UrduPoint Sports

كھیل >> کرکٹ >> مضامین >> پاکستان کرکٹ حقیقی بحران کا شکار ہوگئی

اعجاز وسیم باکھری:
پاکستان کرکٹ اس وقت حقیقی طور پر ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوچکی ہے۔سٹار آل راؤنڈر عبدالرزاق انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرہوگئے ہیں جبکہ محمد یوسف انضمام الحق اور عمران فرحت سمیت عبدالرزاق نے انڈین لیگ سے معاہدہ کرلیا جس کا اعلان گزشتہ روز انڈین لیگ انتظامیہ کے رکن کپیل دیو نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔عبدالرزاق انٹرنیشنل کرکٹ سے کیوں مستعفی ہوئے سبھی لوگ اس بات سے آشنا ہیں کہ قومی سلیکٹرز نے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور ایک تاریخ ساز آل راؤنڈر مزید ذلت سے بچنے کیلئے اپنے عروج کے دنوں میں ہی کھیل سے اوجھل ہوگیا۔دوسری جانب
گزشة کئی دنوں سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف بلاناغہ پریس کانفرنس کرتے چلے آرہے ہیں اس سلسلہ کا آغاز انہوں نے کراچی سے کیا تھا جو براستہ دبئی سے ہوتا ہوا اب نیویارک تک جاپہنچا ہے جہاں چیئرمین صاحب ایک ہی بات کو بار بار دہرا کر میڈیا میں اپنی مارکیٹ ویلیو متاثر کررہے ہیں کہ قومی صحافی اور سابق کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ بورڈ پر تنقید نہ کریں ۔چیئرمین صاحب کی اس بات کا ایک ہی مطلب ہے کہ خدا کیلئے ہم جو کررہے ہیں اس کو غلط نہ کہیں کیونکہ اس سے ان کیلئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں کیونکہ انہوں نے ”اوپر “بھی جواب دینا ہوتا ہے۔نسیم اشرف کی قسمت کا خراب ہونا کہہ سکتے ہیں کہ جب سے انہوں نے جاب سنبھالی ہے تب سے پاکستان کرکٹ شدید ترین بحران کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہے۔چیئرمین صاحب کی بلاناغہ پریس کانفرنس میں بار بار ایک ہی دہرائی جانے والی بات کہ ”سچ“نہ لکھا کریں کی میں ایک بار پھر معذرت کے ساتھ خلاف ورزی کررہا ہوں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ پا کستان کرکٹ ایک مسئلے سے ابھی نہیں نکلتی تو اس سے بڑا مسئلہ سامنے کھڑا ہوتاہے۔بدقسمتی سے اوول تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ ایسی مسائل میں الجھی ہے کہ تاحال اس میں کمی واقع ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔آجکل انڈین کرکٹ لیگ کے چرچے نے کرکٹ شائقین کو ایک نئے تذذب میں مبتلا کر رکھا ہے جس میں روزانہ نئے سے نئے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔دنیائے کرکٹ کے غریب ترین بورڈز میں سے ایک پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو کھلے عام یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ جوبھی کھلاڑی انڈین لیگ میں شمولیت اختیار کریگا اس کی ٹیم سے ہمیشہ کیلئے چھٹی کرد ی جائے گی لیکن بورڈ کی یہ ”بڑھک“اس وقت کارآمدثابت نہ ہوسکی جب اوپنر بیٹسمین عمران فرحت نے پی سی بی سے درخواست کی کہ اس کا سنٹرل کنٹریکٹ ختم کردیا جائے تودوسری جانب سٹار بیٹسمین محمد یوسف اور آل راؤنڈر عبدالرزاق بھی ٹونٹی ورلڈکپ کیلئے قومی ٹیم میں منتخب نہ ہوسکے جس کی پاداش میں محمد یوسف نے تو چپ سادھ لی لیکن عبدالرزاق نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے کرکٹ بورڈ کی زیادتیوں کا واضع ثبوت پیش کیا اور گزشتہ روز کپل دیو نے پریس کانفرنس کرکے یوسف سمیت رزاق، انضمام الحق اور عمران فرحت کے انڈین لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔اب فیصلہ اس بات کا کرنا ہے کہ کھلاڑیوں کی بغاوت کا اصل جرم دار کون ہے؟۔کھلاڑی یا کرکٹ بورڈ ؟کیونکہ ان تمام واقعات سے قومی کرکٹ کا نقصان ہورہا ہے ۔
پاکستان کرکٹ کا ہر انداز نرالہ ہے جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہے ۔کبھی کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں بے شمار کارناموں کے باوجود قومی ٹیم میں آ نے کی حسرت لیے بڑھاپے کو چھولیتاہے ،تو دوسری طرف کسی کو ایک اننگ بھی منظر پر لے آتی ہے اور کوئی واجبی سی کارکردگی کی بدولت برسوں ٹیم کی نمائندگی کا شرف حاصل کرتا رہتا ہے تو کئی محض ایک بار بری کارکردگی کے بعد دوبارہ ٹیم میں آنے کی حسرت ہی کرتا ہے ۔ایک طرف کسی کو بنانے اور سنوارنے کی سر توڑ کوششیں کی جارہی ہوتی ہیں تو دوسری جانب بنے ہوئے کو بگاڑنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے سوچ کا یہی فرق ، فیصلوں کا یہی اتار چڑھاؤ عرصہ دراز سے کھلاڑیوں کو تباہ کررہا ہے جس سے صلاحیتوں کا ضیائع ہورہاہے ۔مگر کوئی اس جانب توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔اب یہ حال ہے کہ مواقع کے منتظر کھلاڑی یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ اس حدتک بدسلوکی کی جارہی ہے۔
اگر کسی کو یہ دیکھنا ہے ہو کہ سلیکشن کے ساتھ مذاق کسے کہتے ہیں ،اگر کوئی یہ جانتا چاہتا ہو کہ نوجوان صلاحیت کو بے حوصلہ کس طرح کیا جاتا ہے یا پھر کسی کو یہ معلوم کرنا ہے کہ کسی کی اہلیت کو ”تسلی کی چوسنی “لگا کر کس طرح خاموش کیا جاتا ہے تو اسے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں یہ تمام مثالیں بکھری پڑی ہیں بلکہ بعض اوقات یہ تمام چیزیں ایک ہی جگہ پر مل جاتی ہیں۔پاکستان میں کوئی ایک ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں میرٹ کی قدر کی جاتی ہو۔چپڑاسی سے لیکر ایم ڈی تک سبھی سفارش پر بھرتی ہوتے ہیں تو ایسے میں کرکٹ بورڈ میں کیسے انصاف ہوسکتا ہے۔گو کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی انتہائی بامہذب اور معتبر لوگوں پر مشتمل ہے لیکن مسلسل ٹیم کی سلیکشن میں ان سے غلطیاں ہورہی ہیں اور اب وہ بھی متنازع کردار بن چکے ہیں جس کی ایک نہیں کئی مثالیں وجود میں آچکی ہیں اور سلیکٹرز کے رویہ کی وجہ سے قومی کرکٹرز قبل ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ بعض ناروا سلوک کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ کئی ایک نے تو شہریت بھی حا صل کرلی ہے جن میں ثقلین مشتاق ،محمد اکرم مکمل طور پر برطانوی شہری بن چکے ہیں جبکہ مشتاق احمد اور اظہر محمود کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے نیشنلٹی کیلئے اپلائی کررکھا ہے۔ایسے میں پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کو ان تمام باتوں کی فکر ہو۔
عبدالرزاق کی ریٹائرمنٹ اور یوسف ، انضمام اور عمران فرحت کی انڈین لیگ میں شمولیت پاکستان کرکٹ کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بورڈ میں بیٹھے ہوئے لوگ انتہائی نااہل ہیں جن کے رویہ سے تنگ آکر قومی کرکٹرزانتہائی سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔
عبدالرزاق اور عمران فرحت شاید اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ پاکستان میں حق کی خاطر آواز بلند کرنے والہ سب سے بڑا مجرم ہوتا ہے تب ہی ان دونوں نے اپنا کیرئیر ختم کرڈالا ہے۔یہ کہانی صرف عمران فرحت اوررزاق تک محدود د نہیں ہے اور نہ ہی یوسف اورانضما م کے ساتھ کوئی انوکھا سلوک کیا گیاکیونکہ پاکستان کرکٹ کا ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ قومی کرکٹرز کو بے عزت کرکے ٹیم سے نکالنا ایک آئین کی حیثیت اختیار کرچکا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف صاحب کہتے ہیں قومی صحافیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقائق تو لکھیں لیکن (سچ )لکھنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے تو میری محترم چیئرمین صاحب سے گزارش ہے کہ وہ ایسی نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہیں کہ ہم صحافی (کڑواسچ)لکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔کیا نسیم اشرف صاحب اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ماضی میں جاوید میانداد، وسیم اکرم ، وقاریونس اور سعیدانور جیسے لیجنڈ کرکٹرز کو بے عزت کرکے ٹیم سے نکالا گیا جو قومی سلیکٹرز کے رویہ کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی کرکٹ چھوڑ گئے۔ اور اب رزاق نے اپنا کیر ئیر ختم کرکے اپنے سیئنر ز کی روایت کو برقرار رکھا۔پاکستان کرکٹ میں یہ کوئی نئی کہانی تو نہیں ہے اور نہ ہی ایسا پہلی بار ہوا کہ محنت اور فارم کے باوجود اہل کھلاڑی کونظر انداز کرکے ارمانوں کا خون کیا گیا یا کسی کا دل توڑا گیایہ چیز اب پاکستان کرکٹ کا دستور بن چکی ہے۔قومی سلیکشن کمیٹی ہمیشہ عجیب و غریب پالیسیاں اپنا کر دنگ کردینے والے فیصلے کرتی ہے کبھی کسی اوسط درجہ کے کھلاڑی کو معمولی سی پرفارمنس پر ٹیم میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور کبھی مکمل فارم اور فٹ کھلاڑی کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ،کیا اسی چیزکا نام ” میرٹ“ ہے؟۔ایک طرف سے بورڈ کہتا ہے کہ قومی کرکٹرز انڈین لیگ سے کھیلنے سے گریز کریں تو دوسری جانب سلیکشن کمیٹی صلاحیت کا خون کررہی ہے اگر ٹیم کا انتخاب میرٹ پر ہوتا تو کیا رزاق اور عمران فرحت یوں پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ نے پر مجبور ہوجاتے ؟کرکٹ بورڈ کے پاس اب بھی وقت ہے کہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرلے ورنہ آنے والے دنوں میں11کھلاڑیوں کی ٹیم کا انتخاب بھی مشکل میں پڑ جائے گا۔

     
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
     

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.