اعجازوسیم باکھری:
پاکستان اور سری لنکا کے مابین پانچ ون ڈے میچز پرمشتمل سیریز متحدہ عرب امارات میں جاری ہے ، گزشتہ روز دبئی سپورٹس سٹی میں کھیلے گئے دوسرے معرکے میں قومی ٹیم کو بیٹنگ دھوکا دے گئی اور پاکستان سخت مزاحمت کے باوجود25رنز سے ہار گیا۔ سری لنکا کی فتح کی بنیادی وجہ ان کے فیلڈرز کی بہترین کارکردگی اور باؤلرز کی ٹارگٹ پر گیندیں تھیں جبکہ پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ بلے بازوں کا غیرذمہ دارانہ طرزعمل تھا۔ دوسرے ون ڈے میں سری لنکن فیلڈرز نے پہلے خوب غلطیاں کیں اور پاکستانی اننگز کے دوران 5یقینی کیچز گرائے لیکن انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا فوری ازالہ کرتے ہوئے پاکستان کے 3بلے بازوں کو رن آؤٹ کیا اور اپنی ٹیم کو آسان فتح دلائی۔ جس طرح سری لنکن فیلڈرز نے اپنی غلطیوں کا فوری طور پر ازالہ کیا اگر پاکستانی بلے باز بھی اس طرزعمل کو اپناتے ہوئے تو شاید پاکستان کو اس وقت 2-0کی برتری حاصل ہوتی لیکن قومی ٹیم کا یہ ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ بلے باز عموماً ہدف کے تعاقب میں کمزور پڑجاتے ہیں ا ور مخالف ٹیم کیلئے فتح کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی جانب سے عمراکمل اور شاہد آفریدی کی بہترین کارکردگی نمایاں رہی ، عمراکمل 91رنزبناکر سنچری سے صرف 9رنز کی دوری پر وکٹ چھوڑ گئے جبکہ شاہد آفریدی نے 14 گیندوں پر 29رنزکی برق رفتا راننگ کھیل کر اپنی ٹیم کو فتح دلانے کی انتھک محنت کی جو یکسر رائیگاں ہوگئی۔ عبدالرزاق اور مصبا ح الحق بیٹنگ میں جادونہ چلا سکے جبکہ عمران فرحت اور محمد حفیظ ایک بار پھر اپنی غلطی کی وجہ سے ٹیم کو کشتی کوڈبونے میں سب سے آگے نظر آئے۔ بظاہر پاکستان نے سری لنکا کو کم سکور پر قابوکرلیا تھا اور میچ پاکستان آسانی کے ساتھ جیت سکتا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح جلد بازی قومی ٹیم کیلئے اس بار بھی مہنگی ثابت ہوئی ، اس طرح کی جلد بازی قومی ٹیم کو ترک کرنا ہوگی اور روایتی غلطیوں پرکنٹرول کرنا ہوگا نجانے ایسا کب ہوگا اور کون کریگا۔
دوسرے ون ڈے میں سری لنکا کے کپتان تلکرتنے دلشان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، اپل تھرنگا اور دلشان نے 56 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا،مصباح الحق نے ابتداء میں سری لنکن اوپنرز کی پارٹنرشپ توڑنے کیلئے کافی حربے استعمال کیے لیکن دلشان 28 رنز بنانے کے بعد شاہد آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔لگاتار دوسرے میچ میں آفریدی نے متاثر کن کارکردگی پیش کی اور وہ بالکل ایک نئے روپ میں نظر آئے،65 کے مجموعی سکور پر سری لنکا کی دوسری وکٹ گری جب کمار سنگا کارا 5 رنز بنانے کے بعد عبدالرزاق کا نشانہ بن گئے، تھرنگا اور چندی مال تیسری وکٹ میں ٹیم کا سکور 94 تک لے گئے، اس موقع پر سعید اجمل نے دنیش چندی مال کو 15 کے انفرادی سکور پر کلین بولڈ کرکے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلا دی، اپل تھرنگا اور مہیلا جائے وردنے نے چوتھی وکٹ میں 85 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کا سکور 179 تک پہنچادیا، اپل تھرنگا سری لنکا کے آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی تھے جو 77 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد شاہد آفریدی کی گیند پر یونس خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ مہیلا جائے وردھنے 50 رنز بنانے کے بعد سعید اجمل کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔جے وردھنے کی پراعتماد بیٹنگ کی وجہ سے سری لنکن ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 235 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے تین، شاہد آفریدی نے دو جبکہ اعزاز چیمہ اور رزاق نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور عمران فرحت نے اننگز کا آغاز کیا تاہم دونوں بیٹسمین ٹیم کو کوئی بڑا آغاز فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ۔محمدحفیظ چارکے انفرادی سکورپر مالنگا اورعمران فرحت تین رنزکے سکورپرپریراکی گیندکا نشانہ بنے ۔یونس خان بغیرکوئی رنز بنائے مالنگا کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ ایک موقع ہر پاکستان کے تین کھلاڑی 11رنز کے مجموعی سکو رپر آؤٹ ہوگئے تھے تاہم مصباح الحق اورعمراکمل نے سنبھل کرکھیلتے ہوئے سکورکو 75رنز تک پہنچا دیا۔ مصباح اورعمراکمل کے درمیاں چوتھی وکٹ کے شراکت کے لئے 64قیمتی رنز بنے۔75کے مجموعی سکورپر مصباح 21رنزبناکر آؤٹ ہوئے توعبدالرزاق نے عمراکمل کا ساتھ دینے کی کوشش کی تاہم وہ بھی وکٹ پر زیادہ دیر نہ ٹھہرسکے اور11رنزبناکر آؤ ٹ ہوگئے۔عبدالرزاق کے آؤٹ ہونے کے بعدسرفرازاحمد نے عمراکمل کے ساتھ ملکر سکورمیں 62رنزکا قیمتی اضافہ کیا ۔ عمراکمل فرنینڈوکو مسلسل چوتھا چوکا لگانے کی کوشش میں کیچ تھما بیٹھے ،انھوں نے 102گیندوں پر 91رنزبنائے اوربدقسمتی سے صرف 9رنز کے فرق سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔ شاہد آفریدی کی دھواں دھاربیٹنگ نے ایک بارپھرمیچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کردی تھی ۔ آفریدی 14 گیندوں پر 29رنزبناکر آؤٹ ہوئے تومیچ مکمل طور پر پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا اور پاکستان لاکھ کوششوں کے باوجود بھی 25رنز سے میچ ہار گیا۔ قومی ٹیم اتنی بھی کمزور نہیں ہے کہ بقیہ میچز میں ان غلطیوں کا ازالہ نہ کرسکے، اس ٹیم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو کسی بڑی ٹیم میں ہونی چاہیں۔ توقع ہے کہ دوسرے ون ڈے میں ہونیوالی غلطیاں تیسرے ون ڈے میں نہیں دہرائی جائیں گی۔