اعجازوسیم باکھری:
کرکٹ کرپشن کیس کی سماعت آج سے حتمی مرحلہ میں داخل ہورہی ہے اورکیس کا فیصلہ بدھ تک متوقع ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونیوالی سماعت میں محمد آصف اور سلمان بٹ نے عدالت کے سامنے اپنے حلفی بیان دئیے اور سوالوں کے جوابات میں نت نئے انکشاف کرتے رہے۔ اب تک کی صورتحال کے مطابق بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ سلمان بٹ کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوگیا ہے اور سابق کپتان کا سزا سے بچ نکلنا مشکل لگ رہاہے۔ کیس کی آخری سماعت جمعہ کے روز ہوئی جہاں محمد آصف نے واضح الفاظ میں عدالت کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ سلمان بٹ مظہرمجید کے ساتھ تمام معاملات پہلے ہی سے طے کرچکے تھے، اس سے پہلے سلمان بٹ نے اپنی حلفی بیان میں محمد آصف ، محمد عامراور مظہرمجید پر الزامات لگائے کہ انہیں لگتا ہے کہ مظہر مجید نے آصف اور عامر کے ساتھ ملکر سارا کچھ کیا، وہ کرپشن سے پاک ہیں۔ سلمان بٹ نے میڈن اوور کے حوالے سے عدالت کو بتایا کہ وہ مظہرمجید سے جان چھڑانے کیلئے ٹیلی فون پر بولے کہ ، بس ٹھیک ہے ، ہاں اوکے، سلمان بٹ کے اس بیان کے بعد محمد آصف نے سابق کپتان کے بارے میں جو ریمارکس دئیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ دونوں خود کو بچانے کیلئے ایک دوسرے کیخلاف ثبوت دینا شروع ہوگئے ہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت میں ان لوگوں نے کرپشن کی اور اب پانی سر سے اوپرگزر چکا ہے لہذا آخری کوشش کے طور پر خود کو بچانے کیلئے دوسرے کو مصیبت میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔آج حتمی سماعت میں وکیل استغاثہ جعفر جی سمیت سلمان بٹ اور محمد آصف کے وکلا عدالت کے سامنے اختتامی تقریر کریں گے۔آخری سماعت میں استغاثہ نے اپنے دلائل میں کہاکہ محمد آصف نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لئے وکیل سے بات کی تھی جس پر محمد آصف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے میں نے کبھی برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ نہیں کیا استغاثہ نے محمد آصف پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ محمد آصف نے نہ صرف نو بال کرائی بلکہ بریکٹ بھی لگائی ٹیسٹ کی پہلی رات آصف اور مظہر مجید کے درمیان چھ کالز کا تبادلہ ہوا جس پر محمد آصف کا کہنا تھا کہ آپ اپنے ذہن میں چیزیں سوچ کر مجھ پر تھوپ رہے ہیں۔ محمد آصف نے ایک بار پھر کہا کہ انہیں لارڈز ٹیسٹ میں مبینہ طور پر ہونے والی سپاٹ فکسنگ کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی وہ اس کا حصہ تھے۔کپتان کو نوبالز کا علم تھا،کیوں کہ کپتان ہی کے کہنے پر میں بولنگ کررہا تھا، کپتان نے مجھے ہی کیوں 10واں اوور دیا، کیوں کہ انہوں نے پہلے ہی سارا معاملہ سیٹ کرلیا تھا۔ محمد آصف نے وکیل استغاثہ سے سوال کیا کہ برطانوی اخبار کے رپورٹر مظہر محمود نے محمد عامر اور سلمان بٹ کی طرح میری ریکارڈنگ کیوں نہیں کی۔رپورٹر کے دیے گئے پیسے سلمان بٹ اور محمد عامر کے کمروں سے کیوں برآمد ہوئے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوں تو میرے کمرے سے رقم کیوں برآمد نہیں ہوئی؟جعفر جی نے کہا کہ آپ کے پاس سے رقم اس لیے برآمد نہیں ہوئی کیوں کہ آپ ہوٹل سے باہر تھے اور جب چھاپہ پڑا تو اس وقت تک آپ کا حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر مل نے کہا کہ محمد آصف کو 6ہزار پانڈ ڈیلی الانس ملتا تھا اور 2700پاؤنڈ وہ ساتھ لے کر انگلینڈ آئے تھے۔ پولیس کو کمرے سے 8ہزار پاؤنڈ ملے جو ان رقوم کا مجموعہ ہے۔ آصف نے کہا کہ میں دورے کے دوران فضول خرچی نہیں کررہا تھا کیوں کہ مجھے ستمبر 2010ء میں اپنی شادی کیلئے شاپنگ کرنی تھی۔
گزشتہ ہفتے کی سماعت کے دوران آڈیو اور ویڈیو ثبوت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل ایس ایم ایس کی تفصیلات بھی کورٹ میں پیش کی گئی۔ آج وکیل استغاثہ جعفر جی سمیت سلمان بٹ اور محمد آصف کے وکلا عدالت کے سامنے اختتامی تقریر کریں گے،کیس کافیصلہ بدھ کو آنے کامکان ہے ۔اس تمام کارروائی اور ثبوت سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کی گئی ، اب یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کیا صرف سلمان بٹ ہی ذمہ دار ہے یا محمد عامرنے جو اعتراف کیا ہے وہ بھی اس کے حصہ دار ہیں۔ محمدآصف کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سلمان بٹ سارے معاملات پہلے سے طے کرچکا تھا۔ آصف اور عامر کے ساتھ کیا ہوگا یہ کہنا قبل ازوقت ہے لیکن سلمان بٹ کا سزا سے بچنا اب مشکل دکھائی دے رہا ہے۔