اعجازوسیم باکھری:
سال 2010ء پاکستان کرکٹ کیلئے بدقسمت سال رہا ، اس برس پاکستانی کرکٹ تاریخ کے سب سے بڑے بحران یعنی میچ فکسنگ کے سکینڈل میں اتنے برے طریقے سے الجھی کہ ملکی کرکٹ کے دردیوار ہل گئے۔اس سال پاکستانی ٹیم نے فتوحات کم اور تنازعات زیادہ سمیٹے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سال 2010ء کا آغاز پاکستان نے آسٹریلیا کیخلاف سڈنی ٹیسٹ سے کیا جہاں پاکستان ایک جیتا ہوا میچ حیران کن انداز میں ہارگیا جس پر شکوک وشبہات بھی پیدا ہوئے اور کرکٹ بورڈ نے اس ٹیسٹ میں ”سستی “برتنے پر کامران اکمل سمیت دیگر کھلاڑیوں کو جرمانے بھی کیے۔ 3جنوری کو کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو آسٹریلیا ہاتھوں 36رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 14جنوری کو ہوبارٹ میں کھیلے گئے سیریزکے تیسرے ٹیسٹ میچ میں میزبان ٹیم نے پاکستان کو231رنز سے ہراکر سیریز میں 3-0سے کامیابی حاصل کی اور سال 2010ء میں یہ پاکستان کی کسی سیریز میں پہلی ناکامی تھی۔ بعدازاں آسٹریلوی دورے پر کھیلے گئے پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں بھی پاکستان وائٹ واش کی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔22جنوری کوبرسبین میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان کو 5وکٹوں سے ، 24جنوری کوسڈنی کھیلے گئے دوسرے میچ میں 140رنز سے ،26جنوری کو ایڈیلیڈ میں ہونیوالے تیسرے میچ میں 40رنز ،29جنوری کو پرتھ کے واکا گراؤنڈ میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے میں 135رنز جبکہ پرتھ ہی میں 31جنوری کو ہونیوالے پانچویں میچ میں پاکستان کو 2وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں سال کی دوسری سیریز میں بھی پاکستان وائٹ واش کی ذلت آمیز شکست کا حقدارٹھہرا۔ 5فروری کو میلبورن میں کھیلے گئے واحد ٹونٹی ٹونٹی میچ میں پاکستان سنسنی خیزمقابلے کے بعد دو وکٹوں سے ہار گیا ،یہی وہ میچ تھا جس میں رانا نویدالحسن پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کی پاداش میں پی سی بی نے ان پر ایک سال کی پابندی لگاکر ہٹا دی۔اس میچ میں محمدیوسف نے ٹیم کی کپتانی کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد شاہد آفریدی کو کپتان بنایا گیا اور وہ بولنگ کے دوران گیند کو دانستہ طورپر چباتے ہوئے پکڑے گئے جس پر انہیں دو میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ دورہ آسٹریلیا میں ڈسپلن کی خلاف ورزیوں اور گروپ بازی کو ہوا دینے کی پاداش میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی نے یونس خان اور محمدیوسف پر تاحیات جبکہ شعیب ملک اور رانا نوید الحسن پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کی تاہم کچھ عرصے بعد شعیب ملک کی ثانیہ مرزا سے شادی کے بعد اُن سے پابندی ہٹالی گئی ، دیگر کھلاڑیوں میں کامران اکمل ، عمراکمل اور شاہد آفریدی پر کرکٹ بورڈ بھاری جرمانہ عائد کیا جو کہ بعد اپیلوں کی وجہ سے نصف کردیا گیا ، ادھردوسری جانب شعیب ملک کیلئے عام معافی کے بعد کرکٹ بورڈ نے محمدیوسف یونس خان اور رانا نوید پرترس کھاتے ہوئے انہیں ٹیم کیلئے دستیاب قرار دیا تاہم محمدیوسف کو دورہ انگلینڈ پر ہی موقع ملا گیا البتہ یونس خان کو چھ ماہ تک انتظارکرنا پڑا اورآخرکار انہیں جنوبی افریقہ کیخلاف یواے ای میں کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا جس سے یونس نے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے ناقدین کے منہ کردئیے اور شائقین کو اپنی پرفارمنس کے عروج پر نظر آئے۔
پاکستان نے نیوٹرل وینیو دبئی میں انگلینڈ کیخلاف دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلی،19اور 20فروری کو کھیلے گئے میچز میں دونوں ٹیموں نے ایک ایک کامیابی حاصل کی اور مشترکہ طور پر ٹرافی کے حقدار ٹھہرے۔مئی میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں ہونیوالے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں حصہ لیا جہاں دفاعی چیمپئن قومی ٹیم سیمی فائنل میں آسٹریلیا کیخلاف اعصاب شکن معرکے میں شکست کھا گئی ، آسٹریلیا کو جیت کیلئے آخری اوور میں 18رنز درکار تھے جوکہ مائیکل ہسی نے سعید اجمل کو تین چھکے لگاکر پورا کردئیے یوں پاکستانی ٹیم گزشتہ سال انگلینڈ میں جیتنے والے اپنے ٹائٹل کے اعزاز کے دفاع میں ناکام رہی ۔ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے بعد پاکستان نے ایشیا کپ کیلئے سری لنکا کا رخ کیا جہاں قومی ٹیم ابتدائی دونوں میچز میں شکست کھا کر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی ، بھارت کے ہاتھوں تین وکٹوں اور سری لنکا کے خلاف 16رنز سے شکست کھانے کے بعد پاکستان نے ٹورنامنٹ میں واحد کامیابی بنگلہ دیش کیخلاف حاصل کی۔جو لائی کے اوائل میں پاکستانی ٹیم نے طویل دورہ انگلینڈ کا آغاز آسٹریلیا کیخلاف نیوٹرل ٹونٹی ٹونٹی سیریز سے کیا جہاں قومی ٹیم نے 5اور6جولائی کو کھیلے گئے دونوں میچز میں کامیابی حاصل کرکے ٹرافی اپنے نام کی۔بعدازاں دو ٹیسٹ میچز کی نیوٹرل سیریز کے پہلے معرکے میں13جولائی کو لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر پاکستان کو 150رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، شاہد آفریدی اس میچ میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کررہے تھے اور انہوں نے چار سال بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لیکر کپتانی سنبھالی تھی تاہم میچ میں ناکامی کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نہ صرف قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا بلکہ ایک بار پھر ٹیسٹ کرکٹ کو خیربا د کہہ دیا۔کرکٹ بورڈ نے آفریدی کی اس حرکت کا سخت برا منایا اور ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سلمان بٹ کے سپرد کردی جن کی قیادت میں پاکستان نے آسٹریلیا کو اگلے ہی ٹیسٹ میں شکست دیکر عالمی چیمپئن ٹیم کیخلاف 16برس بعد کسی ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی ۔آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے کے بعد توقع کی جارہی تھی پاکستان انگلینڈ کیخلاف چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں عمدہ کھیل پیش کریگا لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔29جولائی کو کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 354رنز سے جبکہ6اگست کو ہونیوالے دوسرے معرکے میں 9وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے کم بیک کرتے ہوئے چاروکٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ آخری ٹیسٹ لارڈز میں کھیلا گیا جہاں سپاٹ اور میچ فکسنگ کے ایشو نے پاکستانی کرکٹ کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔ مذکورہ ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو اننگ اور225رنز سے کامیابی حاصل ہوئی تاہم بکی مظہرمجید کی جانب سے انکشاف ہوا کہ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے پانچ کرکٹرزجن میں کپتان سلمان بٹ ، محمد آصف ، محمد عامر، کامران اکمل اور وہاب ریاض میچ فکسنگ میں ملوث ہیں اور کھلاڑیوں نے لارڈز ٹیسٹ میں بکیوں کے بتائے ہو ئے وقت اور اوور میں ان کی مرضی کے مطابق کھیل پیش کیا ۔
اس الزام نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا اور ٹیم کامورال اس حد تک ڈاؤن ہوگیا کہ اس کے بعد کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کو-2 3سے شکست ہوئی جبکہ اس سے قبل دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز میں بھی پاکستان انگلینڈ سے مات کھا گیا ۔ سپاٹ فکسنگ الزامات کے بعد آئی سی سی نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ساتھ ملکر تحقیقات کا آغاز کیا جس میں کامران اکمل اور وہاب ریاض کو کلیئر کردیا گیا جبکہ سلمان بٹ ، محمد عامراورمحمد آصف کو معطل کردیا گیا۔اس سارے واقعہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ خاموش تماشائی بنا رہا جبکہ ٹیم کے منیجر یاورسعید کے بیانات نے اپنی ہی ٹیم کا امیج بگاڑ ڈالا۔سپاٹ فکسنگ کا کیس ابھی تک چل رہا ہے تینوں کھلاڑیوں نے آئی سی سی کو اپیل کررکھی ہے جس کی 5جنوری سے دوحہ میں شروع ہورہی ہے ۔ اکتوبر میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کیخلاف اپنی ہوم سیریز دبئی اور ابوظہبی کے نیوٹرل مقامات پر کھیلی جہاں پہلے دو ٹونٹی ٹونٹی میچز میں پاکستانی ٹیم کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا بعدازاں پانچ ون ڈے میچز کی سیریز میں بھی شکست ہوئی البتہ عبدالرزاق نے تیسرے میچ میں تن تنہا پاکستان کو حیران کن کامیابی دلاکر شائقین کو کی مایوسی کو کسی حد تک کم کردیا ، پانچ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 3-2سے ناکامی ہوئی ۔ بعد ازاں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پاکستانی ٹیم نے مصباح الحق کی قیادت میں عمدہ کھیل پیش کرکے دونوں میچز ڈرا کرائے ۔ آئی سی سی کی جانب سے سلمان بٹ کی معطلی کے بعد پی سی بی نے مصباح الحق کو کپتان نامز د کیا اور یہ سال 2010ء میں پاکستان کے چوتھے کپتان بنے۔ آسٹریلیا میں محمدیوسف ،انگلینڈ میں شاہد آفریدی اور سلمان بٹ جبکہ دبئی میں قیا دت کی ذمہ داری مصباح الحق کو سونپی گئی ۔پاکستانی ٹیم ان دنوں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے جہاں سال کے آخری ہفتے میں کھیلی گی تین ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز میں قومی ٹیم کو 2-1کی خفت سے دوچار ہونا پڑا جبکہ پاکستان نئے سال کا آغاز 7جنوری سے نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے کریگا۔
2010ء میں پاکستان نے مجموعی طور پر 10ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے دو میں پاکستان فاتح رہا جبکہ 6میں اسے شکست ہوئی ۔رواں برس پاکستان نے ٹوٹل 18ون ڈے میچ کھیلے جہاں صرف 5ون ڈے میچز میں پاکستان کامیاب رہا اور13میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ قومی ٹیم نے 18ٹونٹی ٹونٹی میچز میں بھی اپنے جوہر دکھائے جہاں 12مقابلوں میں پاکستان ہارگیا او ر 6میچز میں پاکستان نے کامیابی سمیٹی۔2011ء میں پاکستانی ٹیم نے کرکٹ ورلڈکپ میں حصہ لینا ہے اور ہمیشہ کی طرح شائقین ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔