اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے جنوبی افریقہ کو چوتھے ون ڈے میں انتہائی سنسنی خیز اوردلچسپ مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دیکر پانچ میچز کی سیریز دو،دو سے برابرکردی ہے۔دبئی سپورٹس سٹی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں شائقین کو ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا ایک اور اعصاب شکن مقابلہ دیکھنے کوملا۔ پاکستانی ٹیم کیلئے کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کرجانے والے میچ کا نقشہ ہرلمحے تبدیل ہوتا رہا اور بعض لمحات پر ایک ٹیم کا پلڑا بھاری ہوتا تو دوسری ٹیم مہارت ، تجربہ اور بہتر حکمت عملی کی وجہ سے کم بیک کرنے میں کامیاب ہوتی ہوئی نظرآئی۔ آخر میں عبدالرزاق کے آؤٹ ہونے کے بعد میچ تقریباً پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا تاہم وہاب ریاض کی جارحانہ بیٹنگ نے پاکستان کی امیدوں کو برقرار رکھا اور آخرمیں شدید اضطرابی صورتحال میں ذوالقرنین حیدر اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنارکرنے میں سرخرورہے۔
گزشتہ رات کے میچ میں جنوبی افریقی ٹیم بھرپورتیاری کے ساتھ میدان میں اتری ، اس اہم میچ کیلئے ریگولرکپتان گریم سمتھ سمیت فاسٹ باؤلرز ڈیل اسٹین اور پرنل کو میدان میں اتارا گیا اور ان تینوں نے اپنی ٹیم کو چوتھے ہی میچ کے دوران سیریز میں کامیابی دلانے کی بھرپور محنت کی تاہم جیت پاکستان کا مقدر تھی اور گریم سمتھ کی 92رنز کی شاندار اننگ اُس کی ٹیم کے کام نہ آسکی۔ سمتھ اگر وہاب ریاض کا اہم موڑ پر کیچ پکڑنے میں کامیاب رہتے تو ممکن ہے افریقی ٹیم چوتھے میچ میں شکست سے بچ جاتی تاہم فیلڈنگ میں فاش غلطیوں کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مہمان ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے پاکستان کو جیت کیلئے 275رنز کا ٹارگٹ دیا جوکہ پاکستانی ٹیم کیلئے بظاہر مشکل ہدف لگ رہا تھا کیونکہ تین دن پہلے اسی گراؤنڈ پر پاکستانی ٹیم 229رنز کا ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام رہی تھی۔ افریقی ٹیم کا مجموعہ پونے تین سوتک نہ پہنچتا اگر شاہد آفریدی اپنے باؤلرز کا عقل مندی کے ساتھ استعمال کرتے۔ آخری پانچ اوور جوکہ عموماً بیٹنگ سائیڈ کا پاور پلے ہوتے ہیں میں صرف ایک اوور شعیب اختر کو دیا گیا جبکہ باقی چار اوور حفیظ اور وہاب ریاض نے کیے جس میں ضرورت سے زائد رنز دئیے گئے ۔ بطور کپتان شاہد آفریدی اب تک بولرز کا صحیح موقع پر استعمال کرنے میں ناکام چلے آرہے ہیں اورانہیں اپنی اس خامی کو دور کرنا ہوگا۔ وہاب ریاض نے مسلسل دو گیندوں پر دو وکٹیں لیکر افریقی ٹیم کیلئے مشکلات تو پیدا کیں لیکن آخری نمبروں پر کھیلتے ہوئے بوتھا نے عمدہ بیٹنگ کرکے اپنی ٹیم کے لیے ایک بڑا ٹوٹل تشکیل دیا۔ پاکستان نے اپنی باری کا آغاز کیا تو حسب معمول عمران فرحت اپنی سفارشی سلیکشن کا بھرم رکھنے میں ناکام رہے اور 2رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو ہوگئے البتہ ان کے ساتھی اوپنر محمدحفیظ نے عمدہ بیٹنگ کی اور دوسری وکٹ کی شراکت میں یونس خان کے ہمراہ 58رنز بنائے جن میں 42رنز حفیظ کے تھے۔ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلتے ہوئے ایک بار پھریونس خان نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور افریقی فاسٹ باؤلرز کا ڈٹ کرمقابلہ کرکے اپنی ٹیم کی جیت کیلئے راہ ہموار کی۔یونس نے رواں سیریز میں دوسری بار ثابت کیا کہ وہ ایک سینئر بیٹسمین ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی جبکہ اسدشفیق نے بھی ان کابھر پور ساتھ دیا ، اسد شفیق مستقبل کے ایک بڑے بیٹسمین ہیں کیونکہ ان کا ٹمپرامنٹ اور ٹیکنیک یہ ظاہرکرتی ہے کہ ان کا مستقبل شاندار ہے۔ گزشتہ میچ میں اپنی بچگانہ حرکت کی وجہ سے شہرت پانے والے فواد عالم اس بار صرف چھ رنز ہی بنا سکے جبکہ شاہد آفریدی نے چار چوکوں کی مدد سے 29رنز کی اننگ کھیلی لیکن آخرمیں وہی غلطی کی جو وہ چودہ سال سے کرتے چلے آرہے ہیں ۔حالانکہ وہ ٹیم کے کپتان ہیں اور انہیں اس قدر بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور وہ بھی ایک ایسے میچ میں جس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی مگر شاہد آفریدی کو کون سمجھائے کہ وہ جس قدر ٹیلنٹ سے مالا مال کھلاڑی ہیں اس سے کہیں زیادہ غیرذمہ داربیٹسمین ہیں جس کا خمیازیہ ممکن ہے انہیں اس سیریز کے بعد کپتانی سے ہاتھ دھوکر بھگتنا پڑے۔ ذوالقرنین حیدر نے میچ میں پاکستان کو کامیابی تو دلائی لیکن جب وہ وکٹ پر کھڑے ہوکر بیٹنگ کررہے تھے تو کامران اکمل کی شدت سے کمی محسوس ہورہی تھی کیونکہ ذوالقرنین گوکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے اچھے وکٹ کیپر ہوں لیکن انٹرنیشنل میچ میں بیٹنگ کے دوران وہ کافی نروس ہوجاتے ہیں ۔لہذا ٹیم مینجمنٹ کو اکمل برادری کے ساتھ اپنی ناراضگی کو ختم کرنا ہوگا اور دونوں بھائیوں کو ٹیم میں واپس لانا ہوگا کیونکہ عمراکمل فواد عالم اور کامران اکمل ذوالقرنین حیدر سے بہتر درجے کے کھلاڑی ہیں۔وہاب ریاض نے اپنی بیٹنگ سے سب کو متاثر کیا اور انتہائی مشکل حالات میں وہاب نے جس دلیری سے بیٹ چلایا اس سے ہمارے سینئر کھلاڑی کو سبق سیکھنا چاہئے ۔عبدالرزاق نے بھی صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بڑے سٹروکس کھیلنے سے اجتناب کیا اور پاور پلے میں شارٹس کھیلنے کی کوشش میں وہ آؤٹ ہوگئے۔ویسے بھی رزاق کی کوالٹی سے افریقی ٹیم اچھی طرح واقف ہوگئی ہے لہذا ان کیلئے رزاق کی وکٹ سب سے اہم ہوتی ہے اور اُسے آؤٹ کرنے کیلئے خصوصی حکمت عملی بنائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود رزاق نے 33رنزسکور کرکے اپنا حق ادا کیا۔
قومی ٹیم کی ایک اور کامیابی سے جہاں سیریز میں پاکستان واپس آگیا ہے وہیں رواں سیریز نے پاکستانی شائقین کو دوبارہ کرکٹ کی جانب متوجہ کردیا ہے۔طویل عرصہ بعد لوگ کرکٹ کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے نظرآرہے ہیں اور خصوصی اہتمام سے پورے پاکستان میں یہ ون ڈے سیریز دیکھی جارہی ہے اور شائقین اپنی ٹیم کی کامیابی کے متمنی ہیں۔ سیریز کا فیصلہ کن معرکہ پیر کے روز کھیلا جائیگا جس میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم ٹرافی کی حقدار ٹھہرے گی۔ امید ہے فائنل میچ گزشتہ تمام میچز سے زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیزہوگا۔