اعجازوسیم باکھری:
پاکستان نے زمبابوے کو دوسرے ایک روزہ میچ میں10وکٹوں سے شکست دیکر3میچوں کی سیریز میں2-0کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ۔محمد حفیظ139 اور عمران فرحت75رنز بناکرناقابل شکست رہے،دونوں سابق پاکستانی اوپنرز نے رمیز راجہ اور سعید انور کی جانب سے پہلی وکٹ کی شراکت میں1993ء میں قائم کیاگیا 204رنزکاریکارڈ بھی تو ڑدیا، حفیظ اور عمران فرحت نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 228رنز بناکر ون ڈے کرکٹ میں پہلی وکٹ پر قائم کی گئی ٹاپ ٹین پارٹنرشپ میں بھی جگہ حاصل کرلی ہے۔ہرارے سپورٹس کلب میں کھیلے گئے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کافیصلہ کیا، میچ کے بعد اختتامی تقریب میں زمبابوین کپتان برینڈن ٹیلر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ غلط فہمی کی بنیاد پر کیا اور انہوں نے اپنے اس فیصلے پر ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سے ڈریسنگ روم میں معافی ہونگی اور مجھے اپنے فیصلے پر شرمندگی ہے اوروہ اس میچ میں شکست کے ذمہ دار خود کو تصور کرتے ہیں اور شاید ہی وہ اپنی غلطی کا ازالہ کرسکیں۔ زمبابوے نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستانی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے نتیجہ میں میزبان بلے بازوں کو ابتداء ہی سے مشکلات کاسامنا کرنا پڑا،صرف36 کے مجموعی سکور پرپاکستانی باؤلرز نے زمبابوے کے دو کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھجوادیا جس سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوگئی۔ سینئر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں ایک بار پھر پاکستانی پیسرنے عمدہ بولنگ کی اور اپنے تابناک مستقبل کی پھر نشاندہی کی۔ اعزاز چیمہ ، جنید خان اور سہیل تنویر نے بھرپور محنت سے بولنگ کی اور میزبان ٹیم کو بڑے سکور سے تک پہنچنے دیا۔ جواب میں پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو قومی ٹیم کا آغاز حیران کن ، غیر متوقع اور قابل تحسین تھا۔ گزشتہ کئی سال سے پاکستانی ٹیم اوپنرز کی ناکامی سے دوچار تھی اور جن لوگوں نے دوسرا ون ڈے نہیں دیکھا تو ان کیلئے یہ خبرانتہائی حیران کن اورحیرت کا باعث بنی کہ پاکستانی اوپنرز نے 226رنز کا ہدف بغیر آؤٹ ہوئے پورا کرلیا۔ سعید انور اور عامرسہیل کی اوپننگ جوڑی ٹوٹنے کے بعد پاکستانی شائقین اپنی اوپنرز کی جانب سے اس طرح کی کارکردگی کیلئے ترس گئے تھے ، گوکہ زمبابوے ایک کمزور حریف ہے اور اُس ٹیم میں بڑے باؤلر شامل نہیں ہیں لیکن انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ہوتی اور وکٹ پر موجود بیٹسمین پریشر میں ہوتے ہیں اور کرکٹ گیم بھی ایسی ہے جس میں بیٹنگ سب سے مشکل شعبہ ہے جس میں ایک چوٹی سے غلطی سے آپ کی اننگ کا خاتمہ ہوجاتا ہے لہذا محمدحفیظ اور عمران فرحت کو داد دینا ہوگی کہ انہوں نے تحمل مزاجی ، محتاط انداز اورتعیراتی اننگز کھیل کر نہ صرف پاکستان کو سیریز میں کامیابی دلائی بلکہ پاکستان کرکٹ کے ماضی کی یاد بھی تازہ کردی۔ عمران فرحت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹ محمد الیاس کے داماد ہونے کی وجہ سے ٹیم میں بطور سفارشی کھلاڑی شامل ہیں ، ممکن یہ الزام اپنی جگہ درست بھی ہو لیکن عمران نے گزشتہ روز محمد حفیظ کے ہمراہ جس طرح کی قابل ستائش اننگز کھیلی کم از کم اس کارکردگی سے سفارشی کھلاڑی کے الزام کی نفی ہوتی ہے۔اب عمران فرحت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کے تسلسل کو برقرا رکھ کر یہ ثابت کریں کہ وہ سفارش پر نہیں بلکہ میرٹ پر ٹیم میں کھیل رہے ہیں اور انہیں یہ بھی ثابت کرنا چاہئے کہ ان کا شمار پاکستان کے قابل اعتبار اوپنرز میں ہوتا ہے۔ دوسری جانب ٹیم کے ”پروفیسر“محمد حفیظ کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے، حفیظ نے پہلے زمبابوے کیخلاف ٹیسٹ میچ میں سنچری کی اور اب ون ڈے میچ میں سنچری داغ کرحفیظ نے اپنے سینئر کھلاڑی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ، حفیظ کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ سست روی سے کھیلتے ہیں اور کسی حد تک یہ الزام درست بھی ہے کیونکہ حفیظ کا ون ڈے کرکٹ میں سٹرائیک ریٹ 68.34 اور جبکہ ان کی فی اننگز رنز بنانے کی اوسط 27.38ہے جوکہ بطور اوپنر معمولی ہے اور سٹرائیک ریٹ بھی کم ہے لیکن حفیظ نے گزشتہ ایک سال میں جس طرح کی پرفارمنس دی ہے وہ قابل ذکر ہے اور توجہ طلب ہے کیونکہ پاکستان کو متعدد میچز میں حفیظ نے کامیابی دلائی اور جس طرح ان دنوں کی ان کی کارکردگی کا گراف بلند ہورہا ہے یقیناً یہ حفیظ کے کیرئیر کو طوالت بخشے گا اور پاکستانی ٹیم کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔
گزشتہ روز ایک طرف پاکستان کرکٹ ٹیم زمبابوے کیخلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی حاصل کی تو دوسری جانب پاکستان ہاکی ٹیم کو چین میں ہونیوالے پہلی ایشین ہاکی چیمپئنزٹرافی کے فائنل میں روایتی حریف بھارت کیخلاف شکست ہوئی۔ پاکستان ایشین گیمز کا چیمپئن ہے اور خیال کیا جارہا تھا کہ قومی ہاکی ٹیم اس بار بھارت سے ورلڈکپ کی شکست کا بدلہ لے گی لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا اور پاکستان سخت مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست کھاگیا۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان ہاکی ٹیم مسائل کا شکار ہے اور کوئی بڑی کامیابی نہیں مل رہی ان حالات میں ایشین چیمپئنزٹرافی کا فائنل کھیلنا اور میچ کو پنالٹی شوٹ آؤٹ تک لیجانے قومی ٹیم کا بڑا کارنامہ ہے اورتوقع ہے کہ آج فائنل ہارنے کے بعد کل پاکستانی ٹیم فائنل میں کامیابی بھی حاصل کریگی تاہم بھارت کیخلاف شکست کسی صورت میں قبول نہیں اور شائقین کو اس ہار پردکھ ہوا لیکن ہمیں ہاکی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کیونکہ پاکستانی ٹیم نے بھرپورمزاحمت کی اورجیت کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اس طرح کی شکست قبول بھی کی جاسکتی ہے جس میں ٹیم نے فائٹ کی ہو۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور دعاہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم اپنے ماضی کے سنہری دور میں لوٹ جائے جوکہ ہاکی میں پاکستان کی پہچان ہے۔