اعجازوسیم باکھری:
انگلینڈ نے 20سال بعد آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈز پرایشز میں شکست دیکر عالمی کرکٹ میں کھلبلی مچادی ہے۔ملبورن میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میں انگلش ٹیم نے میزبان سائیڈ کو ایک اننگز اور157رنز سے شکست دیکر ثابت کردیا کہ کرکٹ پر آسٹریلوی بالادستی اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ ایک دہائی سے کرکٹ میدانوں پر راج کرنے والی کینگروز سائیڈ15ماہ میں دوسری مرتبہ ایشز میں شکست کے بعد مظلوم ٹیم بن کررہ گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سیریز کا آخری ٹیسٹ ابھی باقی ہے مگر ایشز سیریز کی مخصوص راکھ انگلینڈ نے اپنے نام کرلی ہے۔ انگلینڈ کو سیریز میں دوایک سے برتری حاصل ہے اوراگر آسٹریلیا آخری ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر بھی کردے تو ایشز قوانین کے مطابق راکھ دفاعی چیمپئن ٹیم کو واپس کردی جاتی ہے۔
اعداد وشمار کی لحاظ سے آسٹریلیا کی انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور157رنز سے شکست تاریخ کی آٹھویں ذلت آمیزناکامی ہے جن میں سے پانچ مرتبہ انہیں انگلینڈ کے ہاتھوں رسوا ہونا پڑا۔98ء سال بعد یہ پہلا موقع ہے جب آسٹریلوی ٹیم کو اننگز اور150سے زائد رنز سے ملبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ذلت اٹھانی پڑی جبکہ58ء سال کے بعد آسٹریلیا کی ایشزسیریز میں ملبورن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں سب سے بڑی ناکامی ہے ، مانچسٹر میں کھیلے گئے مذکورہ میچ میں انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ باؤلر جم لیکر نے پہلی اننگز میں 9اوردوسری میں 10وکٹیں لیکر آسٹریلوی بیٹنگ کی تہس نہس کردیا تھا۔20ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب آسٹریلوی ٹیم کو ایک سیریز میں دو مرتبہ اننگز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا،1985ء میں انگلش ٹیم نے ہوم گراؤنڈز اوول اور ایجبسٹن کے مقام پر اننگز سے فتح سمیٹی تھی اور رواں سیریز میں ملبورن ٹیسٹ سے پہلے آسٹریلوی ٹیم کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھی اننگز کے مارجن سے ناکامی ہوئی۔
آسٹریلوی سرزمین پر20سال بعد ایشز میں کامیابی نے انگلش کرکٹرز کو اپنے ملک میں ہیروبنادیا ہے۔ انگلینڈ نے جب چوتھے ٹیسٹ میں فتح کے ساتھ ایشز اپنے نام کی تو اس وقت برطانیہ میں رات کے دو بج رہے تھے ، فٹبال کے دلدادہ ملک میں طویل عرصہ بعد کرکٹرز کو ہیروز جیسی اہمیت دی جارہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ٹیم کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ” اینڈریوسٹراؤس سمیت پوری ٹیم نے قوم کا سرفخر سے بلند کردیا ہے اور شائقین کو کرسمس کا حقیقی تحفہ پیش کیا ہے ۔ سابق کپتان سرآئن بوتھم نے کہاکہ انگلش ٹیم کے ثابت کیاکہ وہ آسٹریلیا کے مقابلے میں کہیں بہتر ٹیم ہے ایک اور سابق کپتان ناصر حسین نے کہاکہ ایڈیلیڈ میں انگلینڈ کی کامیابی کے بعد انہیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ ٹیم کوآسٹریلیا کو رسوا کرسکتی ہے اور ملبورن میں ٹیم نے یہ کردکھایا۔سابق فاسٹ باؤلر ڈرین گاف نے کہاکہ انگلش ٹیم نے 15ماہ میں دومرتبہ ایشز سیریز جیت کر خود کو دنیا کی بہترین ٹیم ثابت کیا ہے۔آسٹریلوی لیگ سپین لیجنڈ شین وارن نے انگلینڈ کی ایشزمیں کامیابی پر کہاکہ سٹراؤس الیون کامیابی کی مستحق تھی ، انہوں نے پوری سیریز میں شاندار کھیل پیش کیا اور ثابت کیا کہ وہ آسٹریلیا سے بہترین ٹیم بن چکے ہیں۔ شین وارن کا کہنا تھاکہ وہ نہیں سمجھتے کہ رکی پونٹنگ کپتانی سے استعفیٰ دینگے ، وہ ایک فائٹر کپتان ہیں اور موجود حالات میں وہ ٹیم کے تنہا نہیں چھوڑ سکتے اور پونٹنگ کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ سڈنی ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کریں۔
اس بات میں تو کوئی شک نہیں رواں ایشز سیریز میں مائیکل ہسی کے علاوہ پوری آسٹریلوی ٹیم ناکام ہوئی تاہم کرکٹ کی روایت کے مطابق شکست کا سارا ملبہ کپتان رکی پونٹنگ پرگرایا جارہاہے۔ رکی پونٹنگ 120سال بعدتین ایشز سیریز ہارنے والے آسٹریلیا کے پہلے کپتان کیا بنے میڈیا اور سابق کرکٹرز نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ انگلینڈ کیخلاف ملبورن ٹیسٹ میں شکست کے بعد ایشز ہاتھ سے نکل جانے سے پونٹنگ کے برے دن شروع ہوگئے ہیں ۔سابق کرکٹرز اور آسٹریلوی میڈیا نے اپنی تنقیدی توپوں کا رخ پونٹنگ کی جانب پھیر دیا ہے اور ان سے کپتانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے لیکن ایک دہائی تک عالمی کرکٹ پر راج کرنے والے کپتان نے ہتھیارڈالنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ ”گوکہ ایشز ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی تاہم وہ سڈنی ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنا چاہتے ہیں“۔رکی پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم نے جس بام عروج کو چھوا شاید کینگروز وہ مقام سٹیووا ، مارک ٹیلر ، ایلن بارڈر اور آئن چیپل بھی اپنی کپتانی میں ٹیم کو وہ مقام نہیں دلاسکے ۔سٹیووا کی ریٹائرمنٹ کے بعد کپتانی کا تاج پونٹنگ کے سر پہ کیا رکھا گیا آسٹریلوی ٹیم عالمی کرکٹ میں ناقابل تسخیر بن کر ابھری ، پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلیا نے 2003ء اور2007کا ورلڈکپ جیتنے کے ساتھ ساتھ چیمپنئزٹرافی جیسا بڑا ٹورنامنٹ بھی اپنے نام کیا ،دنیا ئے کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈالیون کو ناکوں چنے چبوا نے والی آسٹریلوی ٹیم کے کپتان بھی رکی پونٹنگ ہی تھے۔ ان کے دور میں آسٹریلوی ٹیم پانچ سال تک عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر رہی ، اس عرصے میں آسٹریلیا کو جب بھی کسی ٹیم نے شکست دی تو مذکورہ ملک میں جیت کے جشن منائے گئے مگر اب حالات بدل چکے ہیں ،اب نہ تو آسٹریلوی ٹیم کی دہشت باقی رہی ہے اور نہ ہی پونٹنگ کی شاطرانہ چالیں کارگر ثابت ہوتی ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں پونٹنگ نے ایک بار پھر کم بیک کرنے کا عہد کیا ہے اور انہوں نے سڈنی ٹیسٹ سے قبل کپتانی چھوڑنے سے انکار کرکے ایک بار پھر دلیری کا مظاہرہ کیا ہے مگرحالات نہ تو پونٹنگ کے حق میں ہیں اور نہ آسٹریلیا کے لہذا مزید ذلت سے بچنے کیلئے خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کرنے میں بہتری ہے ۔