UrduPoint Sports

كھیل >> نیا اضافہ

اعجازوسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کے بطور چیئرمین پی سی بی تین سال مکمل ہوچکے ہیں۔ان کے تین سال کو پاکستان کرکٹ کیلئے مشکل ترین دور کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔ باخبر ذرائع کے مطابق اعجاز بٹ کو صدر زرداری کی جانب سے مزید ایک سال کی توسیع ملنے کا امکان ہے اور انہیں ایوان صدر کی جانب سے فیصلہ آنے تک کام جاری رکھنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ناقد ین کا خیال ہے کہ اعجازبٹ کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کو ان تین سال میں مشکلات برادشت کرنا پڑیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اعجازبٹ کے دور اقتدار میں مشکلات ضرور آئیں لیکن ذاتی طور پر وہ ان مسائل کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ اعجازبٹ جنر ل توقیر ضیاء کے بعد پی سی بی کے مضبوط اور طاقتور چیئرمین کے طور پر بھی یاد رکھے جائیں گے ۔ ان کے دور میں 92ء سے شروع ہونیوالی پلیئرپاورز کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا اور ڈسپلن پر سختی سے عمل کروا کر لازوال مثال پیدا کی گئی۔ گوکہ اعجازبٹ کے دور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا جس میں براہ راست پی سی بی قصور وار نہیں ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ کی سکیورٹی ذمہ داری سٹیڈیم کے اندر تھی جبکہ مہمان ٹیم پر حملہ قذافی سٹیڈیم سے دور لبرٹی چوک میں ہوا لہذا اس سانحہ کا ذمہ دار پی سی بی کو ٹھہرانا زیادتی ہوگی۔ اعجازبٹ کے دور میں سپاٹ فکسنگ کا سیکنڈل آیا جوکہ پاکستان کرکٹ میں کوئی نئی بات نہیں تھی ، ماضی میں بھی پاکستانی کھلاڑی جوئے اور میچ فکسنگ میں ملوث پائے گئے لہذا یہ کہنا کہ اعجازبٹ کی کمزوری کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں نے مظہر مجید کے کہنے پر ملک سے غداری کی تو یہ بچگانہ بات ہوگی کیونکہ مظہر مجید کرکٹرز کے ایجنٹ کے طو ر پر کام کررہا تھا اور آئی سی سی بھی جانتی ہے کہ کرکٹرز اپنے ذاتی ایجنٹ رکھتے ہیں ، اعجازبٹ نے سپاٹ فکسنگ واقعہ کے بعد کرکٹرز کی مدد کرنے سے انکار کرکے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو پاکستان کرکٹ ٹیم اور بورڈ مشکلات میں پڑ سکتے ۔
8 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اعجاز بٹ کوڈاکٹر نسیم اشرف کے متبادل کے طور پر8 اکتوبر2008ء کو تین سال کے لئے چیئرمین پی سی بی کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔اعجاز بٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سیکرٹری رہنے کے ساتھ ساتھ لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی رہے اور نسیم اشرف کے دور میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے سینئر ترین رکن بھی تھے۔ صدر مشرف کے استعفیٰ کے ساتھ ہی ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا اور اعجازبٹ نئے سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ اعجازبٹ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چوہدری احمد مختار کے قریبی عزیز ہیں اور ناقد ین کو اس بات پر پختہ یقین ہے کہ اعجازبٹ کو احمد مختار کی سفارش پر پی سی بی کا سربراہ بنا یا گیا ۔ اعجازبٹ نے قذافی سٹیڈیم میں اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں بورڈ میں کام کرنے والے غیر ضروری ، نکمے ، نااہل اور سفارشی عہدیداروں کا صفایا شروع کردیا جن میں چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی ، ڈائریکٹر ایچ آر ندیم اکرم ، ڈائریکٹر میڈیا منصور سہیل ، قومی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن ، کپتان شعیب ملک اور چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو کو گھر بھیج دیا۔ اعجازبٹ نے جب پی سی بی میں چارج سنبھالا تو اس وقت بورڈ ملازمین کی تعداد 1200کے لگ بھگ تھی ، نئے چیئرمین نے ڈاؤن سائزنگ کرکے ملازمین کی تعداد پانچ سوکے قریب کردی ، اس ڈاؤن سائزنگ پر اپنا موقف دیتے ہوئے اعجازبٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سفارشیوں اور کام چوروں کی چھٹی کرائی ہے جبکہ محنتی اور ایماندار لوگ اب بھی ان کی ٹیم کا حصہ ہیں ۔ اعجازبٹ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد بورڈ کے اثاثہ جات کو سامنے لایا جبکہ نسیم اشرف کے دور میں ہونیوالی کرپشن کو بھی بے نقاب کیا ۔ اعجازبٹ کے دور کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے بورڈمیں ہونیوالی کرپشن کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا کیونکہ پی سی بی ملک کا ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پیسہ کے ریل پیل ہوتی ہے اور بہت سوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہوں تاہم اعجازبٹ نے بور ڈ سے کرپشن کومکمل طور پر ختم کردیا اور شفافیت کے ایک مثال پیدا کی۔ اعجازبٹ پر تنقید کی ایک وجہ ان کا سخت رویہ بھی ہے اوروہ رویہ ڈسپلن کی خلاف ورزیوں اور کرپشن پر سمجھوتہ نہ کرنا تھا ، اعجازبٹ نے ابتداء میں اپنی ٹیم میں عبدالقادر ، سلیم الطاف ، عامر سہیل ،سلیم جعفر جیسے لوگوں کی خدمات حاصل کیں تاہم سخت انتظامی حدود کی وجہ سے یہ تمام لوگ ایک ایک کرکے اعجازبٹ سے الگ ہوگئے۔ اعجازبٹ کے دور میں پی سی بی کے تین چیف آپریٹنگ آفیسر تبدیل ہوئے جن میں شفقت ، سلیم الطاف اور وسیم باری شامل ہیں جبکہ اعجازبٹ کے دور سلیکشن کمیٹی کے تین سربراہ بھی تبدیل ہوئے تاہم دلچسپ بات ہے کہ صلاح الدین صلو نے خود استعفیٰ دیا جبکہ عبدالقادر نے انتخاب عالم کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے گھر کی راہ لی اور اقبال قاسم نے آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے بدترین کارکردگی پر عہدہ چھوڑ دیا۔اعجازبٹ کے دور میں 6کپتان بھی تبدیل ہوئے ۔یونس خان کی جگہ شعیب ملک ، پھر محمد یوسف ، شاہد آفریدی ، سلمان بٹ اور مصباح الحق کو ٹیسٹ کرکٹ کا کپتان مقرر کیا گیا بعدازاں ون ڈے اورٹونٹی ٹونٹی کی کپتانی بھی مصباح الحق کودے دی گئی۔
اعجاز بٹ کے دور میں اگر قومی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو چیئرمین پی سی بی کو اس بات کا کریڈٹ دینا ہوگا کہ قومی ٹیم نے 2009ء میں انگلینڈ میں ہونیوالا ٹی ٹونٹی ورلڈکپ جیتا ۔2010ء کے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل ، چیمپئنزٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کا بھی سیمی فائنل کھیلا ، ایشیاء میں ہونیوالے کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان نے بھارت کیخلاف سیمی فائنل کھیلا جبکہ آسٹریلیا کو 15سال بعدٹیسٹ میچ اور ورلڈکپ مقابلوں میں آسٹریلیا کی لگاتار34فتوحات کو بریک لگائی، انڈر19کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ بطور ٹیم کی کارکردگی اعجازبٹ کے دور کو کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے۔ قومی ٹیم میں عمراکمل ، اعزاز چیمہ ، جنید خان اور محمد عامر بھی اعجازبٹ کے دور کی دریافت ہیں۔ بدقسمتی سے محمد عامرنے اپنا کیرئیر خود تباہ کیا ۔اعجازبٹ کے دور پاکستان کو عالمی کپ اور چیمپئنزٹرافی کی میزبانی سے بھی محروم ہونا پڑا ، بھارتی لابی اور آئی سی سی کی سازشوں کی بدولت پاکستان کو عالمی کرکٹ میں تنہا کرنے کی کوشش گئی لیکن اعجازبٹ نے ہرفورم پر پاکستان کا کیس مضبوطی سے لڑا اور تمام مسائل اور مشکلات کے باوجود پاکستان کرکٹ کو عالمی سکرین پر نمایاں رکھا۔ آئی سی سی نے پاکستان میں ہونیوالی چیمپئنزٹرافی کو سر ی لنکا منتقل کردیا جووہاں سے بھی جنوبی افریقہ شفٹ کی گئی ، ورلڈکپ کے 14میچز پاکستان سے سری لنکا منتقل کیے گئے جس کے عوض میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھاری مالی معاوضہ ملا۔ اعجازبٹ کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو کسی حد تک معاشی فائدہ بھی ہوا لیکن اس میں اگر نقصان کا عنصردیکھا جائے تو زیادہ ہے کیونکہ غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا ہے اور پاکستان کو اپنی نیوٹرل سیریز انگلینڈ اور یواے ای میں کھیلنا پڑیں جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ مالی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔ یواے ای میں پاکستان نے اپنا دوسرا ہوم سینٹربنایا اور اب وہیں پاکستان اپنی ہوم سیریز کھیلتی ہے جس سے بورڈ کو کسی نہ کسی حد تک مالی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ اعجازبٹ کے دور میں پی سی بی کے دفتری اخراجات میں بھی کمی لائی گئی کیونکہ نسیم اشرف کے دور میں پی سی بی میں شاہانہ طرز عمل نمایاں نظر آتا تھا۔ اعجازبٹ کو پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے پر برقرا ررکھاجاتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ اگلے چند روز میں متوقع ہے تاہم ملک میں ایک بحث ضرور چھڑ گئی ہے کہ اعجازبٹ برقرار رہیں گے یا ان کی چھٹی ہوجائے گی۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.