سجادحسین:
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین پہلا ون ڈے معرکہ آج کھیلا جارہا ہے۔ ٹی ٹونٹی میچ میں پاکستانی ٹیم نے بنگال ٹائیگرز کو مکمل بے بس کرتے ہوئے یکطرفہ کامیابی اپنے نام کر کے بنگال ٹائیگرز کی اپ سیٹ کی خواہشات کو ملیامیٹ کردیا اور اب ایک روزہ میچ میں بھی ایک بار پھر بنگلہ دیشی ٹیم جیت کے خواب دیکھ رہی ہے تاہم پاکستانی قائد نہ صرف اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کو ایک اور ایک روزہ سیریز میں کلین سوئپ شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹیم اپنی سرزمین پرکبھی آسان حریف نہیں رہی تاہم پاکستانی ٹیم اس وقت اپنے عروج کے دور سے گزر رہی ہے جس سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ بنگلہ دیش کو پاکستان کیخلاف ایک بھی فتح نصیب نہیں ہونگی ، سری لنکا کیخلاف قومی ٹیم کی ٹیسٹ ، ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی سیریزمیں کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ٹیم فتوحات کے ٹریک پر آچکی ہے اور بنگلہ دیش بھی ایک آسان حریف ثابت ہوگی ۔ قومی ٹیم کو بنگلہ دیش پر سپنرز کے لحاظ سے بڑا ایڈوانٹیج حاصل ہے جس کا عملی مظاہرہ پاکستانی سپنرز نے ٹی ٹونٹی میچ میں کیا۔ کم سکور مقابلے میں پاکستانی سپنرز نے بنگلہ دیش کیلئے ہدف کاحصول دشوار بنادیا اور یہی برتری اورکوالٹی پاکستان کو ایک روزہ سیریز بھی کامیابی سے ہمکنار کرائے گی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز 31مارچ 1986ء میں ایشیاء کپ سے ہوا جہاں پاکستان نے عمران خان کی کپتانی میں7وکٹوں سے کامیابی حاصل کی ۔دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 26ون ڈے میچز کھیلے گئے ہیں جن میں پاکستان نے 25میچز میں فتح سمیٹی اور ایک ون ڈے میں بنگلہ دیش کامیاب رہا۔ ورلڈکپ 1999ء میں پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش کیخلاف واحد میچ میں شکست ہوئی اور یہی وہ میچ تھا جس پر پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ کا الزام لگا اور جسٹس قیوم کمیشن نے پاکستان کی بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست پر تحقیقات کی تھیں۔دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 4ون ڈے سیریزکھیلی گئیں اور تمام میں پاکستان نے بنگال ٹائیگرز کو وائٹ واش کیا۔ پہلی ون ڈے سیریز 1998ء میں بنگلہ دیش میں کھیلی گئی اور سیریز صرف ایک میچ پر مشتمل تھی جس میں پاکستان فاتح رہا۔ دوسری ون ڈے سریز 2001ء میں بنگلہ دیشی سرزمین پر کھیلی گئی اس باربھی پاکستان نے 3-0کے واضح مارجن سے کامیابی حاصل کی۔تیسری سیریز پاکستان کی سرزمین پرکھیلی گئی ، 5میچز کی سیریز میں بنگلہ دیش کو وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہونا پڑا جبکہ 2007ء میں پاکستان کی میزبانی میں کھیلی گئی آخری ون ڈے سیریز میں پاکستان 5-0سے سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔آخری بار پاکستان اور بنگلہ دیش ایشیاء کپ 2010ء کے دوران ون ڈے میچ میں مدمقابل آئے جہاں شاہد آفریدی کی سنچری کی بدولت قومی ٹیم 139 رنز سے سرخرو ہوئی۔مشترکہ ون ڈے میچز میں انفرادی کارکردگی کے حوالے سے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو بنگلہ دیشی پلیئرز پر واضح سبقت حاصل ہے۔پاکستان کی جانب محمد یوسف 18میچز میں3سنچریوں اور5نصف سنچریوں کی بدولت 893رنزبناچکے ہیں جبکہ سابق کپتان سلمان بٹ 7میچز میں 2سنچریوں اور4نصف سنچریوں کی مدد سے 577 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر میں دوسرے نمبر پر ہیں۔بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کیخلاف الوک کپالی 9میچز میں 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 253 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔طویل ترین انفرادی سکور میں پاکستان کے سلمان بٹ نمایاں ہیں ، انہوں نے 2008ء میں کراچی ون ڈے میں بنگلہ دیش کیخلاف 136رنز کی اننگ کھیلی جبکہ بنگلہ دیش کیجانب سے سابق کپتان شکیب الحسن 2008ء میں ملتان میں پاکستان کیخلاف 108رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ مشترکہ ون ڈے میچز میں پاکستان کے محمدیوسف کو سب سے زیادہ 3 جبکہ یاسر حمید کو 2سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے شکیب الحسن کو پاکستان کیخلاف 108رنز کی اننگ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ون ڈے میچز میں باؤلنگ کے حوالے سے شاہد آفریدی کو سبقت حاصل ہے ، پاکستانی لیگ سپنر 15میچز میں 24بنگالی بیٹسمینوں کو پویلین بھیجنے میں کامیاب رہے جبکہ عبدالرزاق کو 20شکار کرکے دوسرے نمبر پر ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کیخلاف سب سے کامیاب باؤلرمشرفی مرتضیٰ رہے ، انہوں نے 13میچز میں 14وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ایک میچ میں سب سے بہترین باؤلنگ کرنے کا اعزاز پاکستانی آل راؤنڈر عبدالرزاق کو حاصل ہے ، رزاق نے 2002ء کے ڈھاکہ ون ڈے میں 35رنز کے عوض6 میزبان بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔بنگلہ دیش کی جانب سے نمایاں باؤلر تپیش بیسیا ہیں جنہیں 2003ء میں لاہور میں پاکستان کیخلاف 56رنز کے عوض4وکٹیں ملی۔شعیب ملک اور انضمام الحق پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ کامیاب کپتان رہے، دونوں کی قیادت میں قومی ٹیم نے سات سات ون ڈے میچز میں بنگلہ دیش کیخلاف فتح پائی۔