اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اورجنوبی افریقہ کے مابین دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ آج سے دبئی سپورٹس سٹی کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہورہاہے۔ آج سے شروع ہونیوالا ٹیسٹ میچ دبئی سپورٹس سٹی سٹیڈیم میں کھیلا جانیوالا پہلا ٹیسٹ میچ ہے جبکہ مصباح الحق کا بھی بطور کپتان پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔ ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد جنوبی افریقی ٹیم کا مورال بلند ہے اور وہ ٹیسٹ سیریز جیتنے کیلئے بھی پراعتماد دکھائی دے رہے ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم نے ایک روزہ میچز میں تو عمدہ پرفارمنس دی تاہم ٹیسٹ میچز میں پاکستان افریقہ کے مقابلے کمزور ٹیم ہے لیکن محمدیوسف اور یونس خان کی ٹیم میں واپسی مفید ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں عصرحاضرکے بہترین ٹیسٹ بلے باز ہیں جبکہ مصباح الحق بھی ایک طویل عرصہ بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں لوٹے ہیں اور بطور کپتان اور سینئر بیٹسمین وہ بھی اپنی ٹیم کیلئے بہت کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں لیکن دیکھنا ہوگا کہ قسمت پاکستانی ٹیم کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔ مسائل اور مشکلات سے دوچار قومی ٹیم کا حالیہ سیزن میں ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ قدرے بہتر ہے ، سلمان بٹ کی قیادت میں پاکستان انگلینڈ میں کھیلی گئی نیوٹرل سیریز میں آسٹریلیا کو پندرہ برس بعد جبکہ بعد میں میزبان انگلینڈ کو طویل عرصہ بعد ٹیسٹ میچ میں ہرانے میں کامیاب رہا حالانکہ اس سیریز میں ٹیم کو یونس خان کی خدمات حاصل نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود کارکردگی تسلی بخش تھی البتہ لارڈز ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کے ایشونے سب کچھ ملیا میٹ کردیا۔ دورہ انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچز میں جو بھی اچھی کارکردگی دکھائی وہ فاسٹ باؤلرز محمد عامر اورآصف کے مرہون منت تھیں ، دونوں نے پہلے آسٹریلوی اور بعد میں انگلش بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا اور ہربار ہراننگز میں اپنی ٹیم کو بریک تھرو دلائے تاہم کچھ بریک تھرو سے پاکستان فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا اور کچھ میں ناکامی ہوئی لیکن اوور آل پاکستان کی بہترین کارکردگی کی وجہ بولنگ ہی تھی اور اس بار جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز میں ٹیم کو آصف اورعامر کی خدمات حاصل نہیں ہیں جبکہ شعیب اختر بھی ٹیسٹ کرکٹ کی عمرسے آگے نکل گئے ہیں لہذا ٹیم مینجمنٹ کے پاس محمدسمیع ،وہاب ریاض اور عمرگل کے سوا فاسٹ باؤلنگ میں دوسری کوئی بہترین آپشن موجود نہیں البتہ سپن بولنگ کے شعبے میں سعید اجمل اور عبدالرحمان ٹیم کا حصہ ہیں اور دونوں اپنی ٹیم کیلئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کا شمار ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے اور افریقی ٹیم نے ہمیشہ نمایاں کارکردگی پیش کی ہے۔ ہاشم آملہ جیسے ان فارم بیٹسمین کسی بھی ٹیم کو ناکوں چنے چبوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ بولنگ میں ڈیل سٹین ٹیسٹ کرکٹ کی خطرناک ترین باؤلر ہیں۔
پاکستان اورجنوبی افریقہ کے مابین اب تک 16ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جن میں سے تین میں پاکستان اور آٹھ میں جنوبی افریقہ کامیاب رہا جبکہ پانچ ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئے۔اب تک کھیلی گئی 7ٹیسٹ سیریز میں سے ایک میں پاکستان جبکہ پانچ میں جنوبی افریقہ فاتح رہا اور ایک سیریز بے نتیجہ رہی۔آخری بار 2007ء میں جنوبی افریقہ نے دورہ پاکستان کے موقع پر دو ٹیسٹ میچز کی سیریزکھیلی جہاں افریقی ٹیم ایک صفرسے فاتح رہی۔ جیک کیلس کو مشترکہ میچز میں سب سے زیادہ13 میچز میں 1149رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دوسرے نمبرپر11میچوں میں 838 رنز کے ساتھ گیری کرسٹن موجود ہیں ، پاکستان کے انضمام الحق 13میچوں میں سب سے زیادہ 710رنزبنانے والے بیٹسمین ہیں۔ بہترین انفرادی اننگز کا اعزاز ہرشل گبزکے پاس ہے ، گبزنے 2003ء میں کیپ ٹاؤن میں پاکستان کیخلاف 228رنز کی اننگز کھیلی جبکہ جیک کیلس 155رنز کے ساتھ دوسرے نمبرپرہیں ،پاکستان کی جانب سے بہترین انفرادی اننگز کھیلنے کا اعزاز اظہرمحمود کے پاس ہے ، انہوں نے 1998ء کی سیریز میں 136رنزکی شاندار کھیلی۔ جیک کیلس کو چار ، اظہرمحمود کو تین جبکہ توفیق عمر،یونس خان ،گریم سمتھ اور گیری کرسٹن کو دو دو سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔
آج سے شروع ہونیوالے پہلے ٹیسٹ میچ میں کامرا ن اکمل کے چھوٹے بھائی عدنان اکمل وکٹ کیپر کے فرائض سرانجام دیں گے کیونکہ ذوالقرنین حیدر کے ٹیم کو چھوڑ جانے سے مینجمنٹ نے عدنان اکمل کو موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ عمراکمل بھی حتمی ٹیم کا حصہ ہونگے اور یقینی طور پر عمراکمل کیلئے آج کا دن پھر سے ایک خوشی کا دن ہوگا جب وہ اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرینگے ۔ کامران اکمل بطور وکٹ کیپر گوکہ کبھی متاثر نہ کرسکے لیکن بطور بیٹسمین ان کی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اب دیکھنا ہوگا کہ عدنان اکمل کس حد تک اپنے بھائی کی ٹیم میں عدم موجودگی کی کمی پوری کرتے ہیں ۔