریدی ایک بارپھر لمبی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور7رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ یونس خان کیلئے بھی یہ میچ زیادہ اچھا ثابت نہ ہوسکا اور انہیں صفر کی خفت سے دوچار ہونا پڑا۔ دبئی سپورٹس سٹی کی وکٹ پر ہدف پورا کرنا ہمیشہ دوسری ٹیم کیلئے چیلنج ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ابوظہبی میں پاکستان نے 287رنز کا ہدف پورا کیا اور یہاں دبئی میں ٹیم 229رنز کا ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام رہی ۔
بیٹنگ میں اگر فواد عالم غفلت نہ کرتے تو ممکن ہے کہ پاکستان یہ میچ جیت جاتا تاہم بولنگ میں پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی بہتر رہی۔شعیب اختر نے عمدہ بولنگ کی اور ابتدائی اوورز میں کیلس اور انگرام کی وکٹیں لیکر افریقی ٹیم پر پریشر ڈالااور انہیں ایک بڑے ٹوٹل تک رسائی سے محروم رکھا ۔جبکہ شاہد آفریدی اور محمد حفیظ نے بھی نپی تلی بیٹنگ کی۔جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاشم آملہ کو داد دینا ہوگی کہ وہ پورے 50اوور تک وکٹ پر موجود رہے اور 119رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو قابل تحسین مجموعہ تک رسائی کا موقع فراہم کیا۔ ہاشم آملہ عصرحاضر کے نمبرون بیٹسمین ہیں اور وہ اس وقت کارکردگی کے لحاظ سے اپنے عروج سے گزررہے ہیں۔ آملہ نے پاکستانی باؤلرز کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور اگر وہ ابتدا میں آؤٹ ہوجاتے تو افریقی ٹیم کیلئے دو سورنز بنانے بھی مشکل ہوجانے تھے لیکن آملہ نے خود کو ایڈجسٹ کیا اور فائٹ پر بھرپور اننگز کھیل کر اپنے بڑے کھلاڑی ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ تیسرے میچ میں گوکہ پاکستان کو شکست ہوئی لیکن بولنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی پاکستانی ٹیم نے ماضی کے مقابلے میں اچھی کارکردگی دکھائی اور کھلاڑیوں کی پھرتی سے واضح جھلک رہا تھا کہ وہ فٹ ہیں اور فیلڈنگ پر خاصی توجہ دی جارہی ہے۔
بہرحال :پاکستان ایک بارپھر پانچ میچز کی سیریز میں ایک میچ کے خسارے میں چلا گیا ہے اور سیریز برابر کرنے کیلئے جمعہ کو کھیلے جانے والے چوتھے میچ میں تینوں شعبوں میں شاندار کارکردگی پیش کرنا ہوگی اور بالخصوص بلے بازوں کو اپنی ذمہ داری دکھانا ہوگی۔ ایک طویل عرصہ بعد پاکستانی ٹیم کے میچز انتہائی دلچسپ اور سخت دیکھنے کو مل رہے ہیں ، توقع ہے کہ سیریز کا چوتھا میچ بھی ایک شاندار کرکٹ معرکہ ہوگا۔