اعجاز وسیم باکھری:
اردوپوائنٹ ڈاٹ کا م کی جانب سے قومی ٹیم کو شاندار کرکٹ کھیلنے پر مبارکباد اور مصباح الحق کی دلیری اور جذبے کوسلام :
یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمیں تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان ٹونٹی 20ورلڈکپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف محض پانچ رنز سے ہار گیا ہے۔پاکستان کی شکست کے بارے میں تبصرہ کرنا اس وقت اس قدر مشکل لگ رہا ہے جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ۔دل کو دکھ ، صدمہ اور غم ورلڈکپ ٹرافی ہارنے کا نہیں ہے بلکہ بھارت سے شکست کا ہے کیونکہ بھارت ہمارا ہمسایہ ضرور ہے لیکن دوست نہیں ۔آج کا دن ہر پاکستانی کیلئے افسردہ دن ہے۔کوئی پاکستان میں ہے یا متحدہ عرب امارات میں ،آپ ایشیا کے کسی حصے میں یا یورپ کسی کونے میں، اگر کوئی پاکستانی امریکہ کی رنگینوں میں گم ہے یا کوئی کینیڈا میں مقیم ہے لیکن سب پاکستانیوں کو ایک ہی بات کا دکھ اور غم ہے کہ بھارت کے ہاتھوں ہارنا نہیں چاہیے تھا۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور وہی قومیں عظیم ہوتی ہیں جو شکست پر صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔اگر ہم ورلڈکپ میں شکست کے بعد گراؤنڈمیں آگ لگا دیں ،سٹرکوں پر نکل کر تماشے کریں یا اپنے سٹارز کی تصویروں کو آگ لگا کراپنے غصے کا اظہار کریں تو میرے خیال میں ہندو اور پاکستانی کوئی فرق نہیں رہے گا ۔ٹھیک ہے مان لیتے ہیں ہمیں شکست ضرور ہوئی ہے لیکن ہم شکست کو برداشت کرنے والے لوگ ہیں اور اس سے شکست کا سبق سیکھ کرمستقبل میں نہ صرف اس ہار کا بدلہ لیں گے بلکہ اپنے کھیل میں مزید بہتری پیدا کریں گے۔یہ بدقسمتی ہی ہے کہ دوسری بار انتہائی سنسنی خیز مقابلہ ہونے کے باوجود ہم فتح کے قریب پہنچ کر شکست کھا گئے لیکن یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ پاکستان کے کھیل کا معیار اعلیٰ پائے کا تھا۔تمام لڑکوں نے خوب محنت کی اور سبھی ایک یونٹ کی طرح متحد ہوکر کھیلے اور ایک ایسی ٹیم کو فائنل سٹیج پر لے آئے جو ایک طویل عرصے سے مشکلات ،پریشانیوں اور تنازعات کا شکار تھی شعیب ملک کی قیادت میں قومی ٹیم نے ناقابل فراموش کھیل کا مظاہر ہ کیا اور ٹیم کو فتح کے ٹریک پر لاکھڑا کیا۔ہمیں بھارت کے خلاف فائنل میں شکست کو پس پشت ڈال کر ٹیم کی کا رکردگی اور اس کی جذبے کی تعریف کرنا چاہیے ۔یہ باتیں جاہل لوگوں کی ہیں کہ کھلاڑیوں نے جان بوجھ کرشکست کھائی یا یہ میچ فکس تھا ایسی باتیں ”نان سینس “لوگ کرتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ پاکستا ن نے فتح کیلئے جان نہیں لڑائی ؟عمرا ن نذیر سے لیکر سہیل تنویر سمیت محمد آصف نے بھی فتح کیلئے جستجو کی یہ بات درست ہے کہ ہمار ا ٹاپ آرڈر بالکل ناکام ہوگیا ،محمد حفیظ ، کامران اکمل ،یونس خان ، شعیب ملک اور شاہدآفریدی قوم کی امیدوں اور توقعات پر پورا نہ اتر سکے لیکن اس کے باوجود قومی ٹیم داد تحسین کی مستحق ہے بالخصوص میں مصباح الحق جیسے مرد آہن کو شاندار کار کردگی پر مبارکباد باد پیش کرتا ہوں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مصباح نے فتح کی امیدوں کو جگا کر… بجھا دیا… لیکن شاید قسمت کو یہی منظور تھا ورنہ 33سالہ قومی بلے باز نے اپنی طرف سے فتح تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بظاہر ہمیں یہ لگتا ہے کہ جس شارٹ پر مصباح کا کیچ ہوا اس کی اس وقت ایسے انداز میں کھیلنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ تومصباح ہی بتا سکتا ہے کہ اس نے کتنے اعتماد اور پریقین طریقے سے یہ شارٹ کھیلی اور ناکامی کی صورت میں اس کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ شاید مصباح کے سوا کوئی دوسرا نہ لگا سکے۔کرکٹ ”رسک”کا کھیل ہے یہاں آپ کو رسک لینا ہی پڑتا ہے اگر ہم اس صورت حال سے 2 اوور پہلے نظر دوڑائیں تو اسی مصباح الحق نے بھارت کے ٹاپ کلاس بولر ہر بجھن سنگھ کو اوور میں تین چھکے لگائے لیکن بات وہیں پر آکر رک جاتی ہے کہ جو کچھ بھی کیا آخر شکست تو ہمیں ہی ہوئی۔ ٹھیک ہے بھارت کے خلاف شکست کا غم ہر پاکستانی کوہوتا ہے اور اس بار تو ورلڈکپ کا فائنل تھا ایسی شکست کو برداشت کرنا بھی بہت بڑے صبر کی بات ہے ۔اوو ل تنازع سے لیکر باب وولمر کی موت تک پاکستان کرکٹ مشکلات اور مسائل کا شکار رہی اور ٹیم کی کارکردگی کا گراف بھی گر چکا تھا لیکن میرے خیال میں ایک ایسی ٹیم جو ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈکپ میں پہلے راؤنڈ میں ائیرلینڈ جیسی کمزور ٹیم سے شکست کھا کر ایونٹ سے باہر ہوگئی اور وہی ٹیم ورلڈچیمپئن آسٹریلیا کو ہرا کر ٹونٹی 20ورلڈکپ کا فائنل کھیلتی ہے اس سے بڑی اچیومنٹ اور کیا ہوسکتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ شکست پر صدمہ ضرور ہوا ،دل اب بھی بوجھل اور اداس ہے لیکن ہمیں اس شکست کو تسلیم کرنا ہوگا اور آنے والے کل کو بہتربنانے کی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ،میری بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے التماس ہے کہ وہ خود کو حوصلہ دیں اور یہ بات اپنے ذہن میں لائیں کہ ہمیں گو کہ بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن ہماری ٹیم نے انتہائی مشکل حالات سے گزر کر ٹونٹی ورلڈکپ کا فائنل کھیلا اور فائنل میں لڑکریہ ثابت کیا کہ نہ تو پاکستانی قوم بے حوصلہ ہے اور نہ ہی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اتنا آسانی سے شکست تسلیم کرتے ہیں۔یہ بدقسمتی ہے کہ مصباح نے” رسکی“شارٹ کھیلی اور کامیاب نہ ہوسکے لیکن اس کی محنت اور جذبے کی داد دینا ہوگی کہ اس نے ایک بار پھرایک ایسے وقت قوم کی امیدوں کا جگایا جب بالکل ٹیم کی کمر دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی اس نے ڈٹ کرمقابلہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ ہار جیت مقدر کی بات ہوتی ہے انسان کو اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ہمیں ہار پر صبر کرنا ہوگا اور خود کو عظیم قوم ثابت کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنی شکست کوسادہ لفظوں میں تسلیم کرلیں نہ کہ ہندوؤں کی طرح سٹرک پر نکل کر اپنے کھلاڑیوں کے خلاف نعرے بازی کریں یا ان کو گالیاں دیں ایسی حرکت غیرمہذب اور جاہل قومیں کرتی ہیں جس کا مظاہر ہ اکثر و بیشتر ہندوستان میں دیکھنے کو ملتا ہے۔