اعجازوسیم باکھری:
لڑائی ایم کیوایم اور اے این پی کے مابین ہو یا رحمان ڈکیت کیخلاف رینجرز کا آپریشن ، الطاف بھائی ناراض ہوں یا گجراتی پارٹی کو کسی خاص مقصد کیلئے تیار کرنا ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے رحمان ملک کو کیا خوب صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ”باس “کی دی ہوئی اسائنمنٹ خوش اسلوبی سے پوری کرتے ہیں ۔اس بار لڑائی تھی شاہد آفریدی اور پی سی بی کے چیئرمین اعجازبٹ کے مابین، ایک ہفتہ پورا ٹی وی چینلز پر بندرتماشہ جاری رہنے کے بعد جب ”بڑے لوگوں “کواحساس ہوا کہ ٹی وی چینلوں پر ان کیلئے مختص وقت آفریدی اور اعجازبٹ کی لڑائی میں ضیائع ہورہا ہے تو رحمان بابا کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا اور صرف تین گھنٹوں میں شاہد آفریدی کراچی سے اسلام آباد پہنچے اور اعجازبٹ بھی لاہور سے وفاقی درالحکومت جاپہنچے تو رحمان بابا نے شدید گرمی میں ایسی گرمجوشی دکھائی کہ آفریدی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہوئے اور اعجازبٹ نے بھی دریادلی کا ثبوت پیش کیا اور سارے معاملات خوشی اسلوبی سے طے ہوگئے اور تنازعہ بھی ٹھنڈا پڑگیا۔
اس بات کی ابھی تک آفیشل تصدیق تو نہیں ہوئی کہ آفریدی اور اعجاز بٹ کے مابین کیا کیا طے ہوا لیکن ذرائع نے تمام تفصیلات جاری کردیں کہ شاہد آفریدی سندھ ہائیکورٹ سے اپنا کیس واپس لینے پر راضی ہوگئے ہیں اور انہوں نے کرکٹ بورڈ کی بنائی گئی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر جرمانہ اداکرنے پر بھی اتفاق کرلیا ہے جبکہ کرکٹ بورڈ شاہد آفریدی کو این او سی جاری کرنے پر راضی ہوگیا ہے تاہم اس کے عوض آفریدی کو نہ صرف کورٹ سے کیس واپس لینا ہوگا بلکہ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا اور اس سے بڑھ کر آفریدی کو کرکٹ بورڈ کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے جواب بھی دینا ہوگا۔گوکہ اس ملاقات کا کریڈ ٹ بظاہر رحمان ملک کو جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ شاہد آفریدی نے انتہائی مجبوری اور عجلت کے عالم میں اسلام آباد کا رخ کیا جہاں انہوں نے رحمان ملک کے ساتھ رابطہ کیا اور یہ رابطہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ذریعے ہوا کیونکہ ہمپشائرکاؤنٹی نے گزشتہ روز آفریدی کو ای میل کی جس میں کہا گیا کہ اگرآپ نے16جون تک پی سی بی کا این او سی جمع نہ کرایا تو آپ کو ہمپشائرکاؤنٹی سے معطل کرکے کرس گیل کو سکواڈ میں شامل کرلیا جائیگا ۔ شاہد آفریدی اس ای میل کے بعد کرکٹ بورڈ کے ہر حکم کے آگے سرخم کرنے پر راضی ہوگئے کیونکہ جس دن آفریدی نے ریٹائرمنٹ لی تھی اُس سے اگلے روز پی سی بی نے ایک کمیٹی بنا کر آفریدی کو پیش ہونے کیلئے طلب کیا لیکن موصوف اپنے نادان دوستوں کے کہنے پر عدالت جا پہنچے جہاں کرکٹ بورڈ کے وکلاء نے معاملے کو ایسا لٹکانے کا پروگرام بنایا کہ کئی تاریخیں پڑنے والی تھیں مگر آفریدی نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور ”اوپر “رابطہ کرکے اپنے فائدے کیلئے سب کچھ ماننے کافیصلہ کرلیا لیکن اپنے نادان دوستوں کو ناراض کردیا جنہوں نے رحمان بابا کے جادو چلنے کے ساتھ ہی آفریدی سے منہ پھیر لیا اور اپنے لہجے بھی تبدیل کرلیے۔شاہد آفریدی کو اس بات کا احساس ضرور ہوگیا ہوگا کہ اُس نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے نہ صرف غلطی کی بلکہ اس سے بڑی غلطی یہ کی کہ پی سی بی کیخلاف میدان میں اتر آیا۔ اگر آفریدی کا موقف درست تھا اور اُسے یقین تھا کہ وہ کرکٹ بورڈ کیخلاف ٹکر لیکر اپنا موقف درست ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیگا تو رحمان بابا سے تعویزلینے کی ضرورت کیا تھی؟۔ یہ بات درست ہے کہ کرکٹ بورڈ نے آفریدی کیخلاف سخت ایکشن لیا لیکن کسی حد تک وہ ایکشن درست بھی تھا کیونکہ اگر کوئی بھی کسی ادارے کے بارے میں یہ کہے کہ میں ان ” بے غیرت “لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا تو ہر ادارہ اپنے تئیں سخت سے سخت ردعمل کا اظہار کریگا اور پی سی بی نے بھی وہی کیا جو ایک ادارے کو اپنا ڈسپلن قائم کرنے کیلئے کرنا چاہئے ۔
بہرحال :شاہد آفریدی ہمارے سٹار ہیں اور ایک بڑے کھلاڑی ہیں لیکن ضابطہ اخلاق سے بڑا کوئی بھی نہیں ۔ آفریدی کو اگر کپتانی سے ہٹایا گیا تھا تو اتنا بڑا طوفان نہیں آنا چاہئے تھا ، اب تو وقاریونس اور انتخاب عالم کی رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے جہاں آفریدی کو ایک ناکام کپتان قرار دیا گیاہے ۔ شاہد آفریدی مظلوم ہونے کے باوجود گناہ گار ثابت ہوا کیونکہ اس نے سیاست کا سہار ا لیا اور اپنا کیس سیاست کی نذر کیا۔ لسانیت کو ہوا دی ، صوبائی تعصب پرستی کی آڑ میں بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی ۔ویسے بھی لاہو ر یا پنجاب پاکستان سے الگ نہیں ہیں اور نہ ہی کراچی اتر پردیش کا شہر ہے ۔ ہم سب ایک ہیں اور ایک ہوکر رہیں گے ۔ آفریدی نے انتہائی نادان دوستوں کی باتوں میں آکر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب کیا اور اب اسے احساس بھی ہوگیا ہے کہ اس نے غلط زبان استعمال کی اور غلط راستے کا انتخاب کیا ۔ پی سی بی کو چاہئے کہ آفریدی کو معاف کرتے ہوئے نہ صرف اُسے این او سی جاری کرے بلکہ اُسے ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبور بھی کیا جائے کیونکہ ٹیم کو آفریدی جیسے آل راؤنڈر کی ضرورت ہے اور کپتانی کے بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے بعد آفریدی مزید عمدہ کارکردگی دکھائے گا ۔لیکن آفریدی کو ایسے گروپ کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو صوبائیت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انتہائی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھوٹے اور بڑے صوبے کی لڑائی میں پڑ جاتے ہیں ۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صوبائیت اور لسانیت کی ”تیلی “لگانے والے میرے اپنے صحافتی شعبہ سے وابستہ افراد ہیں لیکن اُن کی دیکھنے کی آنکھ بہت چھوٹی ، سوچنے کی صلاحیت بہت محدود اور سمجھنے کیلئے عقل بہت کم ہے ۔امید ہے کہ آفریدی آئندہ کیلئے ایسے لوگوں سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی دور رہنے کی تلقین کرینگے۔ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر لوٹ آئے تو بھولانہیں کہتے بلکہ اس کیلئے گھر کا دروازہ کھولتے ہیں کیونکہ اگر دروازہ نہ کھولا جائے تو وہ پھر راستہ بھول جاتا ہے ۔ آفریدی کو شا م تک گھر لوٹنے پر شاباش اور پی سی بی کوگھر کا دروازہ کھولنے پر مبارکباد۔