اعجاز وسیم باکھری:
کرکٹ کی دنیا میں آئے روز نئے اور انوکھے ترین واقعات دیکھنے کے ملتے ہیں جو متنازع ہونے کے باوجود بھی عوامی دلچسپی کا باعث بن جاتے ہیں۔کرکٹ کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا برس آیا ہو کہ جہاں کوئی نیا تنازع وقوع پذیر نہ ہوا ہو۔ماہرین کا خیال ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑے بحرانوں کی اگر فہرست تیار کی جائے توکیری پیکر کو سب پر فوقیت حاصل ہوگی کیونکہ 1986ء میں اس وقت کی کرکٹ کی گورننگ باڈی نے کیری پیکر سیریز کو کھیل کیلئے زہر قاتل قرار دیا تھا اور کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک نے اپنے پلیئرز پر کیری پیکرسیریز میں کھیلنے کی پابندی عائد کردی تھی اور کیری پیکر میں شرکت کرنے والے کرکٹرز کو نیشنل ٹیموں سے دور رکھا گیا۔ لیکن اس کے برعکس کیری پیکر نے نہ صرف کھیل میں انقلاب کی بنیاد رکھی بلکہ کرکٹ کو ایک نئے طرز میں پیش کرکے شائقین کی کھیل کی رنگینی سے نہ صرف لطف اندزو ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ کھلاڑیوں کی مالی پریشانی کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔کیری پیکر تنازع نے ایسی ہوا پکڑی کہ دنیائے کرکٹ کے کئی نامور سٹار کرکٹرز اس میں شمولیت کے جرم میں کئی برس تک اپنے ملک کی نمائندگی سے محروم رہے جن میں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کپتان عمران خان بھی تھے جنہیں کیری پیکر سیریز میں کھیلنے کے جرم میں کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم اس وقت کے پاکستان کے صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کی ذاتی مداخلت پر عمران خان قومی ٹیم میں واپس آنے میں کامیاب ہوئے۔آجکل بھارت کے چندبزنس مین اور بعض ٹاپ ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت ایشیا کے سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک (zee)ٹی وی اور دzee ٹیلی فلم کے مشترکہ تعاون سے کیری پیکر طرز کی سیریز کروانے کا پروگرام ترتیب دیا جاچکا ہے جس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو بھاری مالی معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کئی موجودہ و سابق نامور کرکٹرز سے بھی رابطہ گیا ہے جن میں برائن لارا ، شین وارن اور گلین میک گراتھ نے تو کھیلنے کیلئے ہاں کردی ہے لیکن دیگر جس کھلاڑی کو بھی آفر کی گئی ہے تواس نے چپ سادھ لی ہے کیونکہ تمام کرکٹ بورڈ زنے اپنے کھلاڑیوں کوانڈین لیگ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے ۔
انڈین کرکٹ لیگ جسے ICLکے نام سے پکار ا جارہا ہے میں ٹونٹی ٹونٹی طرز کے میچز کھیلے جائیں گے اور ایونٹ میں ٹوٹل 12ٹیمیں شریک ہونگی اور ہرٹیم کا سکواڈ 15کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا جن میں 6کھلاڑی غیرملکی جبکہ دیگر9بھارتی ہونگے۔انڈین کرکٹ لیگ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے تمام کرکٹ بورڈز سے رابطہ کرکے اس میں شریک ہونے کی آفرکی ہے لیکن تمام بورڈز یکساں موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ جب تک آئی سی سی ICLکو تسلیم نہیں کرتی تب تک انڈین لیگ سے بائیکاٹ کا اعلان جاری رہے گا۔تمام کرکٹ بورڈز کی طرح پی سی بی نے بھی پاکستانی کرکٹرز کو انڈین لیگ کی جانب سے بھاری معاوضے کی پیشکش کے بعد واضح الفاظ میں انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے منع کر دیا ہے ۔پاکستان میں سب سے پہلے جس کھلاڑی کو انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے کی آفرہوئی وہ سابق کپتان انضمام الحق ہیں جو ورلڈکپ کے بعد کرکٹ بورڈ کے ناروا سلوک کا شکار بنتے چلے آرہے ہیں۔انضمام الحق نے ICLکی آفر میں دلچسپی کا اظہار کیا تو کرکٹ بورڈ کے سربراہ نسیم اشرف نے واضع الفاظ میں یہ کہا کہ انضمام سمیت جو بھی پاکستانی کھلاڑی انڈین کرکٹ لیگ میں شریک ہوگا اس کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پاکستانی ٹیم کے دروازے بند ہوجائیں گے۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کرکٹ بورڈ نہ تو انضمام الحق کو سنٹرل کنٹریکٹ دے رہا ہے اور نہ ہی اسے ٹیم میں شامل کیاجارہا ہے لیکن اس کے باوجود انضمام کیلئے انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے کے دروازے بند کرنا تعصب پرستی بدترین مثال ہے ۔گوکہ یہ بات درست ہے کہ انضمام الحق ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں لیکن ان کو سنٹرل کنٹریکٹ لسٹ سے باہر نکالنا کرکٹ بورڈانتہائی غلط فیصلہ ہے۔آسٹریلیا کرکٹ کی دنیا کا عالمی چیمپئن ہے اور آسٹریلوی ٹیم میں محض ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی تعداد چار سے پانچ ہوتی ہے اور وہ دیگر ریگولر کھلاڑیوں کی طرح ٹیسٹ کرکٹرز کو بھی سالانہ کنٹریکٹ دیتے ہیں لیکن انضما م الحق کا جرم یہی ہے کہ وہ ورلڈکپ میں شکست کھانے والی ٹیم کے کپتان تھے جس کی انہیں تاحال سزا دی جاتی ہے۔کرکٹ بورڈ نے گزشتہ کئی ماہ سے کبھی لاہور کبھی کوئٹہ ،کبھی ابیٹ آباد اور آجکل کراچی میں کیمپ لگا رکھا ہے لیکن کسی ایک کیمپ میں بھی انضمام الحق کا بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی وہ اکیلے ہی لاہور کے باغ جناع میں پریکٹس میں مصروف رہتے ہیں ۔پاکستان میں یہ ایک بہت بری روایت بن چکی ہے کہ جہاں ملکی سٹار کو ذلیل و خوار کیا جاتاہے ۔کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ انضمام الحق کو پہلے تو سنٹرل کنٹریکٹ دے اور اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو اسے ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونے کی گارنٹی دی جائے اور اگر ایسا بھی نہیں کیا سکتا تو اسے انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ کوئی معمولی کھلاڑی نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سلوک برتا جارہا ہے وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں ان کے ساتھ جو سلوک برتا جارہا ہے کیایہ ان کی 17سالہ خدمات کایہی سیلہ ہے؟؟۔